صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں گرین لینڈ، پانامہ کینال ، وینزویلا ، ایران اور کیوبا کو بغیر کسی حکمت عملی کے صرف طاقت کے بل بوتے پر زیر کرنے کی کوشش کی ہے۔جبکہ ٹیرف کی دھمکیوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ اسکے وہ تمام دوست ممالک جنہوں نے 1945ء کے بعد امریکہ کو عالمی بالادستی دلانے میں مدد دی تھی، وہ بھی ایران کے ساتھ جنگ میںامریکہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔وینزویلا کے آپریشن کی کامیابی کے بعداسی طاقت کے نشے میں صدر ٹرمپ نے ایران پر نہ صرف حملہ کر دیا بلکہ اس کی تہذیب تک کو بھی مٹانے کااعلان کر دیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ اب ایران کے ساتھ ساتھ کیوبا پر حملے کی تیاریاں بھی کی جار ہی ہیں کیونکہ جس مضحکہ خیز انداز میں کیوبا کے 95سالہ سابقہ صدررائول کاسترو پر ایک طنزیہ فرد جرم عائد کی گئی ہے تو یہ بعید نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ رائول کاسترو کو بھی اسی طرح سے اغوا کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہوجس طرح وینزویلا کے صدر نکلس مادورو کو اغوا کیا گیاتھا۔
امریکہ کی تاریخ منرو ڈاکٹرائن کی عین روح کے مطابق لاطینی امریکہ کے ممالک میںبلا جواز مداخلتوں سے بھری پڑی ہے۔یاد رہے کہ انیسویں صدی سے ہی امریکہ کی یہ پرانی خواہش رہی ہے کہ وہ میکسیکو کے زیادہ سے زیادہ علاقوں اور کیوبا پر قبضہ کرلے۔اسی وجہ سے 1836ء میں ٹیکساس نے جب میکسیکو سے آزادی کا اعلان کیا تو امریکہ نے 1845ء میں اسے اپنے ساتھ ملا لیاجسے میکسیکو نے ایک جنگی قدم قرار دیا۔2فروری 1848کو میکسیکو اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ایک معاہد ہ ہوا اور یوں امریکہ نے میکسیکو کے 55فیصد حصے پر قبضہ کر لیا جس میں موجودہ کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، نیو میکسیکو، ایری زونا اور کولوراڈو کا زیادہ تر حصہ شامل تھا جبکہ اوکلوہوما ، کینساس اور ویومنگ کے کچھ علاقے بھی امریکہ کے قبضے میں آئے۔ پھر 30دسمبر 1853کو امریکہ نے میکسیکو سے مزید 29ہزار مربع میل کا علاقہ خریدا جس میں موجودہ ایری زونا اور نیو میکسیکو شامل ہیں۔یاد رہے کہ 1492ء میں کولمبس نے کیوبا کے جزیرے پر قدم رکھا اور یوں 1898تک یہ اسپین کی نو آبادی رہا۔اس دوران امریکی صدر جیمس پولک نے کیوبا کو باضابطہ طور پر اسپین سے 100ملین ڈالرز میں خریدنے کی پیشکش کی لیکن اسپین نے اسے مسترد کر دیا۔آخرکار1898ء میں اپنی روایت کے عین مطابق امریکہ نے جنگ کے ذریعے اسپین کو شکست دے کر کیوبا پر قبضہ کر لیا۔ 1952ء میں کیوبن فوجی آمرفلگینسیو بتستا (Fulgencio Batista) نے امریکہ کوہوٹلوں ، کلبوں ، کیسینوں اور قباہ خانوں پر قبضہ کرنے میں مدد دی جس سے کیوبن سماج میں کرپشن اور دوسری برائیاں انتہا کو پہنچ گئیں ۔اس کے جواب میں 1959ء میں فیڈل کاسترو نے انقلاب کے ذریعے کیوبا کی باگ دوڑ سنبھالی اور آتے ہی انڈرورلڈ کی ان تمام املاک کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ان اقدامات کے جواب میں امریکہ نے کیوبا کی معاشی ناکہ بندی شروع کر دی اور تمام لاطینی امریکا کے ممالک کو حکم دیا کہ وہ کیوبا سے تعلقات ختم کر دیں۔اس زمانے میں شکر کیوبا کی سب سے بڑی برآمد تھی لیکن امریکہ نے معاشی ناکہ بندی کر کے کیوبا سے شکر خریدنابھی بند کر دی جس سے اسکی معیشت سکڑنے لگی لیکن جلد ہی سوویت یونین نے کیوبا سے شکر خریدنا شروع کر دی۔ 