• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جدید دور میں دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے محض فوجی طاقت کافی نہیں اصل طاقت قدرتی وسائل پر کنٹرول ہے۔ امریکہ نے یہ نکتہ پالیا ہے اور صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں جس کو ڈیڑھ سال گزر چکے ہیں ،اسی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہے ہیں مگر اپنا مدعا بیان کرتے وقت وہ کسی قدر تضاد اور ابہام کا شکار نظر آتے ہیں۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے وینزویلا پر کامیاب شب خون مارا جو تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بتایا جاتا ہے امریکہ خود بھی تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے وینزویلا پر قبضے کے بعد ٹرمپ نے دنیا کو دعوت دی کہ جتنا تیل چاہو اب ہم سے لے لو کیونکہ وینزویلا کا تیل بھی اب امریکا کا ہے ۔ تیل کینیڈا میں بھی بہت بھاری مقدار میں پیدا ہوتا ہے کینیڈا رقبے میں امریکہ سے ڈیڑھ لاکھ مربع کلومیٹر بڑا ملک ہے اور امریکہ کا ہمسایہ ہے ۔ ٹرمپ نے اسے دعوت دی کہ وہ امریکہ کی 51ویں ریاست بن جائے مقصد اس کا تیل حاصل کرنا تھا ۔ مگر کینیڈا نے اپنی خود مختاری برقرار رکھی امریکہ کی طرف سے ابھی یہ معاملہ جاری ہے ۔ امریکی صدر نے ڈنمارک سے بھی کہا کہ وہ گرین لینڈ اس کے حوالے کردے اس معاملے پر تلخی بڑھنے لگی تو ٹرمپ نے عارضی طور پر خاموشی اختیار کرلی گرین لینڈ بھی تیل اورمعدنیات سے مالا مال ہے ٹرمپ اس کو آسانی سے نہیں چھوڑیں گے کیوبا بھی ان کی نظر میں ہے اور وہ اسے وارننگ دے چکے ہیں کہ وہ ایران سے فارغ ہوتے ہی اس کی خبر لیں گے یوں کیوبا کا تیل امریکہ کے قبضے میں آسکتا ہے۔

ایران پر حملہ تو ٹرمپ نے نیتن یاہو کی محبت میں کیا کیونکہ ایران اس کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اصل میں امریکہ اور اسرائیل دونوں ظلم و جبر کی پیداوار ہیں۔ سفید فاموں نے تانبے کی رنگت والے اصل امریکی باشندوں کو مار مار کر ختم کیا اور اپنی مملکت کی بنیاد رکھی کالوں کو وہ افریقہ سےغلام بنا کر لائے تھے جن کی محنت سے امریکہ سپر پاور بنا۔ اسی طرح یہودیوں نے اپنے وقت کی سپر پاور برطانیہ کی ملی بھگت سے فلسطین میں اپنی چھوٹی سی ریاست قائم کی اور اب یہ صورتحال ہے کہ فلسطینی اپنے وطن کی بحالی کے لئے دربدر پھر رہے ہیں ظلم اور جبر کی علت کی بدولت ٹرمپ اور نیتن یاہو کا قارورہ مل گیا تو نیل سے فرات تک ’گریٹر اسرائیل ‘میں مشرق وسطیٰ کےتمام مسلمان ملکوں کو شامل کرنے کی سازش برگ و بار لانے لگی ٹرمپ کی آنکھوں کے سامنے ہزاروں فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر کردیئے گئے مگر امریکی صدر کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ لیکن ایران کے افزودہ یورینیم کا جس سے ایٹم بم بنانے کی ایران سختی سے تردید کرتا ہے امریکی صدر دن رات پروپیگنڈہ کرکے دنیا کو خوفزدہ کرتے رہےاور آخر میں اسرائیل کے ساتھ مل کر اس پر حملہ کردیا ان کے اس اقدام سے پوری دنیا توانائی کے بحران میں مبتلا ہوگئی اور اب تک ہے ۔ امریکہ نے اپنی حدودسےآگے بڑھ کر ہزاروں کلومیٹر دور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ملکوں کی’’ حفاظت ‘‘کے لئے اپنے فوجی اڈےقائم کررکھے ہیں جہاں سے ایران کے خلاف میزائل برسائے جارہے تھے، ایران نے جواب میں ان اڈوں پر حملے کئے تو عرب ملک اسکے خلاف کھڑے ہوگئے ۔ مسلمان مسلمان کے دشمن بن گئے یہی اسرائیل کی چال تھی ۔اب جنگ بندی کا اعلان تو ہوچکا ہے مگر جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں عربوں کو دوسو ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ،ہزاروں پروازیں منسوخ ہونےسے ایوی ایشن انڈسٹری مفلوج ہوگئی ، دنیا کو تیل کی سپلائی تعطل کا شکار ہوگئی، پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا تو مہنگائی بھی آسمان پر پہنچ گئی ۔ خود امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی کانگریس کی منظوری کے بغیر حملے اپنی جگہ، مہنگائی کا عذاب بھی امریکیوں کو سہنا پڑا مگر خود پسند ٹرمپ مطمئن ہیں کہ انہوں نے وہ کردکھایا جو اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیا۔

