وفاقی بجٹ 27-2026ء میں انفرااسٹرکچر سیکٹر کے لیے 729 اعشاریہ 9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق ٹرانسپورٹ و مواصلات کے منصوبوں کے لیے 408 اعشاریہ 9 ارب روپے جبکہ آبی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کےلیے 140 اعشاریہ 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کےلیے توانائی سیکٹر کےلیے 135 اعشاریہ 6 ارب، سماجی شعبے کے لیے 187 اعشاریہ 2 ارب، تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے منصوبوں کےلیے 78 اعشاریہ 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق صحت و غذائیت کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 24 اعشاریہ 3 ارب، سائنس و آئی ٹی سیکٹر کا ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 43 اعشاریہ 9 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کےلیے 79 اعشاریہ 4 ارب جبکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کےلیے 66 اعشاریہ1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں 801 ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کی تجویز ہے، جن میں ریلوے کے جاری 31، پاور ڈویژن کے 45 منصوبوں کےلیے فنڈز مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
دستاویز کے مطابق پلاننگ ڈویژن کے 20، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 4، وزارت صحت کے 21، وزارت غذائی تحفظ کے 9، میری ٹائم افیئرز کے 4، وزارت قانون کے 9، وزارت داخلہ کے جاری 22 اور بلوچستان کے 59 منصوبوں کےلیے فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہیں۔