• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلموں میں خواتین کو غیر مناسب انداز میں پیش کیا جاتا ہے، کنگنا رناوت

گزشتہ ہفتے ریلیز ہونیوالی تیلگو فلم پیڈی کے تنازع کے حوالے سے معروف بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کا کہنا ہے کہ فلموں میں خواتین کو طویل عرصے سے ایک الگ اور سخت گیری پر مبنی رویہ اور غیر مناسب انداز اور لباس میں پیش کیا جاتا ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ کی رکن کنگنا نے ان خیالات کا اظہار بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کیا۔

انکا کہنا تھا کہ سنیما میں اکثر خواتین کی تصویر کشی غیر منصفانہ انداز میں کی جاتی ہے، خواتین کی نمائندگی سے متعلق خدشات کو تسلیم بھی کیا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ہر منظر یا کردار کو الگ تھلگ انداز میں جانچنا یا سوشل میڈیا پر بلاوجہ غصے اور اشتعال کو ہوا دینا بھی مناسب نہیں۔

اداکارہ سے سیاستداں بننے والی 40 سالہ کنگنا نے اعتراف کیا کہ سیاست میں انہیں یہ فکر رہتی ہے کہ کہیں وہ حد سے زیادہ اداکار تو نہیں بن گئی ہیں، کبھی کبھی انہیں یہ تشویش ہوتی ہے کہ وہ شاید ایک سیاست دان کے مقابلے میں زیادہ ایک اداکار کی طرح نظر آتی یا برتاؤ کرتی ہیں۔

اس موقع پر جب ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایسے وقت میں جب اداکارائیں زیادہ مضبوط، بااختیار اور کردار کی گہرائی رکھنے والے رولز کا مطالبہ کر رہی ہیں، مرکزی دھارے کا سنیما اب بھی خواتین کے حد سے زیادہ غیر مناسب جسمانی ایکشن میں پیش کیے گئے کرداروں پر کیوں انحصار کرتا ہے۔

اس پر انکا کہنا تھا کہ خواتین کو محض فلموں میں ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی کوئی آبجکیٹ یا شے سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کو تو مقامی ٹرین میں سفر کرتے ہوئے بھی ایک شے کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ 

اس لیے یہ کہنا کہ صرف فلموں میں خواتین کو استعمال کی چیز سمجھا جاتا ہے، بالکل غلط بات ہے۔ اگر آپ مقامی ٹرین میں جائیں تو وہاں دھکم پیل اور جسمانی چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بسوں میں بھی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ سڑکوں پر بھی ہوتا ہے، لہٰذا اس کا فلموں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید