نشے میں دھت ہو کر ہوائی میزبانوں کے ساتھ بدتمیزی اور بدسلوکی کرنے والے مسافروں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ہوائی جہاز کے عملے اور چھٹیاں منانے والے بعض سیاحوں کے درمیان پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے بعد وزراء نے ایسے مسافروں کے سفر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
تجویز کے تحت ایسے افراد کو قومی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور ابتدائی طور پر بلیک لسٹ میں شامل افراد کی معلومات مختلف ایئر لائنز کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
ماضی میں بدسلوکی یا پرتشدد واقعات میں ملوث مسافروں پر ایئر لائنز انفرادی طور پر پابندی عائد کر سکتی ہیں تاہم ڈیٹا پروٹیکشن کے سخت قوانین ایئر لائنز کو مسافروں کا ڈیٹا ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے سے روکتے ہیں، چاہے متعلقہ شخص نے کوئی مجرمانہ جرم ہی کیوں نہ کیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل میں پروازوں کے دوران ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ماہ یوگوو کے ذریعے ہونے والے ایک سروے میں 3 چوتھائی عوام نے اس تجویز کی حمایت کی جبکہ ریان ایئر کے سربراہ مائیکل اولیری کی جانب سے الکوحل پر مشروط پابندی کے مطالبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