• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزمرہ کی بعض عام عادتیں سماعت کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہیں: تحقیق

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ زندگی کی بعض عام عادتیں سماعت کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ایک بار کان کے اندر موجود حساس خلیات متاثر ہو جائیں تو عموماً دوبارہ بحال نہیں ہوتے، جس کے باعث سماعت کا نقصان مستقل ہو سکتا ہے۔

امریکا کے کلیولینڈ کلینک سے وابستہ آڈیولوجسٹ ڈاکٹر ویلیری پاولووچ رف کے مطابق کم عمری ہی سے سماعت کا تحفظ ضروری ہے، کیونکہ کان کے اندر موجود کوکلیا (Cochlea) کے نہایت باریک حساس خلیات طویل عرصے تک تیز آواز کے سامنے رہنے سے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سماعت کے مسائل اب صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہے، بلکہ نوجوانوں، نوعمروں اور یہاں تک کہ 10 سال سے کم عمر بچوں میں بھی سماعت متاثر ہونے کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ کوکلیا میں موجود ہزاروں باریک خلیات آواز کی لہروں کو دماغ تک پہنچانے کے لیے برقی سگنلز میں تبدیل کرتے ہیں، تاہم تیز یا مسلسل شور ان خلیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سماعت متاثر ہونے سے صرف سننے کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ سماجی روابط، بات چیت، معیارِ زندگی اور ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اگرچہ تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ سماعت کا نقصان براہِ راست ڈیمینشیا کا سبب بنتا ہے، تاہم دونوں کے درمیان مضبوط تعلق ضرور پایا گیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ میوزک کنسرٹس، اسپورٹس ایونٹس اور ہیڈ فونز کے ذریعے زیادہ آواز میں موسیقی سننا سماعت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 10 سے 15 منٹ تک انتہائی بلند آواز سننا بھی کان کے اندر موجود حساس خلیات کو متاثر کرنا شروع کر سکتا ہے۔

ماہرین نے عام فوم ایئر پلگز کے بجائے ہائی فِڈیلٹی ایئر پلگز استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے، جو آواز کی شدت کم کرتے ہیں لیکن آواز کا معیار برقرار رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہیڈ فون استعمال کرتے وقت آواز اتنی رکھنی چاہیے کہ قریب موجود شخص کی بات باآسانی سنائی دے، اگر کسی کو آپ سے بات کرنے کے لیے زور سے بولنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ آواز بہت زیادہ ہے۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 35 سال سے کم عمر تقریباً 1.35 ارب افراد ذاتی آڈیو ڈیوائسز کے غیر محفوظ استعمال کے باعث ابتدائی سماعتی نقصان کے خطرے سے دو چار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ گھاس کاٹنے والی مشین، لیف بلوئر، پاور ڈرل، الیکٹرک آری اور دیگر شور پیدا کرنے والی مشینوں کا بار بار استعمال بھی سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایسی مشینیں استعمال کرتے وقت ایئر پلگز یا شور کم کرنے والے حفاظتی ہیڈ فون پہننے کی سفارش کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے کھڑکیاں کھلی رکھنے سے ہوا کا شور بھی کانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ شور کی وجہ سے لوگ گاڑی کے میوزک سسٹم کی آواز مزید بلند کر دیتے ہیں، جس سے سماعت پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

طویل سفر کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو بھی مناسب سماعتی تحفظ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر وقت ایئر پلگز یا روئی کی کلیاں استعمال کرنا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے کان کا میل اندر کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کان بند ہونا، خارش، عارضی سماعتی کمی اور انفیکشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کان کا میل نکالنے کے لیے گھریلو طریقوں کے بجائے طبی ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اگر شور والی جگہ پر گفتگو سمجھنے میں دشواری ہو یا تیز آواز کے بعد کانوں میں مسلسل سیٹی بجنے (Tinnitus) کی شکایت رہے تو فوری طور پر سماعت کا معائنہ کرانا چاہیے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ سماعت کا نقصان کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، اس لیے بر وقت تشخیص اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ 

ماہرین کے مطابق تیز شور سے بچنا، ہیڈ فون معتدل آواز پر استعمال کرنا، شور والی جگہوں پر حفاظتی سامان پہننا اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی مشورہ لینا سماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

خاص رپورٹ سے مزید