دولت کی غیر مساوی تقسیم نے دنیا کوجس طبقاتی کشمکش سے دو چار کر رکھا ہے اسکی سنگینی میںہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ ایک طرف امرا ءکا طبقہ ہے جسکے کتے اور بلیاں بھی نازونعم میں پرورش پارہےہیں۔ انکی خدمت کیلئے باقاعدہ ملازم ہیں جن کا اپنا مرتبہ ان جانوروں سےبھی حقیر ترہے۔ دوسری طرف غربا اور مساکین کا طبقہ ہےجس کے بچوں کو شب و روز کی سخت ترین مشقت کے باوجود پیٹ بھرکر دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی بھی میسرنہیں۔ بین الاقوامی ادارے فوربز نے دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست شائع کی ہےجن میں سے پہلے دس میں سے نو کا تعلق امریکا سے ہے دسواں فرانسیسی ہے۔ یہ لوگ اربوں ڈالرکے مالک ہیں۔دنیاکا اس وقت امیر ترین شخص ایلون مسک ہے جوجلد ہی کھربوں ڈالر کا مالک بننے والا پہلا شخص ہوگا۔ امریکی صدر ٹرمپ انتخابات جیتنے کے بعد اسے اپنے ساتھ وائٹ ہائوس لے گئےتھےمگر جلد ہی پتہ چلا کہ اسکا اپنا کاروبار نقصان سے دوچار ہورہا ہے اس نے ٹرمپ سے درخواست کرکے وائٹ ہائوس کو چھوڑا اور اپنے کاروبار کوسنبھال لیا۔ اب نہ صرف اس کا اپنا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے بلکہ ایران سےجنگ چھیڑ کر ٹرمپ کے بیٹوں نے بھی اسلحہ سازی تیز کرکے اپنی دولت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کرلیا ہے ان کا اسلحہ اسرائیل اور بھارت سمیت کئی ممالک دھڑا دھڑ خریدرہے ہیں۔دنیا بھر میں اس وقت3ہزار 300ارب پتی افراد ہیں جو ٹیکنالوجی، بردہ فروشی اور مالیاتی کاروبار سے اپنی دولت میں روزانہ اربوں ڈالر کا اضافہ کررہے ہیں۔
امریکی سفید فام سرمایہ داروں نے سیاہ فام غلاموںکی جبری مشقت سے دولت کے جو ڈھیرجمع کئے انکے بل بوتے پر امریکہ نے ٹیکنالوجی کے ذریعے مادی قوت حاصل کی اور دنیاکی سپر پاور بن گیا۔ آج ٹرمپ نے اس قوت سےپوری دنیا کو آگے لگا رکھا ہے لیکن اس کی نکیل ایک چھوٹی سی یہودی اقلیت اسرائیل کے ہاتھ میں ہےجس کے صہیونی انتہا پسندوں نے امریکا کی پشت پناہی سےمشرق وسطی ہی نہیں پوری دنیاکو معاشی عذاب میں ڈال رکھا ہے ۔ ٹرمپ کی کوئی نازک رگ نیتن یاہو کے ہاتھ میں ہے جس کی مدد سے وہ نہ صرف فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا رہا ہےبلکہ عربوں کوایران سے لڑا کر اور خود لبنان پر حملے کرکے اپنی یہودی سلطنت کو وسیع کرناچاہتا ہے۔ امریکا دنیا بھر کواپنی تجارتی پابندیوں میں جکڑ رہا ہے اور ایران کی قدیم ترین تہذیب کو مٹانے کی دھمکیاں دے رہاہے مگر اسرائیل کوکھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے ۔ایران پرامریکا اور اسرائیل کی جارحیت سے دنیا بھر میں تیل کا جو بحران پیدا ہوا اس کے معاشی نتائج سے کوئی بھی ملک خود کو بچا نہیں سکا۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے جو اقوام متحدہ کا ایک امدادی ادارہ ہے اپنی رپورٹ میں متنبہ کیا ہے کہ مشرق وسطی کی جاری جنگ کی وجہ سے دنیا کے ساڑھے چار کروڑ انسان بھوک، ننگ اور افلاس سے دوچار ہوچکے ہیں۔ افغانستان، صومالیہ، سری لنکا اور افریقی ممالک اس جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ پاکستان میں عالمی توانائی بحران کا نتیجہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔ مہنگائی ناقابل برداشت ہوچکی ہے بے روزگاری نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ متاثرہ ممالک کی کوئی مدد نہیں کرسکتا کیونکہ امدادی ایجنسیاں خود فنڈز کی کمی کا شکار ہوچکی ہیں اور انہوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام کی امداد روک دی ہے۔ صومالیہ ایک غریب ملک ہے فوڈ پروگرام کی امدادرکنے سے صومالیہ کوملنےوالی 89؍ فیصد خوراک کی امداد معطل ہوجائیگی اور لوگ فاقہ کشی کا شکار ہوجائینگے۔
یمن کسی زمانےمیں ایک خوشحال ملک تھا اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار، جنگ زدہ اور بدحال ملک ہے۔ ایجنسی فرانس پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنگ و جدل اور معاشی تباہ کاری سے یہاں کے لوگ عاجز آچکے ہیں۔ خوراک کی نایابی سنگین مسئلہ بن گئی ہے اور غریب لوگ درختوں کے پتے ابال کرکھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایجنسی نے ایسی ہی ایک 65؍ سالہ عورت سعیدہ محمد کی دکھ بھری کہانی بیان کی ہے جو ایک تھیلےمیں درختوں کے پتےجمع کرتی پھرتی ہے وہ بے گھر لوگوں کے ایک کیمپ میںرہتی ہے۔ اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بھوک سےبچانے کے لئے وہ ان پتوں کو ابالتی ہے اور جب نرم ہوجائیں توانہیں کھانے کے لئے دیتی ہے۔کیمپ کے قریب ایک پہاڑی ہے جس کے درختوں سے گرنے والے مڑے تڑے پتے اس کے کام آتے ہیں اسکی دو طلاق یافتہ بیٹیاں بھی اسکے ساتھ رہتی ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک پہلے اسکی مدد کرتا تھا مگر پچھلے چھ مہینوں سے اس نے بھی اس کی امداد بند کردی ہے۔ سعیدہ نے بتایا کہ پتوں کوذائقہ دار بنانے کے لئے وہ ابالتے وقت پانی میں تھوڑا سا نمک بھی چھڑک دیتی ہے۔ بچوں کو تمام معاملے کا علم ہے مگر وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئےانہیں کھانے پرمجبور ہیں۔ ایک عرصہ ہوا انہوں نے گوشت نہیںکھایااور اب وہ اسکا ذائقہ بھی بھول چکے ہیں۔ پتے کھانے سے انہیں پیچش لگ جاتے ہیں مگر وہ جانتے ہیںکہ پتوں کے سوا کھانے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔یمن میں خانہ جنگی جاری ہے اس لئے ایسا بھی ہوتا ہے کہ کیمپ پر کبھی جنگجو حملہ کردیتے ہیں اور کھانے کی کوئی مناسب چیز ملے تو اسے زبردستی چھین کر لےجاتے ہیں۔ مشرق وسطی کی جنگ سے ایسے واقعات مزید بڑھ گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ امریکا کو عظیم تر بنائیں، نیتن یاہو اسرائیل کو گریٹر بنائیں، عرب ممالک اپنی دولت بچائیں یاایران اپنی خودمختاری کا تحفظ کرے ان کی جنگ سے دنیا کے غریب طبقے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کی فکر ہے مگر اس بے بس اور لاچار طبقے کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ اقوام متحدہ عملاً ختم ہوچکی ہے۔ چھوٹے بڑے تمام ممالک امریکا اور اسرائیل کے سامنے بے بسی کی تصویربنے بیٹھے ہیں۔ یہ صورتحال ایک نئے عالمی نظام کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی طاقتور ہو یا کمزور سب کوامن و سکون سے جینے کی آزادی مل سکے۔