زمین پربلاشبہ بعض موسم ایسے اترتے ہیں جن کی آہٹ پہلے سیاست کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ پھر وہی ارتعاش رفتہ رفتہ بازاروں، بندرگاہوں، سمندروں اور انسانی تقدیروں تک پھیل جاتا ہے۔ اقوام کی زندگی میں کچھ سفر، سفری روداد نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھندلکوں میں روشن ہونے والے ایسے مینار بن جاتے ہیں جن کی روشنی آنے والے زمانوں کے راستے متعین کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ بیجنگ بھی شاید انہی ساعتوں میں سے ایک تھا۔
بیجنگ ہمیشہ سے ایک شہر نہیں ایک استعارہ رہا ہے۔ کبھی یہ شہر شاہراہِ ریشم کے قافلوں کی منزل تھا۔ جہاں گھوڑوں کی ٹاپوں کے ساتھ ریشمی پرچم لہراتے تھے اور دور دراز کی تہذیبوں کے سوداگر اپنے خوابوں کی گٹھڑیاں اٹھائے پھرتے تھے۔ آج وہی بیجنگ مصنوعی ذہانت، سپر کمپیوٹرز اور عالمی سرمایہ کاری کی نئی سلطنت کامحورومرکز بن چکا ہے۔ وقت نے صرف فصیلیں نہیں بدلیں اقتدار اورطاقت کی زبان بھی بدل دی ہے۔ اب تلواروں کی جھنکار کم اور معاشی معاہدوں کی سرگوشیاں زیادہ سنائی دیتی ہیں۔دوسری طرف واشنگٹن ہے۔ایک ایسی قوت کا مرکز جس نے گزشتہ صدی میں دنیا کے سیاسی جغرافیے کو اپنی مرضی سے ترتیب دیا۔
تاریخ کا اپناایک اصول ہے کہ طاقت کبھی ساکن نہیں رہتی۔ وہ دریا کی طرح راستے بدلتی رہتی ہے۔ کبھی لندن کے ایوانوں میں بسیرا کرتی ہے، کبھی ماسکو کی فصیلوں پر خیمہ زن ہوتی ہے اور کبھی بحرالکاہل کے کناروں پر اپنے نئے نشانات چھوڑ جاتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت بھی جدید سیاست کا ایک عجیب استعارہ ہے۔ وہ روایتی سفارت کار نہیں بلکہ تجارت وبازار کے آدمی ہیں۔ ان کی گفتگو میں تاجروں کی سی قطعیت، سوداگرانہ بے نیازی اور طاقت کے اظہار کی ایک کھردری چمک محسوس ہوتی ہے۔ انھوں نے اقتدار میں آ کر چین کے خلاف اقتصادی محاذ کھولا، تجارتی محصولات عائد کیے، ٹیکنالوجی کی راہیں مسدود کرنے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی سعی کی کہ امریکہ ابھی بھی عالمی طاقت کا سب سے بلند مینار ہے۔
لیکن چین اب وہ خاموش اور نیم خوابیدہ سرزمین نہیں رہا جسے کبھی مغرب ارزاں محنت کی منڈی سمجھتا تھا۔ اب اس کے پاس دولت بھی ہے، علم بھی، صبراور وہ تہذیبی اعتماد بھی جو ہزاروں برس کی تاریخ کے بطن سے جنم لیتا ہے۔ شی جن پنگ اسی نئے چین کی علامت ہیں۔وہ چین جو خاموشی سے دنیا کے معاشی افق پر اپنی جگہ بنا چکا ہے۔بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور عالمی منڈیوں کے استحکام پر گفتگو ہوئی ۔ اصل داستان ان لفظوں کے درمیان چھپی ہوئی تھی جو کبھی سفارتی اعلامیوں میں پوری طرح بیان نہیں ہوتے۔ امریکہ جانتا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں چین نے فیصلہ کن سبقت حاصل کر لی تو دنیا کا سیاسی توازن بدل جائے گا۔ اسی خوف نے نئی سرد جنگ کو جنم دیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب جنگ کے مورچے کارخانوں، لیبارٹریوں اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں قائم کیے جا رہے ہیں۔
اور پھر مشرقِ وسطیٰ...ریت کے وہ صحرا جہاں صدیوں سے سلطنتوں کے خواب دفن ہوتے آئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بھی اس پورے منظرنامے کے پس منظر میں ایک سلگتی ہوئی آگ کی مانند موجود رہی۔ آبنائے ہرمز کے پانیوں پر پھیلا ہوا اضطراب، اسرائیل اور ایران کے درمیان سایوں کی جنگ اور خلیج کے ساحلوں پر بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت۔یہ سب عالمی سیاست کے اس نئے المیے کا حصہ ہیں چین بخوبی جانتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں آگ بھڑکتی ہے تو صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی بلکہ عالمی تجارت کی نبض بھی بے ترتیب ہو جائے گی۔ اسی لیے بیجنگ آج خاموش سفارت کاری کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ شاید قدیم چینی حکمت ابھی تک اس کی سیاست میں سانس لے رہی ہے۔ وہی حکمت جو جنگ جیتنے سے زیادہ جنگ کو ٹالنے میں یقین رکھتی تھی۔
تائیوان کا مسئلہ بھی اس ملاقات کے افق پر ایک دھندلے مگر خوفناک بادل کی طرح منڈلاتا رہا۔ چین اسے اپنی سرزمین سمجھتا ہے جبکہ امریکہ دفاعی تعاون کے نام پر وہاں اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے۔ بحرالکاہل کے پانیوں میں تیرتے جنگی جہاز گویا آنے والے زمانوں کے نوحے لکھ رہے ہیں۔
بہرحال یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ بیجنگ سے صرف معاہدے لے کر واپس نہیں لوٹے بلکہ وہ ایک ایسی دنیا کی جھلک بھی اپنے ساتھ لائے ہیں جہاں مغرب کی مطلق بالادستی کا سورج مدھم پڑ رہا ہے اور مشرق ایک نئے اعتماد کے ساتھ افق پر ابھر رہا ہے۔ اکیسویں صدی کا محور آہستہ آہستہ بحرِ اوقیانوس سے سرک کر بحرالکاہل کی سمت منتقل ہو رہا ہے اور تاریخ ایک نئے خواب کی تعبیر لکھنے میں مصروف ہے۔