وزیراعظم ہاؤس میں داخل ہوتے ہی انتظار گاہ کا منظر کسی روایتی سرکاری دفتر کے بجائے ایک متحرک کمانڈ سینٹر کا احساس دلاتا ہے۔ چند وفاقی وزراء اپنی باری کے منتظر ہیں، کچھ ارکانِ قومی اسمبلی موجود ہیں اور ہر شخص کے چہرے پر سنجیدگی نمایاں ہے۔ یہاں وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ چند لمحوں بعد ایک وزیر اندر جاتا ہے اور چند منٹ بعد واپس آ جاتا ہے۔ اگلا وزیر اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ اگلے کمرے میں وزیراعظم شہباز شریف موجود ہیں جہاں ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ان ملاقاتوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ غیر ضروری طوالت سے پاک ہوتی ہیں۔ پانچ، دس یا زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ۔ مسئلہ سنا جاتا ہے، اعداد و شمار دیکھے جاتے ہیں، پالیسی گائیڈ لائن دی جاتی ہے، ہدف مقرر کیا جاتا ہے اور پھر اگلی ملاقات شروع ہو جاتی ہے۔ جو وزیر اپنی وزارت میں نتائج دے رہا ہو، اس کی تعریف کی جاتی ہے، جبکہ مطلوبہ کارکردگی نہ دکھانے والوں سے جواب طلبی بھی ہوتی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں قائم یہ نظام دراصل ایک ہی اصول پر چلتا ہے: نتائج۔شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایک اصطلاح گزشتہ دو دہائیوں سے اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے اور وہ ہے’’شہباز اسپیڈ‘‘یہ صرف رفتار کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل انتظامی فلسفہ ہے۔ ایک ایسا طرزِ حکمرانی جس میں فیصلے صرف کیے نہیں جاتے بلکہ ان کے نتائج بھی طلب کیے جاتے ہیں۔ بہت سے حکمران منصوبوں کا اعلان کرتے ہیں، کئی وعدے کرتے ہیں، مگر بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو ہر منصوبے کے انجام تک اس کا تعاقب کرتے ہیں۔ شہباز شریف کی شناخت یہی رہی ہے کہ وہ فائل بند ہونے کے بعد بھی یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس فیصلے کا نتیجہ کیا نکلا۔آج پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں ہر چند ہفتوں بعد کوئی نہ کوئی نیا بحران جنم لیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ہو، ایران سے متعلق حالات ہوں، عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ ہو، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو یا بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت، ہر واقعہ پاکستان کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک ایسی قیادت درکار ہوتی ہے جو بیک وقت اسلام آباد، ریاض، ابوظہبی، بیجنگ، واشنگٹن اور تہران کی سمت بھی دیکھ رہی ہو اور ساتھ ساتھ اپنے ملک کے عوامی مسائل پر بھی نظر رکھے۔یہی وہ مقام ہے جہاں شہباز اسپیڈ کی ایک اور جہت سامنے آتی ہے۔ ایک طرف داخلی معاملات اور دوسری طرف عالمی سفارت کاری۔ سعودی عرب کیساتھ تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا، متحدہ عرب امارات میں مقیم بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا، چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کو آگے بڑھانا اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں سے متوازن تعلقات برقرار رکھنا ایک مسلسل محنت طلب عمل ہے۔خاص طور پر خلیجی ممالک پاکستان کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صرف متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی پاکستانی کمیونٹی ملکی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کے مسائل، روزگار، سرمایہ کاری اور قانونی معاملات براہ راست پاکستان کے قومی مفاد سے جڑے ہوئے ہیں۔شہباز شریف کی حکمرانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ قومی معاملات کو صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں رکھتے۔ انکی توجہ ایک فرد کے مسئلے سے لیکر پورے ملک کے اجتماعی مسائل تک پھیلی دکھائی دیتی ہے۔ کہیں کسی پاکستانی کی شکایت ہو، کسی اوورسیز پاکستانی کا مسئلہ ہو، کسی علاقے کا ترقیاتی منصوبہ ہو یا کسی صوبے کا انتظامی بحران، ہر معاملہ ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی سوچ کے تحت نوجوان نسل کو قومی ترقی کے عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بھی اس ٹیم کا ایک متحرک اور مؤثر چہرہ بن کر ابھرے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کی وضاحت ہو، قومی بیانیے کا دفاع ہو یا عالمی میڈیا کے سامنے پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنا ہو، انہوں نے ایک فعال اطلاعاتی نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔معاشی میدان میں بھی صورتحال آسان نہیں تھی۔ مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر، قرضوں کا دباؤ اور عالمی معاشی سست روی جیسے مسائل کسی بھی حکومت کیلئے بڑا امتحان ہوتے ہیں۔ لیکن ان حالات میں معیشت کو استحکام کی طرف لے جانے، سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، برآمدات بڑھانے اور کاروباری اعتماد بحال کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوئے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان کی پیشرفت کا نوٹس لیا۔ان تمام مصروفیات کے باوجود شہباز شریف کے بارے میں ایک بات انکے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ غیر معمولی ورک Ethic رکھتے ہیں۔ طویل اوقاتِ کار، مسلسل اجلاس، بار بار جائزہ میٹنگز، فالو اپ اور نتائج کا مطالبہ ان کے طرزِ حکمرانی کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قریبی حلقے اکثر کہتے ہیں کہ ان کیلئے کسی منصوبے کا اعلان نہیں بلکہ اسکا مکمل ہونا اصل کامیابی ہوتی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکلتے ہوئے میرے ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ’شہباز اسپیڈ‘دراصل رفتار سے کہیں بڑھ کر ایک انتظامی سوچ کا نام ہے۔ ایک ایسی سوچ جس میں وقت کی قدر ہے، نتائج کی اہمیت ہے، کارکردگی کی جانچ ہے، جوابدہی ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو آگے بڑھانے کا عزم ہے۔