• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

فائل فوٹو۔
فائل فوٹو۔

بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنا غیرقانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔ 

عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق محض ویزا اوور اسٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کاجواز نہیں، سفری پابندی کے لیے کسی جرم، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کاوجود ضروری ہے۔ 

عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روز گار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں، سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ 

عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے، وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سےشہری ڈی پورٹ ہوا۔

عدالت عالیہ نے کہا وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ پالیسی کے تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا۔ 

فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

قومی خبریں سے مزید