• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ ہمیشہ بحث و مباحثے کا موضوع رہی ہے۔ جسٹس کارنیلیس کے علاوہ تقریباً ہر چیف جسٹس کسی نہ کسی تنازع کا حصہ رہا۔ حالیہ برسوں میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی عدالتی سرگرمی (Judicial Activism) خاص طور پر نمایاں رہی۔ اگرچہ یہ میرا بنیادی موضوع نہیں، مگر نجی اسپتالوں کے ان کے دوروں نے ایک ایسے مسئلے کو بے نقاب کیا جو آج بھی شدت سے موجود ہے: علاج کی بے لگام قیمتیں۔

ستمبر 2018ءمیں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس نے انکشاف کیا کہ لاہور کے بعض نجی اسپتال کمروں کا کرایہ 50ہزار روپے یومیہ تک وصول کر رہے تھے، جو کئی فائیو اسٹار ہوٹلوں سے بھی زیادہ تھا۔ ایک عام شہری کیلئےصرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی تباہی کا پیش خیمہ بن چکی ہے، جہاں چند ہفتوں کے علاج کا بل لاکھوں روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس عدالتی مداخلت نے نجی اسپتالوں کی نام نہاد خود احتسابی کا پردہ چاک کر دیا۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHC) نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت نے قیمتوں کی فہرستیں طلب کیں، فارنزک آڈٹ کا حکم دیا اور خلاف ورزیوں پر جرمانے بھی عائد کیے۔

ابتدائی ریلیف کے باوجود یہ اصلاحات مستقل نظام میں تبدیل نہ ہو سکیں۔ بنیادی وجہ نجی شعبے کی مزاحمت اور صحت کے شعبے کی حد سے زیادہ کمرشلائزیشن تھی۔ کئی بڑے اسپتال درحقیقت صحت کی سہولت کے بجائے کمرشل پراپرٹی بزنس کی طرز پر چل رہے ہیں۔ جب ایک ٹیچنگ اسپتال کی ملکیت چند سال میں بار بار تبدیل ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقصد علاج ہے یا صرف منافع؟ ایسے ادارے آخر کس قسم کے ڈاکٹر تیار کریں گے؟ اسی تجارتی ماحول نے ریگولیشن کو کمزور کر دیا۔ بڑے اسپتالوں اور لیبارٹریوں نے بھاری اخراجات کا جواز پیش کر کے قیمتوں کے کنٹرول کی مخالفت کی۔

دوسری جانب 2018ء میں PHC بورڈ کی تحلیل نے فیصلہ سازی کو مفلوج کر دیا اور فارنزک آڈٹ رک گئے۔ پھر 2019ء میں جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدالتی دباؤ کم ہوا تو حکومت کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی اور معاملہ بیوروکریسی کی فائلوں میں دب کر رہ گیا۔

بالآخر مارچ 2023ءمیں ’’پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پرائسنگ آف ہیلتھ کیئر سروسز) ریگولیشنز‘‘ متعارف کروائے گئے، جنکے تحت طبی اخراجات کو کنٹرول کرنے کیلئے باقاعدہ پرائسنگ سسٹم قائم کیا گیا۔ متوقع طور پر بڑے اسپتالوں نے اسے عدالت میں چیلنج کیا، مگر نومبر 2025ءمیں لاہور ہائی کورٹ نے واضح فیصلہ دیا کہ صحت کوئی عام کاروبار نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے، اور PHC کو قیمتیں مقرر کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

اس نئے فریم ورک کے تحت ہر طبی سروس کی اصل لاگت کا تعین لازمی قرار دیا گیا ہے اوراسپتالوں کو محدود منافع کی اجازت دی گئی ۔ ساتھ ہی قیمتوں کی منظوری، عوامی نمائش اور خلاف ورزی پر جرمانے یا اسپتال سیل کرنے جیسے اختیارات بھی ریگولیٹر کو دے دیے گئے۔ تاہم قوانین صرف کاغذوں تک محدود رہیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اور آج بھی کئی نجی اسپتال مریضوں کا خون نچوڑ رہے ہیں جبکہ حکومتیں ان کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہیں۔

ان قوانین کے مؤثر نفاذ کیلئے ضروری ہے کہ اسپتالوں کی شفاف درجہ بندی کی جائے کیونکہ بڑے ٹیچنگ اسپتالوں اور چھوٹے کلینکس کے اخراجات یکساں نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح مریضوں کو داخلے کے وقت علاج کے ممکنہ اخراجات کا تحریری تخمینہ دینا لازمی ہونا چاہیے تاکہ ڈسچارج کے وقت انہیں ’’بلنگ شاک‘‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل بھی قائم ہونا چاہئے جہاں تمام منظور شدہ قیمتیں موجود ہوں تاکہ عوام مختلف اسپتالوں کے نرخوں کا موازنہ کر سکیں۔

اسی طرح ایک تیز رفتار ہیلتھ کیئر ٹریبونل یا میڈیکل محتسب کی ضرورت بھی ہے جو بلوں کے تنازعات کا فوری فیصلہ کر سکے تاکہ بڑے ادارے عدالتوں سے اسٹے آرڈر لے کر معاملات کو برسوں تک نہ لٹکا سکیں۔

2018 ءکی عدالتی مداخلت ایک ضروری جھٹکا تھی، مگر مستقل اصلاح صرف مضبوط ادارہ جاتی نظام سے ہی ممکن ہے۔ اب جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے 2025ءمیں ان قوانین کو آئینی تحفظ دے دیا ہے تو حکومت کے پاس مزید تاخیر کا کوئی جواز نہیں رہا۔ ریگولیشن کا مقصد نجی شعبے کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے عوامی مفاد کے تابع بنانا ہے۔ صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے اور اسے منافع کے بے رحم اصولوںپر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

آخر میں اگر ان اسپتالوں کے وجود کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بہت سے ٹیچنگ اسپتال PMDC کی ملی بھگت سے قوانین کی دھجیاں اڑا کر قائم کیے گئے۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث ایک الگ کالم کی متقاضی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی یہی ہے کہ ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ آج بھی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

تازہ ترین