کراچی (نیوز ڈیسک) آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ فائدہ امریکی کمپنیوں کو ہوا، ایگور سیچن؛ آبنائے ہرمز بند ہو گئی تو آبنائے ملاکا، باب المندب اور جبرالٹر بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق روس کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی ’’روسفینٹ‘‘ کے چیف ایگزیکٹو ایگور سیچن کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے امریکی توانائی کے ادارے ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا کے کل خام تیل کے پانچویں حصے کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے پر مسلسل تناؤ تیل کی طویل مدتی طلب کو نقصان پہنچائے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور فروری میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی تھی، جو دنیا کی تیل کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے اور کھادوں سمیت دیگر اہم ترین اشیاء کی ترسیل کا بنیادی راستہ ہے۔ دوسری جانب، امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی ساتھی اور روس کے توانائی کے شعبے کی بااثر ترین شخصیات میں سے ایک، سیچن نے امریکی اقدامات کو عالمی توانائی کی منڈیوں کے بنیادی ڈھانچے کو امریکی مفادات کے مطابق تبدیل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے اسٹریٹجک خطرات کا ابھی پوری طرح سے اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