• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنوعی ذہانت اکیسویں صدی کی سب سے طاقتور اور فیصلہ کن ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں معیشتیں ڈیٹا، الگورتھمز اور خود کار نظاموں کے ذریعے تشکیل پا رہی ہیں۔ صنعت، تجارت، تعلیم، صحت اور زراعت سمیت زندگی کا تقریباً ہر شعبہ اس نئی ٹیکنالوجی کے اثرات سے تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کا انقلاب اب ہماری معیشتوں ، صنعتوں اور معاشروں کو انسانی تاریخ میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ انقلاب ایک تاریخی موقع بھی ہے اور ایک سنجیدہ انتباہ بھی: یا تو فوری اور حکمتِ عملی کیساتھ قدم اٹھائیں، یا پھر ایسی دنیا میں پیچھے رہ جائیں جو مشینوں کے ذریعے ازسرِنو تشکیل دی جا رہی ہے۔مصنوعی ذہانت اب عالمی مسابقت کا بنیادی محرک بن چکی ہے۔ وہ ممالک جو مصنوعی ذہانت کے ہارڈویئر ،معلومات اور الگورتھمز پر قابو کرسکتے ہیں، اب بے مثال جغرافیائی سیاسی اور معاشی طاقت حاصل کر رہے ہیں۔ این ویڈیا کی چار کھرب ڈالر کی قدر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قدر کی تخلیق اب مادی اشیاء سے ہٹ کر ذہین حسابی عمل کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ دنیا کی دولت اب ان ممالک کی طرف منتقل ہو رہی ہے جو ذہانت کوچِپس ، ڈیٹا ماڈلز اور خودمختار نظاموں کی شکل میں استعمال اور برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ کہ صرف خام مال یا کم لاگت محنت پر انحصار کرتے ہیں۔پاکستان کیلئے، جہاں ہر سال لاکھوں نوجوان افرادی قوت میں شامل ہوتے ہیں، یہ صورتحال ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔

چیلنج یہ ہے کہ فرسودہ مہارتوں کے باعث بڑے پیمانے پر بے روزگاری یا جزوی روزگار سے بچا جائے۔ تاہم یہ موقع بھی بہت بڑا ہےکہ اپنی نوجوان آبادی اور ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی شعبوں کیساتھ پاکستان مصنوعی ذہانت پر مبنی جدت اور خدمات کا عالمی مرکز بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ تیزی اور حکمتِ عملی کے ساتھ اقدامات کرے۔

یہ تبدیلی کلاس روم سے شروع ہونی چاہئے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت تعلیم میں انقلاب برپا کر رہی ہے۔ امریکہ اور چین جیسے ممالک میں مصنوعی ذہانت اساتذہ اور خودکار جانچ نظام اب عام ہو چکے ہیں۔ یہ آلات اساتذہ کو دہرائے جانے والے کاموںسے آزاد کر دیتے ہیں اور انہیں رہنمائی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اطوار سکھاتے ہیں۔ پاکستان کیلئے، جہاں تعلیمی عدم مساوات ترقی کے راستے میں ایک مستقل رکاوٹ ہے، وہاں مصنوعی ذہانت شہری اور دیہی طلبہ کے درمیان فرق کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ذہین تعلیمی پلیٹ فارمز ، جب سستے ڈیجیٹل آلات اور انٹرنیٹ رابطےکے ساتھ مل جائیں، تو لاکھوں طلبہ کو اعلیٰ معیار کی انفرادی تعلیم فراہم کر سکتے ہیں جنہیں اس وقت قابل اساتذہ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔تاہم یہ تبدیلی خود بخود ممکن نہیں۔ اس کیلئے واضح پالیسی کے اقدامات درکار ہیں۔

