صدر ٹرمپ نے ایران سے امن معاہدے کے لیے عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ امن اور خطے میں استحکام کیلئے سعودی عرب، قطر ،پاکستان ، ترکی کو اسرائیل سےابراہیمی معاہدہ کرنا ہوگا جبکہ مصر، اُردن، مراکش، سوڈان،قازقستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی ابراہیمی معاہدہ کر چکے ہیں۔ اب جبکہ امریکہ کو مشرق ِوسطیٰ کے تحفظ کی ضمانت پر بدترین ناکامی کا سامنا ہے، یہ مطالبہ غیر مناسب، غیر متوقع اور ناقابلِ عمل ہے۔ صدر ٹرمپ مسئلہ فلسطین، اسرائیل پر بدلتی عالمی رائے عامہ، فلسطینیوں کی نسل کشی، ظلم و جبر کے خلاف نفرت اور ایران کے بڑھتے اثر ورسوخ سے لاعلم لگتے ہیں۔ بعینی آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم پر انہیں زمینی حقائق کا کم ہی ادراک ہے۔ ایران جنگ پر صدر ٹرمپ کو عسکری بریفنگ صرف تین منٹ کی منٹاژفلم( ٹکڑے جوڑ کر) دی جاتی ہے جو صرف امریکی عسکری کامیابیوں پر مرکوز ہوتی ہے ۔ اتنے اہم معاملے پر تین منٹ کے علاوہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم اپنا قیمتی وقت ذاتی کاروباری معاملات اور مفادات کے تحفظ پر صرف کرتے ہیں جیسے تیل اور دیگر اشیاء کے عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ ۔ صدر ٹرمپ کا خاندان پچھلی صدارتی مدت کے برعکس سیاست سے دُور اسٹاک مارکیٹ اور مستقبل کی ہیجنگ (رسک یا خطرہ کم کرنے ) کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہو کر، مالی مفادات سمیٹ رہا ہے۔اسی لئے ہر جمعے کو صلح کا شوشہ چھوڑ کر تیل کی قیمت گرائی اور پیر کو جنگ کی دھمکی سے بڑھائی جاتی ہے۔
ابراہیمی معاہدہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا جس میں امریکہ ثالث اور سہولت کار تھا ۔15 ستمبر 2020 کو اس پر متحدہ عرب امارات اور بحرین نے دستخط کیے جبکہ اکتوبر تک سوڈان اور مراکش بھی اس میں شامل ہو گئے۔ نومبر 2025 میں قازقستان بھی اس معاہدے میں شامل ہو گیا۔ ابراہیمی معاہدے میں فلسطینی ریاست کا ذکر تک نہ ہے اورنہ ہی اس کے خدوخال پر کچھ موجود ہے۔ یہ معاہدہ مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کا روڈ میپ، لائحہ عمل، متوقع وقت یا مذاکراتی عمل کے حوالے سے کوئی ضمانت نہیں دیتا۔نہ ہی اسرائیلی ریاست کے خدوخال، حدود اربع،سرحد، مستقبل کے توسیع پسندانہ اقدامات یا گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بلکہ اس موضوع پر معاہدے میں خاموشی، صیہونی خواہشات کی تکمیل کیلئے کسی بھی اقدام پر نیم رضامندی تصور ہوتی ہے ۔ معاہدہ اسرائیل کے عرب ممالک سے تعلقات معمول پر لانے، باہمی چپقلشیں پسِ پشت ڈال کر، فلسطینی حقوق نظر انداز کر کے، سفارتی ،تجارتی،تکنیکی اور ثقافتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان ہے۔ معاہدے میں ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام ( صرف اسرائیل کی)، علاقائی امن کا قیام،احترامِ انسانیت، خود مختاری، مذہبی آزادی کا حق ، صبرو برداشت اور مذاکراتی عمل (سب جھوٹ)سے معاملات کا حل نکالنے کا اعادہ کرتا ہے۔اس میں تنازعوں اور بنیاد پرستی (صرف مسلمانوں کی) کا سدِباب کرنے کا وعدہ بھی ہے۔ جبکہ فریقین اسرائیل فلسطین تنازع کے منصفانہ، جامع، زمینی حقائق پر پائیدار حل کی کوششوں کی صرف حمایت کا اظہار کرتے ہیں ۔ معاہدے میں دو ریاستی حل کا ذکر ہی نہیں جو 1993 میں" اوسلو اکارڈ" میں پی ایل او نے منظور کیا تھا۔ اس کے مطابق 1967 کی سرحدوں کے مطابق غزہ اور مغربی پٹی میں فلسطینی ریاست کا قیام اور مشرقی یروشلم میں دار الحکومت قائم ہونا تھا۔ بوجوہ اسرائیلی سازشوں، توسیع پسندانہ عزائم اور حماس کا دو ریاستی حل پر متفق نہ ہونے پر معاہدہ عمل پذیر نہ ہو سکا۔ قبل ازیں 1979 میں مصر نے اپنی سرحد کا تعین کر کے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا تو نتیجتاً اسرائیل کو صحرائے سینا مصر کو واپس کرنا پڑا جبکہ اُردن نے بھی 1994 میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم سے بچاؤ کے لیے اپنی مشترکہ سرحد کا تعین کر کے اسے تسلیم کر لیا تھا۔ اسرائیلی قیادت اسے آج فاش غلطی کہتی ہے کیونکہ وہ مظلوم فلسطینیوں کو غزہ اور مغربی پٹی سے نکال کر صحرائے سینا میں خیمہ بستیوں میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ مصر اور اُردن کی جانب اسرائیلی پیش قدمی رُکنے پر صیہونی ریاست کی توجہ اب شام و لبنان پر مرکوز ہو گئی ہے۔ یوں وہ دونوں ریاستوں سمیت غزہ اور مغربی پٹی کو "گریٹر اسرائیل" میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
غزہ میں ڈھائے جانے والے ظلم وستم کے باوجود، 1948 سے" نقبہ" کے جابرانہ اور غیر منصفانہ واقعے سے نابلد اور بے خبر ناقدین کہتے ہیں کہ حماس نے 7 اکتوبر2023 کو اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟ مگرمچھ کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی؟ فلسطینیوں کی زندگی میں بہت مسائل تھے لیکن ایسی صورتحال کا سامنا تو نہیں تھا ؟ بلاوجہ حماس نے بیچارے فلسطینیوں کو مروایا؟ افسوس! وہ نہیں جانتے کہ غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 لاکھ افراداقوامِ متحدہ کے ٹرکوں سے خوراک لینے کیلئے روزانہ قطاروں میں کھڑے ہوتے تھے۔ انہیں زراعت اور پینے کے لیے پانی تک میسر نہ تھا، غزہ میں لوگوں کا جینا دوبھر تھا۔ باحیا فلسطینی خواتین کی آتے جاتے اسرائیلی مرد فوجی جامع تلاشی لیتے، ان کے گھروں سے مرد اٹھا لے جاتے۔ جنہیں سالہا سال جیلوں میں قید رکھا جاتا جہاں وضو، غسل کی سہولت تو درکنار کمروں میں رفع حاجت کرنا پڑتی جس کی مہینوں صفائی کی اجازت نہ ہوتی۔ مار پیٹ، قیدیوں پر کتے چھوڑنے ،بھوک،ذہنی و جسمانی استحصال عام بات تھی۔ ابراہیمی معاہدے میں دیگر ممالک شامل ہونے کی اطلاعات پر فلسطینیوں کو اپنی بے بسی اور بےچارگی کا شدت سے احساس ہوا کہ سب عرب ممالک ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو گئے تو ان کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا،مسجدِ اقصیٰ ڈھا دی جائے گی ۔پس! دیوار سے لگے فلسطینی اپنے پیاروں کی شہادتوں، اسرائیلی بمباری اور اپنے گھروں کے ملیامیٹ ہوجانے پر بھی استقامت، صبر و حوصلے سے حماس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ان کے اس عمل سے واضح ہے کہ وہ اُمّت کی بے حسی سے اس قدر مایوس اور نا اُمید تھے کہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر آتشِ نمرود میں کود پڑے! ایسے وقت میں صرف ایران اور حزب اللہ مظلوم فلسطینیوں کے تحفظ اور دل جوئی کے لئے آگے بڑھے۔ پاکستان کو ادراک ہے کہ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کی زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کیونکہ قبلۂ اوّل کی حفاظت سب مسلمانوں پر واجب ہے۔ حکومتِ پاکستان نے کھل کر ابراہیمی معاہدے کا حصّہ بننے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطلب اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے! دراصل ابراہیمی معاہدہ ایک ڈھونگ ہے جسکا مقصد عرب ممالک پر دباؤ ڈال کر انہیں فلسطین کے منصفانہ حل سے دور کرنا اور صیہونی تسلط میں لاناہے۔ لیکن فلسطینیوں کی لازوال قربانیاں اور ایران کی امریکہ کے خلاف فتح نے واضح کر دیا ہے کہ صیہونی گریٹر اسرائیل اور مسلمانوں کی مکمل تباہی سے کم پر کبھی راضی نہیں ہونگے۔ خدانخواستہ! جیسا کہ علامہ اقبال ؒ نے فرمایا: وہ جو باقی و قائم ہے جسے موت نہیں ہے وہ حق ہی ہے ۔ حق کے ساتھ زندہ رہنا ہی حیات مطلق پا لینا ہے ۔
؎آنکہ حی یا یموت آمد حق است
زیستن با حق حیاتِ مطلق است