• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر پوری کائنات کو ایک عمارت تصور کر لیا جائے تو وہ ایک ہی ستون پر کھڑی ہے اور وہ ہے برداشت کا ستون۔ اگر اس ستون کو گرا دیا جائے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے۔آئیے ذرا اس کی تفصیل میں جاتے ہیں۔ قدرت نے کائنات میں بیک وقت متضاد قوتیں، متضاد عوامل اور متضاد جذبے پیدا کیے ہیں لیکن وہ متضاد ہونے کے باوجود ایک دوسرے کیساتھ باہمی روابط رکھے ہوئے ہیں اور بقائے باہمی کے اصول کے تحت اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں متضاد ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں ہم روزمرہ کے مشاہدے میں دیکھتے ہیں کہ پھولوں کے ساتھ کانٹے ہیں۔ دن کے ساتھ رات ہے۔ آگ کے ساتھ پانی ہے۔ ان سب کی متضاد صفات ہیں لیکن وہ بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے اپنی متضاد صفات کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ نظام شمسی کے بارے میں سورۃ یاسین میں ارشاد باری ہے جس کا ترجمہ یوں ہے کہ’’ سورج کو طاقت نہیں کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات کو اختیار ہے کہ وہ دن سے پہلے آ جائے اور سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں ۔‘‘ گویا وہ اگر کوشش بھی کریں تو وہ کائنات میں موجود سینٹی پیٹل Centripetal اور سینٹری فیوگل Centrifugal طاقتوں یعنی مرکز گریز اور مرکز کشش طاقت کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتے اور یہ طاقتیں انہیں متصادم کرنے کی بجائے ایک دائرے میں حرکت کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔گویا ہر طاقت کا ایک مدار بن جاتا ہے جس سے اس طاقت کی طاقت کا اظہار بھی ہوتا ہے اور تصادم کی نوبت بھی نہیں آتی۔ یوں کائنات صدیوں اور قرنوں سے متضاد طاقتوں کی حامل ہونے کے باوجود قائم و دائم ہے۔ تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سلامتی اور بقا کا راز صرف اور صرف دوسروں کو برداشت کرنے ہی میں مضمر ہے۔ یہ اصول صرف کائنات کی ہر تخلیق میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ انسانی معاشروں اور انسانی تخلیقات میں بھی کار فرما ہے جب اور جہاں برداشت کا یہ عمل کمزور پڑتا یا ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے وہاں صرف اور صرف تباہی اور مسائل کا راج ہوتا ہے۔ عدم برداشت کے رویے جہاں تباہ کن اثرات کے حامل ہوتے ہیں وہاں وہ اس معاشرے میں پائی جانے والی بے چینی، ناقابل حل مسائل اور کم علمی و جہالت کے آئینہ دار بھی ہوتے ہیں۔ خالی برتنوں سے زیادہ آوازیں نکلتی ہیں ۔ناطق لکھنوی کا شعر ہے۔

کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

عقلمند اور اعلیٰ ظرف انسانوں کا دل سمندر کی طرح ہوتا ہے۔ جس میں بہت کچھ سما جاتا ہے چھوٹی موٹی بارش ان میں طغیانی نہیں لا سکتی۔ ان کے چہرے شانت اور ہونٹوں پر یا تو خاموشی ہوتی ہے یا مسکراہٹ۔ خاموشی مسائل حل کرنے کیلئے اور مسکراہٹ مسائل سے بچنے کیلئے۔ ایسے لوگ اور ایسے معاشرے خدائی قانون سے زیادہ ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ایسے معاشرے ہی مثالی معاشرے ہیں۔ ایسے معاشرے ہی بھوک اور خوف سے آزاد معاشرے ہوتے ہیں۔ دنیا میں انسان کے دو سب سے بڑے اور بدترین دشمن ہیں۔ ایک بھوک اور دوسرا خوف۔ سورہ قریش میں فرمانِ الٰہی ہے ’’ اور اس گھر یعنی بیت اللہ کے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھوک میں کھانا اور خوف میں امن دیا ‘‘گویا تمہارے بدترین دشمنوں یعنی بھوک اور خوف سے تمہیں نجات دلائی تو ثابت ہوا کہ دنیا میں خدا کا انعام اور اس کے بندوں سے راضی ہونے کا اظہار بھوک اور خوف سے پاک معاشرے کے ذریعے ہوتا ہے جس معاشرے میں بھوک اور خوف نہ ہو وہاں برداشت کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ وہی معاشرہ انصاف پر مبنی معاشرہ ہوتا ہے وہیں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جہاں دوسروں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ دلیل کے ساتھ اختلاف رائے کا جواب دیا جاتا ہے جہاں قانون خود ہاتھ میں لے کر خود ہی منصف بن کر فیصلے نہیں کیے جاتے اور جہاں ایسا نہیں ہوتا۔ بات بات پر قتل و غارت کی جاتی ہے۔ خود کو عقلِ کل اور دوسرے کوجاہلِ مطلق سمجھا جاتا ہے۔ وہ معاشرہ خدا کی طرف سے انسانوں پر سزا کے طور پر مسلط ہوتا ہے اور اس سب کی تہہ میں بھوک اور خوف جیسے انسانوں کے بدترین دشمن چھپے ہوتے ہیں جو ان کے اندر سے صبر اور برداشت ختم کر دیتے ہیں۔ فساد، انتشار اور خوف میں گھرے ہوئے ایسے معاشروں میں کبھی نیکی کے نام پر، کبھی خدا کے نام پر، کبھی روایات کے نام پر صرف خوف اور بھوک کو ہی بڑھاوا دیا جاتا ہے۔ خوف اور بھوک کے یہ معاشرے انسانوں کو بے چینی اور انکار کی آگ میں جلا کر راکھ کر دیتے ہیں اور ایک دن اپنے تمام تر دکھوں اور مسائل کے ساتھ ایسے معاشرے خود بھی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی بے چینی، انارکی، غصہ اور عدم برداشت ہمیں ٹریفک کے نظام سے لے کر ہرنظام میں نظر آتی ہے ۔اگر ہم نے اب بھی بھوک اور خوف کے عفریت پر قابو نہ پایا تو انسانی معاشرے کا بنیادی ستون یعنی برداشت جو پہلے ہی شکستہ ہو چکا ہے ٹوٹ جائیگا اور اسکے نتیجے میں جو خوفناک تباہی آئیگی اس کی جھلکیاں ہم روزانہ اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں۔

تازہ ترین