سورج کی حدت اور گرمی کی شدت آج کل پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سندھ کے ضلع دادو میں موسمیاتی ٹمپریچر51ڈگری کی حد کو بھی پار کر گیا ہے۔ گرمی کی یہ شدت ایک عذاب ناک صورتِ حال ہے جس نے اس خطہ کی حیات کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ شدید گرمی کی یہ لہر اگرچہ بنیادی طور پر عالمی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہے، لہٰذا اس کی روک تھام کیلئے عالمی اقدامات ہی زیادہ تر مؤثر ہوں گے۔ لیکن مقامی حدت اور شدت کو کم کرنے اور حیوانی صحت کے تحفظ کیلئے عارضی اقدامات بھی ضروری ہیں۔موسمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی بالعموم انسانی صحت کیلئے نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ ان ایام میں جب موسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، تب انسانی آبادیوں میں دل ، شوگر، ذہنی ، دمہ اور سانس کی بیماریاں اور متعدی امراض میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران ہیٹ اسٹروک کے واقعات میں بھی تیزی آ جاتی ہے جس کی وجہ سے اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے ۔ اگرچہ گرمی کی شدت میں اضافہ نباتات، جمادات اور حیوانات بالخصوص انسانی صحت پر نہایت برے اثرات ڈال رہے ہیں، لیکن گرمی کی اس شدت کا شکار خواتین، بچے اور عمر رسیدہ افراد زیادہ تر ہیں۔ حیرت انگیز طور پر دنیا بھر میں 65سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح بہت بڑھ گئی ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں ہر سال 70 فی صد تک اس میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ کھلے میدانوں میں ایتھلیٹ اور کھلاڑی، ترقیاتی پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدور، کھیتوں میں فصلوں کی برداشت اور زمینوں کی تیاری کرنے والے کسان، دور دراز سے پانی لانے والی خواتین اور چولہے کا کام کرنے والی گھریلو خواتین گرمی کی شدت سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ گاؤں اور شہروں میں اگرچہ ٹھنڈے پانی اور ایئرکنڈیشنر سہولیات کے لحاظ سے کافی فرق ہوتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اموات کی شرح تقریباً ایک جیسی نکل رہی ہے، کیوں کہ شہروں کی ہوا کی سست روی، انفرا اسٹرکچر کی بھرمار اور پھر اس میں اسٹیل، کنکریٹ اور شیشے کا بھرپور استعمال شہری ٹمپریچر کو کم نہیں ہونے دیتا ا۔ اگرچہ انسانی اور حیوانات اجسام میں گرمی کو خارج کرنے کی اپنی قدرتی اور مصنوعی صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں، لیکن موسم میں زیادہ حدت اور گرمی کی متواتر شدت کی وجہ سے یہ صلاحیتیں بھی جواب دے جاتی ہیں اور یوں جسموں میں داخل ہونے والی گرمی کی لہریں اخراج میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ حیوانی جسم اپنی اندرونی حدت اور بیرونی خارجی گرمی دونوں کے اثرات کو کم نہیں کر پاتی۔ چنانچہ جسموں کا ٹمپریچر بھی بڑھ جاتا ہے جس کے زیراثر انسانی جسموں کے اندر متحرک خون، پانی اور دیگر مائع جات اپنی تیز تر حرکت سے اندرونی جسمانی ٹمپریچر میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں اور یوں وقوع پذیر ہونے والے ہزاروں اندرونی کیمیائی افعال میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں جس کی وجہ سے شدید صدمہ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اموات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے بیرونی گرمی میں اضافہ حیوانی اجسام اور ان کی حیاتیاتی بقا کیلئے نہایت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں کہ بیرونی ٹمپریچر حیوانات کے اندرونی ٹمپریچر سے بڑھ جاتے ہیں، زمین اور متاثرہ خطہ میں نباتات اور حیوانات کی بقا کیلئے نہایت ضرر رساں بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بیرونی شدید ٹمپریچر، زیادہ نمی، غیرمتحرک یا کم رفتار ہوا، آفتابی شعاعوں کی شدید حدت اور پھر اس پر مستزاد کہ زیادہ تہہ دار موٹا لباس اندرونی جسمانی حدت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور یوں حیوانی جسم تپش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسی ناگہانی صورتِ حال میں انسانوں کا اپنا اندرونی سسٹم جو حرارت کو بیرونی اخراج میں مدد دیتا ہے، یعنی زیادہ پسینہ آنا، یا سانس کے ذریعے گرمی کا اخراج، یہ قدرتی صلاحیتیں ایک حد کے بعد جواب دیتی ہیں اور یوں ہیٹ اسٹروک کے امکانات اور واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ گرمی کی شدید لہر اور ٹمپریچر کی زیادتی کی صورت میں افراد اور آبادی کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے تاکہ ضرر رساں اثرات سے بچا جا سکے۔ ایسے ایام اور اوقات میں بیرونِ خانہ یا دفتر کے کاموں سے احتراز کیا جائےیاسایہ دار جگہوں پر کام کو فوقیت دی جائے۔ یاد رہے کہ بعض اوقات گرمی کی شدت بارے ہمارے سطحی اندازے غلط بھی ثابت ہوتے ہیں، کیوں کہ بالعموم بیرونی ٹمپریچر اندازوں سے 10 سے 15 درجہ زیادہ ہوتا ہے۔ کام کے اوقات میں کم از کم 2 سے تین گھنٹے ٹھنڈی سایہ دار جگہوں پر کام کرنا چاہئے۔ کام کے اوقات اور مقامات پر گرمی سے احتراز کیساتھ ساتھ ہمیں گھروں میں بھی خصوصی اہتمام کرنا چاہئے۔ جب بیرونی ٹمپریچر بڑھ جائے تو اندرونی کھڑکیوں کو بند کر دیا جائے اور پردوںسے شعاعوں کو بلاک کر دیا جائے تاکہ وہ اندرونی حدت میں اضافہ نہ کر سکیں۔ شدید گرمی میں لباس کے انتخاب میں بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ بالخصوص دوپہر کی تقریبات سے ممکنہ طور پر گریز کیا جائے اور ایسا لباس زیب تن کیا جائے جو ہلکا ، کھلا ہو اور سوتی آمیزش رکھتا ہو۔ انسانی جسموں کو بار بار نہانے کے علاوہ وقتاً فوقتاً گیلے کپڑوں سے نم آلود رکھا جائے۔ ہر گھنٹہ بعد کم از کم ایک گلاس پانی پینا سودمند ثابت ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، دفاتر اور تقریبات کے دوران 65سال سے زائدالعمر افراد کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے، کیوں کہ اس عمر کے افراد شدید گرمی کے زیراثر دل، گردے اور پھیپھڑوں کے عوارض اور دردوں کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ بچوں کو کھلے مقامات یا گاڑی پارکنگ کے دوران ایک لمحہ کیلئے بھی تنہا نہ چھوڑیں۔ نہ جانے کب ٹمپریچر میں اچانک اضافہ ان کیلئے خطرناک ثابت ہو جائے۔ شدید گرمی میں بچوں کو کپڑے کی ٹوپی، دھوپ کے چشمے اور سورج مخالف رنگین اسکرین کا استعمال کروایا جائے تاکہ ان کے اعضاء براہِ راست متاثر نہ ہو سکیں۔