• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل امیر ہونے سے زیادہ امیر لگنا ضروری ہوگیاہے لہٰذاایسے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جن سے امارت ٹپکتی ہو۔پہلی فرصت میں موٹر سائیکل کو گاڑی کہنا شروع کر دیں اورموٹرسائیکل کو‘بائیک’کالقب دے دیں۔زنگربرگر ، سینڈوچ برگر وغیرہ پرانا لفظ ہوچکا ہے اس کی جگہ ٹاور برگرکہنے سے اچھا تاثر پڑتاہے۔رکشہ کہنے سے بھی لوئر مڈل کلاس جھلکتی ہے اِس کی جگہ ‘آٹو’ کہا کریں۔سلادمنگواناہوتوسیلڈ کہنے سے امپریشن اچھا پڑتاہے۔موبائل میں کال کرنےکیلئے بیلنس نہ ہو تو ہمیشہ یہی کہیں کہ نیٹ ورک نہیں آرہا۔نہانا،غسل کرناا ورتاری لگاناوغیرہ کے الفاظ سے ازلی غربت جھلکتی ہے۔آئندہ سے کہنا ہے ‘میں ذرا شاور لے لوں’۔کوئی چیز اچھی لگے تو واہ کی بجائے ‘واؤ’ کا استعمال کریں لیکن اکٹھے تین دفعہ کہنے سے گریزکریں۔جولوگ چوٹ لگنے پر ‘اوئی’ کہتے ہیں وہ کبھی لفظی امیر نہیں بن سکتے لہٰذا آپ دن رات پریکٹس کریں اور بار بار اپنے آپ کو چوٹ لگوائیں، جونہی درد ہو آپ نے ‘آؤچ’ کہنا ہے۔لاہورکانام لینا ہوتوانگریزی منہ بنا کر‘لوہور’ کہیں اورکوشش کریں کہ ‘ر’ کی آواز نہ نکلنے پائے۔ دیکھئے گاایک دم ویلیو بڑھ جائے گی۔ چوکوں چوراہوں سے بے شک ‘لچھے’ خریدکرکھائیں لیکن خبردار‘کاٹن کینڈی’ کہنا ہے۔کوئی پوچھے کہ آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے تو براہ کرم دنبہ کڑاہی یا سری پائے وغیرہ کہنے کی ضرورت نہیں، بےپروائی سے کہیں‘مجھے پرانز بہت پسندہیں’۔ تاہم اس کے بعد اگر میزبان واقعی پرانزآپ کی خدمت میں پیش کردے تو اسے کسی بہانے تھوڑی دیر کیلئے باہر بھیجیں اورجب وہ واپس آئے تو پتا چلنا چاہیے کہ آپ نے اپنے حصے کے پرانز ختم بھی کرلیے ہیں۔اس مقصدکیلئے پینٹ کی جیب زیادہ مناسب ہے۔گنے کاجوس، مالٹے کا جوس، کانجی اور لسی وغیرہ آپ کو شدید ناپسند ہونے چاہئیں کیونکہ آپ کی پسند صرف ‘ایوکاڈو جوس’ ہے اور اگریہ نہ ملے تو یاد کرلیں کہ آپ پیناکلاڈا پسندفرماتے ہیں۔اگرآپ یہ چند چیزیں یاد کرلیں تو خاکسار کا دعویٰ ہے کہ کوئی مائی کا لعل آپ کو غریب نہیں کہہ سکتالیکن اتنادھیان ضروررکھناہے کہ ٹوپیس پہن کرکسی شادی میں جائیں تو نیچے پشاوری چپل نہیں پہننی اور شادی میں آئے بچوں سے یہ نہیںپوچھنا کہ پاپڑ کہاں سے لیے ہیں۔

