تہران (نیوزڈیسک )ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اسرائیل کے سامنے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی استقامت کی تعریف کرتے ہوئے تنظیم کو جارحیت کے خلاف ایک مضبوط چٹان قرار دیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ تہران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی بنا لیا ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل اور اس کے جنگجوؤں کے نام ایک خط وفاداری کے جواب میں خامنہ ای نے کہا کہ گروپ کی لچک دنیا بھر کی آزاد قوموں کے لیے ظلم اور عالمی تکبر کے خلاف جدوجہد کرنے کا ایک پرامید پیغام بن گئی ہے۔خامنہ ای نے خط میں کہاکہ اب جبکہ حزب اللہ ہراول دستے کے طور پر صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے سامنے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑا ہے، یہ استقامت دنیا کی آزاد قوموں کے لیے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے۔سپریم لیڈر نے ان جنگجوؤں کے دفاع کو ایران کی اسٹریٹجک پالیسی قرار دیا اور لبنان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کے مکمل اور غیر مشروط خاتمے کو امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی معاہدے کی پہلی شرط قرار دیا۔خامنہ ای نے لبنانی عوام بالخصوص جنوب کے عوام کے کردار کی بھی تعریف کی جو حزب اللہ کی حمایت میں پیش پیش رہے۔