پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار صرف رپورٹس نہیں، ایک اجتماعی شرمندگی ہیں۔ گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، ہراسانی، کم عمری کی شادی، وراثت سے محرومی اور تعلیم سے دوری، یہ سب وہ زخم ہیں جو ایک عورت کو صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی توڑ دیتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ اکثر اوقات عورت کا سب سے بڑا دشمن کوئی اجنبی نہیں بلکہ وہی سماج ہوتا ہے جو اپنی عزت عورت کے ساتھ نتھی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی جیسے ادارے کی اہمیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔ یہ ادارہ اُن عورتوں کیلئے امید کی کرن ہے جو ظلم، خوف اور محرومی کے اندھیروں میں زندگی گزار رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ہدایات کے تحت پنجاب میں خواتین کے تحفظ اور خودمختاری کیلئے مختلف سطحوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو قانونی معاونت، نفسیاتی مدد، اسکل ڈویلپمنٹ، ورکنگ ویمن ہاسٹلز اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوششیں دراصل ایک ایسے معاشرے کی بنیاد ہیں جہاں عورت صرف زندہ نہ رہے بلکہ عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق بھی حاصل کرے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایک خودمختار عورت پورے خاندان کو مضبوط بناتی ہے، اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہو تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری نسل تعلیم یافتہ بنتی ہے۔ اگر عورت معاشی طور پر مضبوط ہو تو غربت کے خلاف جنگ میں پورا گھر مضبوط ہو جاتا ہے اور اگر عورت محفوظ ہو تو معاشرہ مہذب کہلاتا ہے۔ عیدِ قربان ہمیں حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی یاد دلاتی ہے لیکن اسی راہ میں حضرت ہاجرہؑ کی جدوجہد بھی شامل ہے، ایک ماں کا اپنے بچے کیلئے صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا صرف مذہبی روایت نہیں، عورت کی قوت، استقامت اور قربانی کی ایک بڑی علامت ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، وراثت، تعلیم اور رائے کا حق چودہ سو سال پہلے دے دیا تھا مگر ہمارا سماج آج بھی کئی جگہ عورت کو بنیادی انسانی حقوق دینے سے ہچکچاتا ہے۔ہماری منافقت کا عالم یہ ہے کہ ہم ماں کے قدموں تلے جنت کی بات کرتے ہیں لیکن بیٹی کی تعلیم پر خرچ کرتے ہوئے سو بار سوچتے ہیں۔ ہم عورت کو عزت کہتے ہیں مگر اُسی عورت کی رائے کو گھر میں کوئی اہمیت نہیں دیتے، ہم سوشل میڈیا پر خواتین کے احترام کے بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں مگر دفاتر، بازاروں اور گھروں میں ان کیلئےماحول غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف قانون کا نہیں، سوچ کا ہے کیونکہ قانون خوف پیدا کر سکتا ہے، احترام نہیں۔ احترام گھروں میں پیدا ہوتا ہے، وہ ماں کی تربیت، باپ کے رویّے اور معاشرے کے اجتماعی شعور سے جنم لیتا ہے۔ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی جیسے ادارے کی اصل کامیابی صرف پالیسی بنانا اور قانون کا نفاذ ہی نہیں بلکہ سماجی شعور پیدا کرنا ہے۔ جب ایک مظلوم عورت کو قانونی مدد ملتی ہے، جب کسی لڑکی کو ہنر سکھا کر خودمختار بنایا جاتا ہے، جب کسی ہراساں ہونیوالی خاتون کو انصاف کی امید ملتی ہے تو دراصل ایک نئی سماجی بنیاد رکھی جا رہی ہوتی ہے۔ لیکن یہ جنگ صرف ادارے نہیں جیت سکتے، یہ جنگ معاشرے نے جیتنی ہے، ہر اُس باپ نے جیتنی ہے جو بیٹی کو بیٹے جتنا حق دے، ہر اُس شوہر نے جیتنی ہے جو بیوی کو غلام نہیں ساتھی سمجھے، ہر اُس استاد نے جیتنی ہے جو لڑکیوں کے خوابوں کو کمزور نہ سمجھےاور ہر اُس نوجوان نے جیتنی ہے جو عورت کی عزت کو اپنی مردانگی کا حصہ سمجھے۔
آج عیدِ قربان کے موقع پر شاید ہمیں ایک اور بڑی قربانی دینے کی ضرورت ہوگی کہ ہم اپنی عورت دشمن سوچ کو ذبح کریں، وہ سوچ جو عورت کی آواز دبانا چاہتی ہے، وہ سوچ جو اس کی آزادی سے خوفزدہ ہے، وہ سوچ جو عورت کو انسان نہیں بلکہ ملکیت سمجھتی ہے کیونکہ فرسودہ ذہنیت قربان کرنا ایک انتہائی مشکل امرہے۔ پاکستان کا مستقبل اُس دن روشن ہوگا جب ایک عورت خود کو محفوظ محسوس کرئیگی، جب بیٹی پیدا ہونے پر دل بجھیں گے نہیں، روشن ہوں گے، جب عورت کو ترس نہیں، حق ملے گا اور جب معاشرہ عورت کی خاموشی نہیں بلکہ اس کی صلاحیت کو پہچانے گا۔ شاید یہی اس عید کا اصل پیغام بھی ہے کہ قربانی صرف جانور کی نہیں، قربانی عورت کیساتھ کئے جانیوالے ظلم، تعصب اور عورت دشمن سوچ کی بھی ہونی چاہئے۔