برطانیہ میں 12 ماہ کے دوران 16.2 ملین سے زائد جی پی اپوائنمنٹس ضائع ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ این ایچ ایس پر ان اپوائنمنٹس کی سالانہ لاگت 650 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں افراد جی پی اپوائنمنٹ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس کے باعث این ایچ ایس سروسز پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 12 ماہ کے دوران 16.2 ملین سے زائد اپوائنمنٹس چھوٹ گئیں جبکہ ہر غیر استعمال شدہ سلاٹ کی اوسط لاگت تقریباً 40 پاؤنڈ ہے، تخمینے کے مطابق یہ رقم سالانہ تقریباً 2500 کوالیفائیڈ نرسز کی تنخواہوں کے برابر بنتی ہے۔
صرف اکتوبر میں تقریباً 2 ملین چھوٹ جانے والی تقرریوں پر اندازاً 80.1 ملین پاؤنڈ لاگت آئی جس سے صحت کی خدمات کو درپیش مسئلے کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
انگلینڈ اور لندن میں سب سے زیادہ 5.69 فیصد ملاقاتیں ضائع ہوئیں اس کے بعد نارتھ ویسٹ میں 5.26 فیصد اور مڈلینڈز میں 4.79 فیصد اپوائنمنٹس مکمل نہ ہو سکیں۔
5 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ تقریباً دو تہائی افراد نے جی پی اور اسپتال کی اپوائنمنٹس ضائع کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کی حمایت کی۔
خوشحالی انسٹیٹیوٹ میں حکمت عملی کے ڈائریکٹر فریڈ ڈی فوسارڈ کا کہنا ہے کہ عوام این ایچ ایس کی سروسز تک آزادانہ رسائی برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاہم ڈاکٹروں کی تعداد میں کمی کے باعث لوگ صحت کی خدمات کی صورتحال سے مایوس نظر آتے ہیں۔