صحت کے شعبے میںبھی مصنوعی ذہانت کی انقلابی طاقت سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں اب مصنوعی ذہانت کے نظام ریڈیولوجیکل تصاویر سے سرطان کی تشخیص کر رہے ہیں، بیماریوں کے پھیلاؤ کی پیش گوئی کر رہے ہیں، اور غیر معمولی رفتار سے نئی ادویات تیار کر رہے ہیں۔پاکستان کیلئے، جہاں صحت کا نظام کم وسائل والے اسپتالوں غیر مساوی رسائی اور محدود انسانی وسائل جیسے مسائل سے دوچار ہے، وہاں مصنوعی ذہانت کئی دہائیوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کو عبور کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے موبائل تشخیصی آلات دیہی ڈاکٹروں کو سادہ اسمارٹ فون تصاویر کے ذریعے تپ دق، ملیریا یا ذیابیطس کی تشخیص میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی طرح پیش گوئی پر مبنی تجزیات اسپتالوں کی لاجسٹکس اور ادویات کے ذخائر کو بہتر بنا سکتے ہیں۔نجی شعبہ شاید سب سے تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ کاروبار اب ڈیٹا کے گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کارپوریشنز مرکزی اعصابی نظام کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں جو فیصلہ سازی ، مارکیٹنگ ، صارفین سے رابطے، سپلائی چینزاور مصنوعات کے ڈیزائن کو چلا رہی ہیں۔

مشینی تربیت کو ساما ن سازی میں شامل کرنے سے توانائی کے استعمال اور انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت بڑھتی ہے۔اس مقصد کیلئے پاکستان کومصنوعی ذہانت اسٹارٹ اپس کیلئے ٹیکس مراعات، اطلاقی مصنوعی ذہانت تحقیق کیلئے رقومات، اور تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان شراکت داریوںکو ترجیح دینا ہوگی ۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو مشترکہ طور پر مصنوعی ذہانت ،جدت کے قومی مراکز قائم کرنے چاہئیں، جو صحت، زراعت، توانائی اور مالیات جیسے اہم شعبوں پر توجہ دیں۔

مصنوعی ذہانت کے انقلاب کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستان کو اسے ایک وقتی ٹیکنالوجی رجحان نہیں بلکہ قومی بقا کی ترجیح سمجھنا ہوگا تب ہی ملک کی ترقی ممکن ہو گی ۔ اس کے اقدامات واضح ہیں، اگرچہ ان کے لیے فوری عمل اور ہم آہنگی درکار ہے۔اول، پاکستان کو ایک قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی درکار ہے جو ویژن 2050ءاور علمی معیشت ایجنڈا سے ہم آہنگ ہو۔دوم، انسانی سرمایہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اسکولوں سے لیکر جامعات تک ہر سطح کے نصاب میں ڈیٹا لٹریسی کمپیوشنل تھنکنگ اور مصنوعی ذہانت اخلاقیات کو شامل کرنا ہوگا۔سوم، پاکستان کو اپنا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ،تیز رفتار رابطہ ، ڈیٹا مراکز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جی پی یوز تک رسائی کومضبوط و جدید کرنا ہوگاتاکہ مصنوعی ذہانت تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔چہارم، حکومت کو مالی مراعات ، نئی کاروباری کمپنیوں کے رفتار افزا پروگرامزاور نئے کاروباروں کیلئے رقومات کی سہولت فراہم کر کے مصنوعی ذہانت کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ ایک خصوصی مصنوعی ذہانت جدت فنڈنجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اعلیٰ اثر اندازمنصوبوں جیسے طبِ دقیق ،فصلاتی تجزیات اور قابلِ تجدید توانائی کی بہتری میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے میری کوششوں کے نتیجے میں پاک آسٹرین فاخ ہوخ شُولےاطلاقی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی ایک جامعہ ہری پور ہزارہ میں قائم کی گئی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک بہترین مرکز ابھر رہا ہے۔ اسی نوعیت کا ایک دوسرا مرکز بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی سائنسز ، جامعہ کراچی میں قائم ہے۔اسی طرح میرے زیرِ نگرانی تیسرا منصوبہ سیالکوٹ کے قریب سمبڑیال میں اطلاقی انجینئرنگ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کی ایک نئی جامعہ کا قیام ہے۔ میں نے علمی معیشت ٹاسک فورس کے تحت اپنی سربراہی میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو پاکستان بھر میں مصنوعی ذہانت کے اعلیٰ معیار کے مراکزِ امتیاز قائم کرنے کیلئے چالیس ارب روپے کے ایک بڑے منصوبے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس منصوبے کی امکان پزیری وزارت نے مکمل کر لی ہے اور اب یہ ای سی این ای سی کی منظوری کا منتظر ہے۔

پاکستان کیلئے سبق بالکل واضح ہےکہ تاخیر شکست کے مترادف ہے۔ مصنوعی ذہانت کا انقلاب کسی بھی قوم کے انتظار میں نہیں رکے گا۔ اس میں شامل ہونے کا موقع محدود مگر ابھی کھلا ہے۔

تازہ ترین