پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں وفاقی حکومت کو بیک وقت کئی بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف 10 جون کو پیش کیے جانیوالے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کا آخری مرحلہ جاری ہے، دوسری جانب حکمران اتحاد کے اندر اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں، ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال، گلگت بلتستان کے انتخابات اور صوبائی اختیارات سے متعلق زیر بحث تجاویز نے ملکی سیاست میںپھر سے بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ کیا شہباز شریف حکومت آنیوالے مہینوں میں ان تمام سیاسی اور آئینی چیلنجوں کا کامیابی سے سامنا کر پائیگی؟وفاقی بجٹ ہر حکومت کیلئے ایک بڑا امتحان ہوتاہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ امتحان غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ حکومتی حلقے بڑے دعویٰ کر رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس سے بہت مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر بجٹ میں نئے ٹیکس لگائے گئے یا عوام کو مزید معاشی بوجھ اٹھانا پڑا تو حکومت کو شدید سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد اتحادی جماعتوں کا رویہ بھی اہم ہوگا کیونکہ کئی فیصلے ایسے ہو سکتے ہیں جن پر حکومت کے اپنے اتحادی تحفظات رکھتےہیں ۔سب سے اہم معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں۔ پیپلز پارٹی مسلسل یہ مو قف اختیار کر رہی ہے کہ وفاقی حکومت اہم قومی معاملات میں اسے اعتماد میں نہیں لے رہی۔بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام،سندھ کے ترقیاتی منصوبوں، فنڈز کی تقسیم، مردم شماری کے اثرات اور انتظامی فیصلوں پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔یہ اختلافات صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ اب آئینی اور انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگربجٹ کے بعد حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان تنائو مزید بڑھا تو وفاقی حکومت کیلئے قانون سازی اور اہم فیصلوں کی منظوری مشکل ہو سکتی ہے۔اسی دوران ایم کیو ایم کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر مقرر کیا جائے۔ یہ مطالبہ بظاہر ایک انتظامی معاملہ لگتا ہے لیکن درحقیقت اسکے سیاسی اثرات بہت گہرے ہیں۔اگر حکومت ایم کیو ایم کے مطالبات کو نظر انداز کرتی ہے تو حکمران اتحاد کے اندر مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کے بعض معاشی اور آئینی منصوبے بھی سیاسی تنازع کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے وسائل اور اخراجات کے نظام میں تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔پیپلز پارٹی سمیت کئی سیاسی قوتوں کا خیال ہے کہ وفاق اگر صوبوں کے مالی وسائل کم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہوگا۔ یہ تا ثر بھی موجود ہے کہ بعض حکومتی اور ریاستی پالیسی ساز حلقے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے گئے بعض اختیارات پر نظرثانی کے خواہاں ہیں۔ کراچی اور گوادر جیسے اہم اقتصادی اور ساحلی شہروں کے انتظامی اور معاشی معاملات میں وفاقی کردار بڑھانے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایسی کسی تجویز کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم صرف اس بحث نے ہی سندھ اور بلوچستان کی سیاسی قیادت کو محتاط کر دیا ہے۔ ایسے میں اگر ان شہروں کے حوالے سے وفاقی اختیارات بڑھانے کی کوشش کی گئی تو صوبائی خودمختاری کا مسئلہ دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں آ سکتا ہے۔ اگر صوبائی اختیارات یا وسائل میں کمی کی کوئی کوشش سامنے آئی تو پیپلز پارٹی نہ صرف وفاقی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے بلکہ اسے عوامی سطح پر ایک بڑے سیاسی بیانئے میں بھی تبدیل کر سکتی ہے۔ادھر آزاد جموں و کشمیر کی سیاست بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ مظفرآباد میں منعقد ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس نے اس صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات موخر کرنے یا متنازعہ بنانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اختلافات کے باوجود انتخابی عمل کے تسلسل کی حمایت کی۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کی عدم شرکت نے یہ تاثر بھی دیا کہ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی قوتیں مکمل طور پر ایک صفحے پر موجود نہیں ۔گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر کے انتخابات وفاقی سیاست پر ہمیشہ اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ اگر وہاں کسی سیاسی جماعت کو نمایاں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اسکے اثرات اسلام آباد کی سیاست میں بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج یہ بتائینگے کہ عوام موجودہ وفاقی حکومت کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔اگر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف (آزاد امیدوار) یا مقامی جماعتیں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں تو حکومت کے ناقدین اسے وفاقی پالیسیوں پر عوامی عدم اعتماد کے طور پر پیش کرینگے۔ جس سے پاکستان کی سیاسی جماعتیں وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں آسکتی ہیں۔ان تمام عوامل کو یکجا کیا جائے تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ شہباز شریف حکومت کیلئے آنیوالے چند ماہ انتہائی اہم اور فیصلہ کن ہونگے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر حکومتیں اپوزیشن سے زیادہ اپنے اتحادیوں کے اختلافات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئیں۔ آج بھی صُورتحال کچھ مختلف نہیں۔تاہم اگر اختلافات بڑھتے گئے، معاشی مشکلات برقرار رہیں اور انتخابی نتائج حکومتی توقعات کے برعکس آئے تو سنگین سیاسی بحران کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