• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاداری محض ایک لفظ نہیں، یہ انسان کے کردار کی وہ خوشبو ہے جو نسلوں تک محسوس کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اقتدار کے ساتھ بدل جاتے ہیں، کچھ موسموں کے ساتھ راستے تبدیل کر لیتے ہیں، مگر کچھ خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی رگوں میں وفاداری خون کی طرح دوڑتی ہے۔ وہ وفاداری چاہے وطن سے ہو، نظریے سے ، اپنی جماعت سے یا اپنی مٹی سےہو، وہ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایسے لوگ وقت کے ہجوم میں بھی الگ پہچانے جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میری ملاقات فیصل آباد کی ایک ایسی ہی شخصیت سے ہوئی جنہیں دیکھ کر محسوس ہوا کہ وفاداری واقعی وراثت میں بھی ملتی ہے۔ یہ شخصیت تھی نعیم دستگیر خان کی۔ان سے میری شناسائی تو کافی عرصے سے تھی۔ جاپان میں مقیم ہمارے قریبی دوست اور پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین اکثر ان کا ذکر بڑے احترام سے کیا کرتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نعیم دستگیر خان صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک نظریاتی کارکن ہیں، ایک ایسے انسان جو تعلق نبھانا جانتے ہیں اور جن کے اندر ملک سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ گزشتہ دنوں ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ رانا عابد حسین نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، وہ حقیقت سے بھی بڑھ کر تھا۔

نعیم دستگیر خان کا تعلق فیصل آباد کے ایک ایسے تاریخی خاندان سے ہے جس کی جڑیں اس شہر کی بنیادوں میں پیوست ہیں۔ ان کے دادا وزیر علی خان ان چند شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے پرانے لائلپور، یعنی آج کے فیصل آباد کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی فیصل آباد کے سرکاری گزٹ میں وزیر علی خان کا نام تاریخ کے اوراق پر محفوظ ہے۔ یہی نہیں بلکہ چک نمبر 224 وزیر علی خان آج بھی ان کے خاندان کی خدمات کی زندہ علامت ہے۔یہ وہ خاندان تھا جہاں بچوں کو صرف تعلیم نہیں دی جاتی تھی بلکہ کردار سکھایا جاتا تھا۔ ادب، احترام، وفاداری اور وطن سے محبت ان کے گھر کی روایت تھی۔ نعیم دستگیر خان بتاتے ہیں کہ ان کے والد صاحب تربیت کے معاملے میں بہت سخت مگر انتہائی محبت کرنے والے انسان تھے۔ وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ یہ سکھاتے تھے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی وفاداری ہوتی ہے۔نعیم دستگیر خان اور انکے چھوٹے بھائی اویس دستگیر خان بچپن سے پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ دونوں کا خواب تھا کہ پاک فوج میں جا کر وطن کی خدمت کریں، سرحدوں کی حفاظت کریں اور ملک کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیں۔ مگر قسمت نے دونوں کے لیے الگ الگ راستے منتخب کیے۔چھوٹے بھائی نے فوجی زندگی کا انتخاب کیا اور آج وہ پاک فوج کے ایک نہایت اہم عہدے کور کمانڈر کراچی پر فائز ہیں۔ دوسری جانب نعیم دستگیر خان نے سیاست کا راستہ چنا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں بھائیوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے شعبے کا احترام کیا۔ نہ کبھی فوج میں موجود بھائی نے ان کی سیاست میں مداخلت کی اور نہ نعیم دستگیر خان نے کبھی فوجی معاملات میں دخل دینے کی کوشش کی۔ دونوں نے اپنی اپنی محنت، صلاحیت اور کردار کے ذریعے مقام حاصل کیا۔ یہ رویہ بھی دراصل اسی تربیت کا نتیجہ تھا جو انہیں اپنے والد سے ملی تھی۔

نعیم دستگیر خان نے سیاست میں قدم رکھا تو ذوالفقار علی بھٹو کے نعرے’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو پھر ساری زندگی اسی جماعت کے ساتھ وفادار رہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ان پر خصوصی شفقت کی۔ آصف علی زرداری نے ہمیشہ ان کی عزت کی اور بلاول بھٹو زرداری آج بھی انہیں ایک بزرگ کارکن کی حیثیت سے احترام دیتے ہیں۔

سیاست میں وفاداری نبھانا آسان نہیں ہوتا۔ یہاں لوگ اقتدار کے ساتھ پارٹیاں بدلتے ہیں، نظریات تبدیل کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ رنگ بھی۔ مگر نعیم دستگیر خان نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے عروج کے زمانے میں انہیں بڑی بڑی پیشکشیں ہوئیںمگر انہوں نے سب کچھ مسترد کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ’’جو قیادت ،ملک اور قوم سے وفادار نہ ہو، اس کے ساتھ چلنا ممکن نہیں۔‘‘وقت نے ان کے اس مؤقف کو غلط ثابت نہیں ہونے دیا۔اسی طرح مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی انہیں دعوتیں ملیں مگر انہوں نے کبھی اپنی جماعت نہیں چھوڑی۔ ان کیلئے بھٹو خاندان سے وفاداری محض سیاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی تھی۔اس وفاداری کی قیمت بھی انہوں نے ادا کی۔ گرفتاریاں برداشت کیں، قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، سیاسی انتقام دیکھا، مگر ہر حال میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کی ایک نصیحت آج بھی ان کی یادوں کا حصہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے پارٹی کے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر شدید احتجاج کیا تو محترمہ نے مسکراتے ہوئے کہا:’’نعیم، جب کوئی آپ کے گھر میں داخل ہو جائے تو اسے مارا نہیں کرتے، بلکہ اپنے گھر سے نکالنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔‘‘یہ جملہ صرف سیاست نہیں بلکہ برداشت، جمہوریت اور شعور کا فلسفہ تھا۔

آصف علی زرداری نے بھی ہمیشہ انہیں تلقین کی کہ سیاست میں مخالفین کے لیے گالی، نفرت اور بدتمیزی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ نعیم دستگیر خان آج بھی اس نصیحت کو اپنی سیاسی زندگی کا اصول سمجھتے ہیں۔

آج ایک بھائی فوجی وردی میں وطن کی سرحدوں کا محافظ ہے اور دوسرا سیاسی میدان میں اپنی جماعت اور اپنے نظریے کے ساتھ کھڑا ہے۔ مگر دونوں کی بنیاد ایک ہی ہے، وطن سے محبت اور وفاداری۔

ایسے لوگ شاید ہر دور میں کم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہوتے ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سیاست صرف اقتدار کا نام نہیں، وفاداری کا نام بھی ہے۔ ملک سے محبت صرف نعروں سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ قربانی، استقامت اور کردار سے ثابت ہوتی ہے۔

تازہ ترین