اسلام آباد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صرف پاکستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ اس ملک کے خوابوں کا شہر بھی ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں آباد یہ شہر جب بارش کی ہلکی پھوار میں نہاتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت نے اپنے سب رنگ اسی کیلئے سنبھال رکھے ہوں۔ گزشتہ دنوں جب میری پرواز اسلام آباد پہنچی تو صبح کا آغاز ایک نرم اور دلکش بارش سے ہوا۔ سڑکوں کے کنارے کھڑے درخت دھلے ہوئے دکھائی دے رہے تھے، سبزہ مزید نکھر چکا تھا اور فضا میں ایک عجیب سی تازگی گھلی ہوئی تھی۔ ایسے لمحات میں انسان کو فخر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے پاس ایک ایسا شہر بھی موجود ہے جو خوبصورتی، منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کی ایک زندہ مثال ہے۔خاص طور پر کراچی جیسے عظیم مگر مسائل سے دوچار شہر سے آنے والے شخص کیلئے اسلام آباد ایک مختلف ہی دنیا محسوس ہوتا ہے۔ کراچی کے ٹوٹے ہوئے راستے، ٹریفک کا شور، ادھوری ترقیاتی اسکیمیں اور روزمرہ کی مشکلات ذہن میں گردش کرتی ہیں تو اسلام آباد کی کشادہ شاہراہیں اور منظم انفراسٹرکچر ایک سوال بھی چھوڑ جاتا ہے کہ آخر ملک کے دوسرے شہر بھی اسی معیار کے کیوں نہیں ہو سکتے؟
اسلام آباد میں میرے دن کا آغاز وزیراعظم سیکریٹریٹ میں ہونے والی ایک اہم تقریب سے ہوا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوان شریک تھے جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ ہال نوجوان چہروں سے بھرا ہوا تھا۔ کہیں بلوچستان سے آئے ہوئے طلبہ تھے، کہیں گلگت بلتستان کے نوجوان اور کہیں سندھ و پنجاب کے روشن آنکھوں والے لڑکے اور لڑکیاں اپنے بہتر مستقبل کے خواب سجائے بیٹھے تھے۔چند لمحوں بعد رانا مشہود ہال میں داخل ہوئے تو شرکاء نے پُرجوش انداز میں ان کا استقبال کیا۔ وہ اسٹیج پر آئے اور نوجوانوں کیلئے حکومت کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
رانا مشہود نے بتایا کہ حکومت اس سال نوجوانوں کی ترقی کیلئے 77 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ لیپ ٹاپ اسکیم، بلاسود قرضے، ہنر مندی کے پروگرام، جاپانی زبان سمیت مختلف غیر ملکی زبانوں کی تعلیم اور کھیلوں کے فروغ کے منصوبے اس کا حصہ ہیں۔
اسی سفر کی ایک اور یادگار شام ایف سیون پارک اسلام آباد میں گزری جہاں پاک فوج کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک خصوصی کرکٹ میچ منعقد کیا گیا۔ سبز گھاس سے ڈھکا میدان، اسٹیڈیم کی روشنیاں اور قومی جذبے سے سرشار حاضرین ایک خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ ایک ٹیم کی قیادت قومی ہیرو شاہد آفریدی کر رہے تھے جبکہ دوسری ٹیم کے کپتان وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ تھے۔رانا مشہود کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے اس میچ کا مقصد شہداء اور انکے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ جب شہداء کے والدین میدان میں آئے تو پورا ماحول جذباتی ہو گیا۔ شاہد آفریدی، عطاء اللہ تارڑ اور رانا مشہود نے انہیں شیلڈز پیش کیں۔ یہ لمحہ صرف ایک کرکٹ میچ کا نہیں بلکہ قوم کے ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرنے کا لمحہ تھا جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اگلے روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال سے ملاقات ہوئی۔ چین نے انہیں’’ہیرو آف سی پیک‘‘کا اعزاز دیاہے۔ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ سی پیک کا نیا مرحلہ پاکستان میں ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گا۔ انہوں نے کراچی میں پورٹ قاسم کے مقام پر 500 ایکڑ پر قائم کیے جانے والے فیڈرل اسپیشل اکنامک زون کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں، جو دسمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ کراچی کو ایک نئے صنعتی مرکز میں تبدیل کر دے گا جہاں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار صنعتیں قائم کریں گے اور روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اسلام آباد قیام کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی یادگار رہی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے وژن، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔دارالحکومت اسلام آباد میں چند دن گزارنےکے بعد واپسی کا وقت آ پہنچا۔ اسلام آباد کی خنک فضا، بارش سے دھلے درخت اور منظم شاہراہیں پیچھے رہ گئیں۔ طیارہ کراچی میں اترا تو چالیس ڈگری کی گرمی نے استقبال کیا۔ ایئرپورٹ سے گھر تک کا سفر ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ کراچی ترقی کی دوڑ میں لاہور اسلام آباد کے مقابلے میں کا فی پیچھے رہ گیا ہے لیکن دل میں امید تھی کہ اگر منصوبوں میں تسلسل اور نیت میں اخلاص برقرار رہا تو ایک دن کراچی سمیت ملک کا ہر شہر ترقی کی اسی روشنی میں نہا سکے گا۔
اس سفر کا سب سے خوبصورت لمحہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستان کے ممتاز عالمِ دین حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے اچانک ملاقات تھی۔ ان کے نورانی چہرے، پُرسکون انداز اور محبت بھرے لہجے نے دل کو ایک عجیب روحانی سکون عطا کیا۔ چند لمحوں کی یہ ملاقات پورے سفر کا حاصل محسوس ہوئی۔اللّٰہ تعالیٰ حضرت صاحب کو صحت، عافیت اور طویل عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح امتِ مسلمہ کی رہنمائی کرتے رہیں۔