قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کا کیس زیر بحث آیا، اس دوران رکن اسمبلی نبیل گبول نے اہم سوال بھی اٹھا دیا۔
چیئرمین راجہ خرم نواز کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں انمول پنکی کیس زیر بحث آیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسپیکر نے کیس ہمیں بھیجا، ہم نے پنجاب سے بھی رپورٹ مانگی تھی۔ مجھے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس کیس کو ڈسپوز آف کر دیں۔
رکنی کمیٹی نبیل گبول کا کہنا تھا کہ انمول پنکی کا معاملہ معمولی نہیں ہے، وہ کون لوگ ہیں جو انمول کو کہہ رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم کا نام لو۔
چیئرمین کمیٹی خرم نواز کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے رپورٹ آئی کہ راجہ پرویز اشرف کا کوئی نام نہیں لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل اے این ایف سندھ نے کہا کہ انمول کیس میں رابطوں کا ریکارڈ سائبر کرائم کے پاس ہے۔ 2019 میں اے این ایف کا کیس انمول کے خلاف تھا۔
اس دوران نبیل گبول نے کہا کہ 18 سال سے انمول منشیات کا کاروبار کر رہی تھی، صرف ایک ویڈیو سے کیس اٹھ گیا۔ انمول پکڑی لاہور سے جاتی ہے اس کو پیش کراچی میں کیا جاتا ہے۔ میرے حلقے کا شخص 6 ہفتے پہلے ہیروئن کے سبب مرا، جیب سے انمول پنکی کی پرچی نکلی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انمول کس کی تحویل میں ہے، کس کو بچانے کیلئے اسے مہرے کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے؟
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بولے کہ ہمارے ادارے اس طرح سے کام نہیں کرتے جس پر نبیل گبول کا کہنا تھا کہ وہ تو ہم نے رانا ثنا اللّٰہ کیس میں دیکھا کہ ادارے کام کیسے کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے انمول پنکی کیس کا معاملہ نمٹا دیا۔