1989میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد چند سالوں میں ہی کیوبا کی برآمدات 9ارب ڈالر سے کم ہو کر 2ارب ڈالر رہ گئیںاور اسکی معیشت سکڑ کر صرف چالیس فیصد رہ گئی لیکن اس کے باوجود کیوبا نے اپنی بقا کوقائم رکھا ۔ وینزویلا نے کیوبا کو ایک لاکھ بیرل تیل دینا شروع کیا اور یوں کیوبا نے اس تیل کو صاف کر کے برآمدبھی کرنا شروع کر دیا۔اس کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکہ کے ممالک نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد عالمگیریت اور اس سے وابستہ رجحانات سے نبرد آزما ہونے کیلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینا شروع کیا۔یوں لاطینی امریکہ کی برآمدات جو کہ 1990میں صرف 16ارب ڈالرز تھیں ، وہ 1995ء میں 43ارب ڈالرز ہوگئیں جس سے کیوبا کو بھی اپنی معیشت سنبھالنے میں مدد ملی۔لیکن ٹرمپ کے دوسرے دور میں کیوبا کونہ صرف وینزویلا کی تیل کی ترسیل بند ہوئی بلکہ سیاحت سے ہونے والی آمدنی پر بھی قد غنیں لگا د ی گئیں ۔گزشتہ سال میکسیکو نے کیوبا کو تیل فراہم کرنا شروع کیا تھا مگر ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد اس نے بھی کیوبا کو تیل کی فراہمی روک دی ہے۔یاد رہے کہ کیوبا کے انقلاب نے عوام میں بہت پذیرائی حاصل کی ہے جس کی اصل وجہ اسکی صحت اور تعلیم کے میدان میں اہم کامیابیاں ہیں۔ٹرمپ کیوبا میں بھی وینزویلا جیسا ماحول پیداکرنا چاہتا ہے جہاں کی عبوری حکومت امریکہ کی خواہش کے مطابق پیش رفت کر رہی ہے۔
آج امریکہ کی پابندیوں کی وجہ سے کیوبن انقلاب کے اثرات کو بہت حد تک کم کر دیا گیا ہے لیکن پھر بھی ماہرین کا خیال ہے کہ کیوبن عوام ذہین، ضدی ، فیاض اور زندہ دل لوگ ہیں جنہوں نے پچھلے 65سال سے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کیوبا کو امریکہ کی منڈی نہیں بننے دیں گے۔آج امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو ہسپانوی زبان میں پر جوش طریقے سے مضحکہ خیز طو رپر فلوریڈا سے صرف سو میل کے فاصلہ پر واقع ایک چھوٹے سے جزیرے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔آج امریکہ کی وینزویلا اور کیوباکے بارے میں پالیسیوں پر مارکو روبیو کی مہر صاف نظر آتی ہے کیونکہ اسکے والدین نے کیوبن انقلاب سے صرف تین سال پہلے کیوبا سے نکل کر میامی میں آباد ہوئے اور یوں مارکو روبیو نے پہلے دن سے ہی اپنی سیاسی شناخت اینٹی کاسترو کے طور پر منوائی ۔آج وہ پورے لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی حکومتیں ختم کرنے کے علم بردار مانے جاتے ہیں ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وہ اور سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ، صدر ٹرمپ کے ذریعے امریکہ کو ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میںملوث کر کے امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ، امریکی ارب پتیوں اور صہیونی لابی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر اسی طاقت کے بل بوتے پر بغیر کسی حکمت عملی کے اور بغیر تاریخ سے استفادہ حاصل کیے ہوئے اگر امریکہ نے کیوبا پر حملہ کیا تو کیوبن عوام بھی ایران کی طرح ایک قوم بن کر امریکہ کا مقابلہ کرتے ہوئے بے آف پیگس کی یاد تازہ کروا سکتے ہیں۔