آج کے دور میں ایک عجیب المیہ جنم لے چکا ہے، کچھ لوگ شہرت، دولت اور طاقت کے حصول کیلئے اپنی ہی دھرتی کو بدنام کرنے کو کامیابی کا زینہ سمجھ بیٹھے ہیں، وہ اپنے وطن کیخلاف پروپیگنڈابیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، اسکے زخموں کو نمائش کا سامان بناتے ہیں، اپنے ہی گھر کی دیواروں پر پتھر برسا کر غیروں کو مذاق اڑانے کا موقع فراہم کرتے ہیں، پھر جب انکے نام کے چرچے ہونے لگتے ہیں،ان کے مفادات کی تجوریاں بھرنے لگتی ہیں اور ان کے گرد مفاد پرست حلقے جمع ہونے لگتے ہیں تو وہ اسی روش کو حق گوئی، روشن خیالی اور وطن پرستی کا نام دے کر بھولے بھالے لوگوں کو قائل کرنے لگتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ہر قوم میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنی مٹی اور ہم وطنوں سے بے وفائی کرتے ہیں لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت ان گمنام کرداروں میں ہوتی ہے جو خاموشی سے اپنے وطن کی خدمت کرتے ہیں، وہ نہ شہرت کے طلبگار ہوتے ہیں نہ صلے کے امیدوار، انکا سرمایہ صرف محبت، وفاداری اور احساسِ ذمہ داری ہوتا ہے۔ایک مرتبہ میں نے بھی ایسے ہی حالات پر دل گرفتہ ہو کر جنتی راجہ ولایت خان بھنڈگراں والے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے بڑی شفقت اور یقین کیساتھ کہا،’’بہن پریشان نہ ہو، اس ملک کو کما کر دینے والے زیادہ ہیں اور لوٹ کر کھانے والے کم‘‘یہ ایک سادہ سا جملہ تھا، مگر اسکے اندر ایک پوری قومی حکمت پوشیدہ تھی،یہی اصول وفاداری اور بے وفائی کے باب میں بھی لاگو ہوتا ہے، پاکستان کو ان چند بے وفاؤں سے نہیں بلکہ ان لاکھوں پرخلوص لوگوںسے پہچانا جانا چاہیے جو اس سے محبت کرتے ہیںاور اس کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پاکستان کے بہترین سفیر ہیں،حال ہی میں اس حقیقت کا ایک خوبصورت مظہر اُس وقت دیکھنے کو ملا جب جرمنی اور اٹلی سے آئے ہوئے پاکستان اوورسیز الائنس فورم یورپ کے وفد کے اعزاز میں وجدان کی جانب سے ایک باوقار اور پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا، وفد میں چوہدری زبیر خان ایڈووکیٹ، چوہدری زہیب یونس، سید فاروق سجاد اور چوہدری بابر خان ایڈووکیٹ شامل تھے۔اس تقریب کا مقصد محض مہمان نوازی نہیں تھا بلکہ مختلف نسلوں کے درمیان ایک بامعنی مکالمہ قائم کرنا تھا، سینئر صحافیوں، دانشوروں، بیوروکریٹس اور سماجی شخصیات کو اس نوجوان نسل سے روبرو کرانا مقصود تھا جو یورپ میں پیدا ہوئی، وہیں پروان چڑھی ، یہ جاننا ضروری تھا کہ وہ پاکستان سےوابستگی کو کس طرحزندہ رکھے ہوئے ہے اوراس کی ترقی و خوشحالی کیلئے کون سے خواب اپنے دل میں بسائے ہوئے ہے۔وفد کے سربراہ چوہدری زبیر خان ایڈووکیٹ کی شخصیت اس حوالے سے ایک روشن مثال ہے، اگرچہ انکی پیدائش جرمنی میں ہوئی مگر انکے والد صاحب نے انہیں اپنی سرزمین، ثقافت اور تہذیب سے جوڑے رکھنے کیلئے میٹرک تک تعلیم پاکستان میں دلوائی، بعد ازاں انہوں نے جرمنی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آج وہ وہاں کے کامیاب ترین وکلاء میں شمار ہوتے ہیں،انھوں نے اپنے خاندان کے دیگر لوگوں سے ملکر پاکستان میں مختلف کاروباروں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔انکی گفتگو میں دلیل کی مضبوطی، فکر کی پختگی اور تہذیب کی شائستگی نمایاں تھی، انہوں نے جرمنی کی سیاسی و سماجی زندگی، حکومتی ترجیحات، پاکستانی طلبہ اور تارکینِ وطن کو درپیش مواقع اور مشکلات، نیز پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر نہایت بصیرت افروز انداز میں گفتگو کی۔راقم کے علاوہ تقریب میں موجود ممتاز شخصیات حفیظ اللہ نیازی، محسن جعفر، اسلم شاہد اوردیگر نے حالاتِ حاضرہ، پاکستانی کمیونٹی اور قومی امور سے متعلق متعدد سوالات کیے، چوہدری زبیر خان نے ہر سوال کا نہایت تفصیل، اعتماد اور مکمل آگاہی کے ساتھ دیا جس سے ان کی علمی وسعت اور قومی شعور کا بخوبی اندازہ ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایسے نوجوانوں پر فخر ہونا چاہیے، یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے کچھ لینے نہیں آئے بلکہ اپنی محبت، اپنی صلاحیت اور اپنا تجربہ پاکستان کے نام کرنا چاہتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو محض ترسیلاتِ زر بھیجنے والے افراد کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ انہیں قومی دانش، تجربے اور انسانی سرمایہ کے ایک قیمتی ذخیرے کے طور پر تسلیم کیا جائے ،اوورسیز منسٹری اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ایسے افراد سے مستقل رابطہ رکھیں، انہیں مشاورتی بورڈز اور پالیسی سازی کے عمل میں شامل کریں اور انکی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ قومیں صرف زمین کے ٹکڑے سے نہیں بنتیں، قومیں یادوں، محبتوں، خوابوں اور وفاداریوں سے تشکیل پاتی ہیں،خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس ایسے بے شمار بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں جو دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں مگر انکے دل کی دھڑکن آج بھی پاکستان کے نام سے تیز ہو جاتی ہے،یہی لوگ پاکستان کا اصل چہرہ ہیں، یہی اس کی امید ہیں اور یہی اسکے روشن مستقبل کی ضمانت۔