مانچسٹر: سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے انسانی حقوق کی بنیاد پر دائر کردہ پناہ کے دعوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کے اقدامات کو تیز کر دیا ہے جن کے تحت برطانیہ میں انسانی حقوق کے قوانین کا غلط استعمال کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر ی سے نہیں بچ سکیں گے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق لیبر حکومت کی طرف سے نئی قانون سازی یورپی کنونشن آن ہیومن رائٹس (ای سی ایچ آر) کے آرٹیکل 8 کے تحت خاندانی اور نجی زندگی کے حق کے غلط استعمال کو روکنے کی کوششوں کی جانب پیش قدمی ہوگی۔
ایسے درخواست گزار جنہیں برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہیں یا انہوں نے دھوکے سے حاصل کی کیخلاف کریک ڈاؤن ہوگا۔
ایسا کوئی بھی غیر ملکی شہری جو ہوم آفس کی طرف سے عائد کردہ شرائط کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جائے گا کوآرٹیکل 8 کے دعوے کرنے سے خارج کردیا جائیگا۔
تاہم باور کیا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں پہلے سے موجود ایسے تارکین وطن جنہیں آرٹیکل 8 کے دعوے سے انکار کردیا گیا ہے وہ قانونی حیثیت کے بغیر رہ سکتے ہیں۔