پاکستان اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے صنعتی ترقی یونائیٹڈ نیشنز انڈسٹریل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یونیڈو) نے ویانا انٹرنیشنل سینٹر میں پاکستان کے پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ (پی سی پی) 30-2025 کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی انگیجمنٹ ڈائیلاگ کا مشترکہ انعقاد کیا۔
اس اہم اجلاس میں یونیڈو کے رکن ممالک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے شرکت کی اور پاکستان کی صنعتی ترقی کی ترجیحات کے لیے تعاون اور شراکت داری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔
اجلاس میں یاد دلایا گیا کہ پی سی پی معاہدے پر 16 فروری 2026 کو ویانا میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں دستخط کیے تھے، جس کا مقصد پاکستان میں پائیدار صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
یونیڈو کے ڈائریکٹر جنرل گریڈ مولر نے پی سی پی کو صنعتی ترقی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تکنیکی تعاون کی اہم ترجیحات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان کی صنعتی استعداد بڑھانے اور عالمی معیشت میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ پاکستان کے مستقل نمائندہ برائے یونیڈو اور سفیر پاکستان آسٹریا کامران اختر ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی سی پی پاکستان کے قومی ترقیاتی ایجنڈے سے مکمل ہم آہنگ ہے اور اس میں صاف توانائی، برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی، ویلیو چین کی مضبوطی، گرین انڈسٹری، پائیدار معدنیات، ہنر مندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل گریڈ مولر نے بتایا کہ مختلف تکنیکی سیشنز میں زرعی پراسیسنگ، ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر کی ترقی سمیت متعدد شعبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
تقریب میں پاکستان کی وزارت صنعت و پیداوار کے خصوصی سیکرٹری احسن منگی اور اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے بھی شرکت کی۔
علاوہ ازیں چین، یورپی یونین، جاپان، سعودی عرب اور پورپین انویسٹمنٹ بینک کے نمائندوں نے پی سی پی پروگرام کے لیے اپنے بھرپور تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی کے اہداف کے حصول اور پی سی پی 2030 کو عملی شکل دینے کے لیے حکومتی اداروں، یونیڈو، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ پاکستان میں پائیدار معاشی اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