٭ ٭ ٭

میرے ایک دوست ہیں۔ صبح دوپہر شام ہر ایک کے کان میں پھونکتے رہتے ہیں کہ میں بہت ٹیلنٹڈ ہوں، ناسا والوں نے مجھے سی ای او کی جاب آفر کی ہے۔ بل گیٹس مجھے منہ مانگے پیسوں پر ہائر کرنا چاہتاہے اورسی آئی اے میری خدمات سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ان کے منہ سے ہر وقت ان کا خود ساختہ سی وی جاری رہتاہے اس کے باوجود آج تک کسی ڈھنگ کی سیٹ پر نوکری نہیں کر پائے۔ایسے لوگ بھرے پڑے ہیں۔ یہ لاؤڈ اسپیکرہاتھ میں پکڑے اپنی عظمت کے گیت گاتے پھرتے ہیں لیکن کوئی اِن کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔یہ کسی بھی بڑے واقعے پر فوراً اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہتے ہیں‘میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا’۔ حالانکہ نہ انہیں پہلے کسی بات کا پتا ہوتا ہے نہ بعد میں۔ان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ دنیا انہیں ایک جینئس مانے، اہم ملکی و غیر ملکی امور پر ان سے مشورہ کیا جائے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔یہ کبھی جہاز میں، کبھی لینڈکروزرمیں ، کبھی مرسڈیز میں اور کبھی ویگوڈالے میں بیٹھ کر اپنی تصویر بنواتے ہیں لیکن ذاتی طورپر اُس موٹر سائیکل کے مالک ہوتے ہیں جسے گھر تک لے جاتے ہوئے دو دفعہ سڑک کنارے اوندھا کرنا پڑتاہے۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ہر اہم شخصیت کے ساتھ بھاگ کر تصویر بنواتے ہیں اور پھر نیچے کیپشن لکھتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ بہت اچھی ڈسکشن ہوئی حالانکہ اِس ایک لمحے کی تصویر میں بھی اِن کی نظر کیمرے کی طرف ہوتی ہے اور جسکے ساتھ تصویر بنوائی ہوتی ہے وہ دوسری طرف دیکھ رہا ہوتاہے۔یہ دُنیا ٹیلنٹ کی خریدار ہے۔اگر آپ کے پاس کوئی ایسا ٹیلنٹ ہے جو کسی کیلئے فائدہ مند ہوسکتا ہے تو آپ اندھیری گلی میں بھی بیٹھے ہوں تو لوگ آپ کو کندھوں پر اٹھا کر لے جائیں گے۔لیکن اگر صرف بھونپو ہیں تو چیختے رہیں، چلاتے رہیں، میں میں کرتے رہیں۔کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگنی۔

٭ ٭ ٭

کل ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں جانا ہوا۔مجھے وہاں ایک صاحب سے ملنا تھا۔ وہاں ایک کھلے میدان میں بڑے دنوں بعد ماسٹر صاحب کو طالبعلموں پرغصہ کرتے اور طالبعلموں کوسہمے ہوئے دیکھا تو بے اختیار اپنا دور یاد آگیا۔ میں نے بچوں سے کہا کہ یاد رکھنا یہ جو ماسٹر صاحب آپ پر غصہ ہورہے ہیں انہیں جب آپ بڑے ہوکر ملیں گے تو آپ کو بہت پیار آئے گا۔مجھے یاد ہے ہمارا ایک بونگاکلاس فیلونیدو ہوا کرتا تھا جو ماسٹر صاحب کودیکھتے ہی تھرتھرکانپنے لگتا تھا اور اس کے سارے الفاظ الٹ پلٹ ہوجایاکرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس نے بہت ترقی کی ،ڈاکٹر بن گیا اور اب کینیڈا میں ہوتاہے۔ پھینٹی کارواج تھالہٰذاہرماسٹر کے پاس ڈنڈا ہوتاتھا جسے وہ کئی دفعہ عادتاً بھی کسی کو ماردیا کرتے تھے خواہ کوئی قصور ہونہ ہو۔ماسٹرصاحب کو سختی سے تاکید تھی کہ امتحان قریب ہیں لہٰذا کوئی بھی چھٹی نہ کرے۔ اس سخت تنبیہ کے باوجود نیدو نے اگلے ہفتے اکٹھی تین چھٹیاں کرلیں۔اسکول آیا تو ماسٹر صاحب نے غضبناک انداز میں پوچھا کہ ‘تین دن کہاں تھے؟’۔ نیدو پرکپکپی طاری ہوگئی اور کانپتے ہوئے بولا‘سرجی مجھے بخار ہوگیا تھا۔’ماسٹرصاحب بھی ایک نمبر کے تفتیشی تھے ۔آرام سے میز پرٹانگیں رکھیں، نیدو کو قریب بلایا اور گھورکر بولے‘کتنا بخار ہوا تھا’۔ یہ ایک مشکل سوال تھا کیونکہ نیدو کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ بخار کتنا ہوتاہے۔اس نے کچھ دیر سرکھجایا پھربے اختیار بولا‘سرجی 206بخار تھا’۔ماسٹر صاحب ایک دم کرسی سے اچھلے ، پھر اُن کی دھاڑ سے پورا کمرہ گونج اٹھا۔غرا کر بولے‘ بخار تو 103تک ہوتاہے’۔ نیدو کی ہوائیاں اُڑگئیں ،بوکھلا کر بولا‘سرجی پچھلا بخار بھی ساتھ لگ کر آگیا تھا……’’

تازہ ترین