دو ہی تو ہمارے قدیمی شوق ہیں:اچھا کھانا اور اچھی تعمیرات، جہاں ہم ذاتی کمائیوں کا زیادہ تر حصہ نان و نفقہ اور بازاری خوراکوں پر خرچ کر دیتے ہیں، وہاں ہم اپنی زندگی بھر کی بچتوں کو پلاٹوں، گھروں کی خریداریوں اور تعمیرات پر ضیاع کی حد تک صرف کر دیتے ہیں۔ صوبائی، قومی سطح پر ہماری ترقیات کا زیادہ حصہ سڑکوں اور بڑی شاہراہوں کی تعمیرات کی نذر ہو جاتا ہے۔ یوں ہماری ناتواں معیشت دیگر ضروری شعبہ جات سے قدرے رُوگردانی کرتی ہے۔ پچھلے پچاس سال کے ترقیاتی اخراجات کا جائزہ لیں تو ہمیں گلیوں، سڑکوں اور شاہرات کی تعمیر کے شعبے میں ہنگامہ خیز سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔ اس قومی رحجان کی بڑی وجہ اگرچہ راستوں کی قدیمی ضروریات ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سڑکوں، شاہرات کی تعمیر اور استعمال کے دوران ریکارڈ تعداد میں مفاد حاصل کرنیوالوں اور اسٹیک ہولڈرز کی تخلیق ہے۔ سڑکوں، شاہرات کی تعمیرات نے ملکی سطح پر ایک بڑے مالیاتی اور گروہی کلچر گروپ کو فروغ دیا ہے جس میں سڑکوں کی تعمیرات کا فیصلہ کرنیوالے، پلاننگ کرنیوالے، فنڈز واگزار کرنیوالے، تعمیرات کرنیوالے ٹھیکیدار و تکنیکی اسٹاف، قانون ساز اداروں کے ممبران، سرکاری غیرسرکاری اہلکار، کمرشلائزیشن کے شوقین کاروباری طبقات، دیہی، شہری، عوام کی کثیر تعداد شامل ہے۔ قومی سطح پر اسٹیک ہولڈرز کا ایک عظیم جم غفیر شاہرات کی تعمیرات اور استعمال کے دوران فیوض و برکات سمیٹتا ہے۔ شاید یہ قومی رحجان اور سڑکوں کا کلچر صرف ہمارے پیارے ملک پاکستان کی پہچان بن گیا ہے۔ شاید اس رحجان کی وجہ سے ہم نے اپنی قومی ترجیحات میں ناروا روایات کو جنم دیا ہے اور یوں دیگر زیادہ ضروری شعبہ جات ازقسم تعلیم، صحت اور ماحولیات کے شعبہ جات نظرانداز ہو رہے ہیں۔ منفعت بخش اور مہنگی تعمیرات کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے دبائو کی وجہ سے ہم نے سڑکوں تصریحات، پرانی سڑکوں کی مرمت اور اکانومی کے اقدامات سے صرف نظر شروع کر دیا ہے جسکا نتیجہ ہے کہ تاریخی طور پر ہماری ترجیحات میں نئی سڑکوں کی تعمیر یا کشادگی شامل رہتی ہے۔ ہم نے انکی سالانہ مرمتوں کو نظرانداز کر دیا ہے۔ نتیجتاً تعمیر کردہ سڑکوں کی فی کلومیٹر لاگت پڑوسی ملک بھارت سے تقریباً دوگنا ہو چکی ہے۔ ہم اس لاگت کو دانش مندانہ اور تکنیکی اقدامات سے کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ جس سے نہ صرف بجٹ تخمینوں میں ملکی سطح پر کھربوں روپے کی بچت ممکن ہے بلکہ اسکی تعمیرات سے ’’ناجائز منافع خوروں‘‘ کی تعداد میں بھاری کمی ممکن ہے۔ نئی سڑکوں کی تعمیرات یا توسیع کے دوران محض سرکاری کنسلٹنٹ کی تعیناتی نے کئی خرابیوں کو جنم دیا ہے۔ اوپن اور ٹیکنیکل مسابقت کے بعد پیشہ ور قابل کنسلٹنٹ کی تعیناتی اب وقت کی شدید قانونی ضرورت ہے۔ صوبوں میں سڑکوں کے سروے تخمینہ جات اور ابتدائی ڈیزائن سرکاری فیلڈاسٹاف کی مدد سے کروانے کا رحجان تقویت پا چکا ہے۔ جبکہ یہ کام اگر پرائیویٹ کنسلٹنٹ سے کروایا جائے تو درست ٹریفک کاونٹ نئی پرانی مہنگی مٹی کے کام، موقع پر موجود دوبارہ قابل استعمال پتھر اور تعمیرات ازقسم پلیوں اسٹرکچر وغیرہ کا شمار و کریڈٹ زیادہ محتاط طریقہ سے ممکن ہے۔ ان کنسلٹنٹس کے پاس تجربہ کار افرادی قوت اور انسٹرومنٹس کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ اسطرح حقیقی سروے اور تصریحات کی روشنی میں سڑکوں کی فی کلومیٹر لاگت میں کثیر بچت ممکن ہے جو ملکی سطح پر کئی سو ارب سالانہ تک جا سکتی ہے۔ ملکی سطح پر پرانی سڑکوں کے پیچ ورک اور پشتہ بندی کا رحجان تقریباً ختم ہو چکا ہے جو مالیاتی اداروں کی سطح پر ہماری سبکی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ سڑکوں کے مرمتی اور بحالی اسٹاف کو دوبارہ متحرک کیا جائے۔ اس مد میں مخصوص کئے گئے فنڈز کو اگر حقیقی معنوں میں Patchwork اور پشتہ بندی میں صرف کیا جائے تو سڑکوں کی بحالی اور تعمیرنو کے مطالبات نصف حد تک دم توڑ سکتے ہیں۔ ان کثیر بچتوں کو ہم ماحول دوست تعمیرات اور گرین انقلابی اقدامات ازقسم فروغ جنگلات وغیرہ میں استعمال کریں تو مستقبل کی ماحولیاتی تباہ کاریوں سے بچت ممکن ہے۔ یہ ہدف کسی سالانہ ترقیاتی نیٹ ورک اور تعمیرات پر Compromise کئے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے مکمل وسائل اور جاری شعبہ جاتی کمپنیوں اور خرچوں سے ذرا ہاتھ کھینچ لیں اور ان بچتوں سے ماحولیاتی تباہ کاریوں اور مقابلے کیلئے فنڈز کا بندوبست کر لیں۔ بلاشبہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے مرکز کے مقابلہ میں دستیاب وسائل سنبھالے نہیں پاتے۔ صوبے اپنے مالیاتی حقوق کی Justification پیش کرنے کیلئے ان کثیر وسائل کو دھڑا دھڑ خرچ کر رہے ہیں۔ اس افراتفری میں بہت سے پروگرام اپنے مؤثر مقاصد حاصل نہیں کر سکے، یا پھر صوبوں میں ماہرین اور تکنیکی کمی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔ اسکے مقابل صوبے اپنی ترجیحات اور بچتوں کا نئے سرے سے تعین کریں۔ صوبے اگر مؤثر شعبوں میں ان وسائل کو استعمال کریں، ’’مالِ کثیر اور دل بے رحم‘‘ کے دوران ضیاع کی بجائے براہِ راست عوامی حالات کو بدلنے پر صرف کریں تو عوام الناس بھی صوبوں کی طرف داری میں کھڑے ہو جائینگے۔ خدشہ ہے کہ صوبوں میں اس وقت سرکاری وسائل کے فیاضانہ تصرف کی جو عادات حرزِ جاں بن چکی ہیں، مستقبل قریب میں جب ممکنہ طور پر وفاق اور صوبائی وسائل کی ازسرنو تقسیم ہو گی۔ کیا صوبے شاہی عادات کیساتھ اپنے ترقیاتی منصوبہ جات کامیابی سے مکمل کر سکیں گے۔ تو کیوں نہ ہم ابھی سے تمام شعبوں میں مؤثر پلاننگ، شفاف خریداریوں اور پیشہ ورانہ معاونتوں کیلئے مزید بہتر سوچ بچار کر لیں، تہیہ کر لیں۔