گُزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان میں گردوں کی پیوندکاری کے بحران، غیر قانونی اعضاء کی تجارت اور ان ہزاروں مریضوں کی مشکلات کا جائزہ لیا تھا جو ہر سال موزوں ڈونر نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ کسی بھی سنجیدہ بحث کا مقصد مسئلے کی نشاندہی نہیں بلکہ اس کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جو کیا اور پاکستان اس سے کیا سیکھ سکتا ہے ؟مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد قارئین نے اس موضوع کے پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی ضرورت محسوس کی۔ جگر اور گردوں کی پیوندکاری یکساں قانونی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہیں، اسلئے اس موضوع پر گفتگو ضروری ہے۔ پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا میں اعضاء کے عطیے کے دو بنیادی نظام رائج ہیں۔ ایک نظام آپٹ اِن (Opt-in) کہلاتا ہے، جس میں کوئی شخص اس وقت تک ڈونر تصور نہیں کیا جاتا جب تک وہ اپنی زندگی میں قانونی رضامندی نہ دے۔ پاکستان اور امریکہ میں یہی نظام رائج ہے۔ اسکے آپٹ آؤٹ (Opt-out)نظام میں ہر شہری کو ممکنہ ڈونر مانا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اعضاء عطیہ نہیں کرنا چاہتا تو اسے خود کو اس فہرست سے نکلوانا پڑتا ہے۔ اسپین سمیت کئی یورپی ممالک نے اس طریقہ کار کے ذریعے اعضاء کے عطیات میں اضافہ کیا ہے۔ دنیا کے ممالک نے اپنی سماجی اور قانونی ضروریات کے مطابق ماڈلز تشکیل دیئے ہیں۔ اسپین کو متوفی ڈونیشن (Cadaveric Donation) کا ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ نے قومی رجسٹریوں اور انتظار کی فہرستوں کے ذریعے لاکھوں مریضوں کو زندگی دی ہے۔ ترکی نے طبی اداروں اور عوامی شعور کے درمیان اعتماد پیدا کر کے یہ عمل کیا، ایران نے حکومتی نگرانی میں ایک منفرد ماڈل قائم کیا جسکے باعث وہاں گردے کی پیوندکاری کیلئے انتظار کی فہرستیں ختم ہو چکی ہیں۔ ان کامیاب ماڈلز میں ایک بات ہے: ریاست نے ٹرانسپلانٹ کو صرف ایک اسپتال کا معاملہ نہیں سمجھا بلکہ اسے قومی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنایا۔ پاکستان میں بھی انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت اور غریبوں کے استحصال کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے گئے اور تمام صوبوں میں ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹیز (HOTA) سمیت متعلقہ اداروں کو نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ان اقدامات نے غیر قانونی تجارت کو محدود کیا، لیکن اب ان اداروں کو فعال سہولت کار کا کردار بھی دینا ہوگا۔پاکستان میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری کا قانون 2010 میں نافذ ہوا، جسکے تحت صرف قریبی، خون کے رشتہ دار ہی عطیہ دے سکتے ہیں، جبکہ غیر رشتہ دار عطیہ دہندگان کیلئے خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی قرار دی گئی۔ اس قانون کا مقصد اعضاء کی خرید و فروخت اور غیر انسانی تجارت کا خاتمہ تھا، لیکن ان مریضوں کیلئے کوئی مؤثر متبادل فراہم نہیں کیا گیا جنہیں موزوں خونی ڈونر میسر نہ آ سکے۔ مزید یہ کہ قانونی پیچیدگیوں کے ماحول نے بعض مخلص ٹرانسپلانٹ سرجنز کو بھی متاثر کیا۔ہمارے دوست معروف یورولوجسٹ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر ڈاکٹر ریاض تسنیم، جنہوں نے ستاسی گردوں کی پیوندکاری بلا معاوضہ انجام دی، اسی فضا کے باعث ٹرانسپلانٹ کا عمل ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ نتیجتاً نقصان ان مریضوں کا ہوا جو انکی خدمات سے محروم ہو گئے۔ قانون سازی کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ ہونا چاہئے جو قانون زمینی حقائق اور عملی ضروریات کو نظر انداز کرے، وہ بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی قانونی جمود اور سخت شرائط کی وجہ سے یہ قانون اب خود ایک بڑے انسانی المیے کا سبب بن رہا ہے۔ ذرا اس منظر نامے پر غور کیجیے جہاں ایک بوڑھے والدین کا اکلوتا جوان بیٹا اسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے، اسے ٹرانسپلانٹ کی فوری ضرورت ہے، لیکن پورے خاندان میں کسی کا بلڈ گروپ یا ٹشو اس سے میچ نہیں کرتا بلیک مارکیٹ کا راستہ بند ہے جبکہ ایک رضاکار غیر رشتہ دار ڈونر موجود ہونے کے باوجود قانون اجازت نہیں دیتا نتیجہ؟ وہ نوجوان بچہ صرف اسلئے دم توڑ دیتا ہے کیونکہ قانون نے انسانیت کو رشتوں کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ کیا بطور قوم ہم روزانہ اس طرح کی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو سکتے ہیں؟ کیا ایک ایسا قانون جو زندگی بچانے کیلئے بنایا گیا تھا، اپنے جمود کی وجہ سے موت کا پروانہ بنتا رہے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قوانین میں فوری اور انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں، تاکہ خونی رشتوں سے باہر بھی لوگ رضاکارانہ طور پر اعضاء دے سکیں۔ اس سلسلے میں ایران کی بطور اسلامی ملک حکومت کی نگرانی میں قائم کردہ کڈنی بینک کے ماڈل کو پاکستان میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ایران نے انقلابی فتاویٰ کے امتزاج سے ایک ایسا شفاف نیٹ ورک قائم کیا جہاں حکومت کی طرف سے عطیہ دہندگان کو دو ہزار سے پانچ ہزار ڈالر تک مالی امداد دی جاتی ہے، جسے غریب خاندانوں کیلئے ایک باعزت معاوضے اور ریاستی تشکر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نہ کہ اعضاء کی خرید و فروخت کے طور پر۔ پاکستان میں اس غیر خونی رضاکارانہ ماڈل کو اپنانے کیلئے ہمیں نئے سرے سے کسی بنیادی ڈھانچے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی دنیا کا بہترین فلاحی نیٹ ورک موجود ہے۔ اخوت، الخدمت اور ایدھی فاؤنڈیشن جیسے معتبر ادارے اس پورے نظام میں حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر حکومتِ پاکستان ان اداروں کیساتھ ملکر ایک ریگولیٹری فریم ورک بنائے، تو اس رضاکارانہ عطیے کی اسکریننگ، تصدیق اور صلے یا امداد کی تقسیم میں سو فیصد شفافیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔اس سے شفافیت برقرار رہیگی، استحصال رکے گا اور مریضوں کو بروقت ڈونر میسر آ سکیں گے بحران کا حل موجود ہے، ضرورت صرف قوانین کو بدلنے کے سیاسی عزم کی ہے۔