فوجی جنگوںکے بعد معدنیات کی جنگ کا راستہ دنیا نے دیکھ لیا ہے یہ سلسلہ اب رکنے والا نظر نہیں آتا امریکہ نے بھارت سے نایاب معدنیات کے حصول کا معاہدہ کیا ہے جو صنعتوں کے علاوہ جنگی مقاصد کے بھی کام آتی ہیں ۔ اس کے عوض امریکہ نے بھارت کو روس سے تھوڑا سا تیل لینےکی اجازت دیدی ہے جس پر پہلے پابندی عائد کی گئی تھی ۔ مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے تیل خریدنے والے ممالک پہلے ہی امریکی شرائط پر چل رہے ہیں ۔ ایران کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہونے پر ٹرمپ یورپ کے نیٹو ممالک سے سخت ناراض ہیں ۔ خاص طور پر فرانس جرمنی اٹلی اسپین اور برطانیہ سے خفگی کا اظہار کررہے ہیں مگر یہ خفگی ہمیشہ قائم رہنے والی نہیں ہے …مایہ کو مایہ ملے، کرکر لمبے ہاتھ، سرمایہ دار ملکوں کے مفادات ایک جیسے ہیں اور خطرات بھی ایک جیسے اس لئے وہ ایک ہی ہیں۔

اس سارے قصے میں پاکستان کا نام ثالث کے طور پر بڑا معتبر ہے جو ایران اور امریکہ میں سمجھوتہ کروارہا ہے جوہو ہی نہیں رہا۔ پاکستان ریکوڈک میں سونے اور تانبے کا ٹھیکہ دے کر بلوچستان کی ترقی کے لئے چین کے ساتھ امریکہ کو بھی شامل کرچکا ہے ۔ مگر امریکہ وہ اونٹ ہے کہ جس کی گردن کو اندر داخل ہونےکی اجازت ملے تو وہ پورے خیمے پر قبضہ کرلیتا ہے ۔ پالیسی سازوں کو اس معاملے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے کھربوں ڈالر کی قیمتی اور نایاب معدنی دولت سے نوازا ہے اس میں تیل بھی ہے اور گیس بھی ، سونا اور تانبا بھی ، یورینیم ، سنگ مرمر ، کوئلہ ،سیسہ ، زنک ، گرینائٹ جپسم ، فلورائیڈ ، یاقوت ، چونے کا پتھر غرضیکہ یہاں ہر چیز موجود ہے بس زمین سے نکالنےکے وسائل نہیں ۔ امریکا انہیں نکال سکتا ہے مگر نکال کر ہمیں کیوں دے گا ؟ خود کیوں نہیں فائدہ اٹھائےگا ؟ پھر اس کے ہاتھ کون روکے گا ؟ اب دنیا تیل کی جنگ سے آگے بڑھ کر معدنیات کی جنگ تک پہنچ چکی ہے فوجی مداخلتیں اب بھی ہوتی ہیں مگر اگلا دور معاشی مداخلتوں کا بھی ہے ۔ اتفاق سے تمام عالمی ادارے امریکہ کے فرمانبردار ہیں ہمارے لئے تو ایک آئی ایم ایف ہی کافی ہے سو اہل اقتدار ہوشیار کہ اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت 

تازہ ترین