• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

‎ہر جاندار کیلئے صحت ایک ایسی بنیادی نعمت ہے جسکے بغیر نہ تو انفرادی زندگی بہتر انداز میں گزاری جا سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے انسانوں اور دیگر جانداروں کی صحت کا تحفظ حکومتوں کی اولین ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک فلاحی ریاست اپنے شہریوں کو صاف پانی، معیاری خوراک، مناسب طبی سہولیات اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے تاکہ لوگ جسمانی، ذہنی اور معاشرتی طور پر محفوظ اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔صحت کا مفہوم صرف انسان تک محدود نہیں بلکہ اس میں ماحول، آبی حیات، جنگلی و گھریلو جانوروں، پرندوں اور درختوں کی حفاظت بھی شامل ہے، کیونکہ قدرتی نظام کے تمام عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ماحول آلودہ ہو جائے، جنگلات ختم ہونے لگیں یا جانور مختلف بیماریوں کا شکار ہو جائیں تو اس کے منفی اثرات بالآخر انسانی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔‎موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی، صنعتی دھواں، پلاسٹک کا بے جا استعمال اور آبی ذخائر کی آلودگی نہ صرف انسان بلکہ دیگر جانداروں کیلئے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ درخت فضا کو صاف رکھنے، بارش کے نظام کو متوازن بنانے اور مختلف جانداروں کو پناہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت بے حد ضروری ہے۔

صحت کے اس ہمہ گیر تصور کا شدت سے احساس مجھے اپنے ایک حالیہ ذاتی تجربے سے ہوا۔ یورپ کے ترقی یافتہ ملک فرانس میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد جب میں اپنے آبائی شہر چکوال میں مقیم تھا تو طبیعت ناساز ہونے پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال چکوال جانے کا اتفاق ہوا ۔اسپتال کی خوبصورت عمارت، مختلف شعبہ جات اور وہاں موجود انتہائی قابل ڈاکٹروں سے واسطہ پڑا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہاں کے بیشتر ڈاکٹر نہ صرف پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں بلکہ مرض کی تشخیص کے حوالے سے بھی کسی طور اپنے یورپی ہم منصبوں سے کم نہیں۔البتہ ایک فرق ضرور محسوس ہوا۔ ہمارے ہاں اکثر ڈاکٹر علاج کا آغاز نسبتاً زیادہ طاقتور ادویات سے کرتے ہیں جبکہ یورپی ممالک میں ڈاکٹر مرحلہ وار اور نسبتاً نرم علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے باوجود مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کا رویہ اور انکی پیشہ ورانہ مہارت قابلِ تعریف نظر آئی۔اسپتال میں مریضوں کی اس قدر بھرمار تھی کہ راہداریوں سے گزرنا بھی دشوار محسوس ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود ڈسٹرکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مختار سرور نیازی کی انتظامی صلاحیتیں نمایاں دکھائی دیں۔ ہر مریض کا معائنہ اور چیک اپ معمول کے مطابق اور تسلی بخش انداز میں ہوتا نظر آیا۔ تاہم اتنے بڑے اسپتال میں بعض انتظامی خامیاں بھی دکھائی دیں جن کی ذمہ داری مقامی سول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

‎حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسپتالوں میں جدید طبی آلات، ادویات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں تاکہ عوام کو اپنے قریبی علاقوں میں معیاری طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ اسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ قائم ریڑھی بازار نے اسپتال کے ماحول کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ ان ریڑھی بانوں کی بلند آوازیں نہ صرف مریضوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں بلکہ ڈاکٹروں اور عملے کے کام میں بھی خلل ڈالتی ہیں۔ بعض اوقات وارڈز کا ماحول مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا ہے۔‎ڈاکٹر علیم، شعبۂ دندان سازی کی ڈاکٹر خالدہ اور دیگر طبی عملہ نہایت خلوص کے ساتھ مسیحائی کے فرائض انجام دیتے نظر آئے، لیکن ایک اہم مسئلہ اسپتال کے اندر غیر ضروری ہجوم کا بھی ہے۔ مریضوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مرد و خواتین بلا ضرورت راہداریوں اور مختلف شعبوں کے باہر موجود رہتے ہیں، جس سے نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے۔

‎ضرورت اس امر کی ہے کہ اسپتال میں داخلے کیلئے مؤثر انتظام کیا جائے تاکہ مریض کے ساتھ صرف ایک تیماردار کو اندر آنے کی اجازت ہو۔ اس سے نہ صرف ہجوم کم ہوگا بلکہ مریضوں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بہتر ماحول بھی میسر آئے گا۔‎روزانہ کی بنیاد پر سیاسی و انتظامی شخصیات اسپتالوں کے دورے کرتی ہیں، ڈاکٹروں سے ملاقات کرتی ہیں اور مریضوں کا حال احوال بھی دریافت کرتی ہیں، لیکن اسپتال کے مجموعی ماحول اور نظم و ضبط پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ اگر انتظامیہ علاج و معالجے کے معیار کے ساتھ ساتھ اسپتال کے اندرونی ماحول، شور شرابے اور غیر ضروری ہجوم کو بھی کنٹرول کرے تو طبی خدمات کا معیار مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

‎یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ بعض پیشہ ور عناصر اسپتال کے اندر مستقل ڈیرے جمائے ہوئے ہیں اور ایک منظم مافیا کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں پر بھی مؤثر نگرانی اور کنٹرول کی ضرورت ہے تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‎پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے جو اقدامات کیے ہیں، ان کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ تاہم ان سہولیات کے ساتھ ایک پُرسکون، صاف ستھرےاور منظم ماحول کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

‎اسی طرح پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنگلات کیپٹن (ر) طاہر ظفر عباسی نے صوبے بھر میں ماحول کو سازگار بنانے، جنگلات کے تحفظ اور درختوں کے بے دریغ کٹاؤ کی روک تھام کیلئے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ دیانت دار اور باصلاحیت افسران کی تعیناتی اور جنگلات کی نگرانی کیلئے جدید کیمروں کی تنصیب کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

‎ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہروں، شاہراہوں، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کے اطراف میں بھی زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی جائے۔ صاف آب و ہوا، سرسبز ماحول اور قدرتی حسن نہ صرف ذہنی سکون کا باعث بنتے ہیں بلکہ مختلف بیماریوں میں کمی لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تازہ ترین