وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت محکمۂ خوراک کا اجلاس ہوا، جس کے دوران صوبے میں گندم کی پیداوار، ذخائر، دستیابی اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔
مراد علی شاہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1 لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چھپائی گئی گندم مختلف فلور ملز سے برآمد کی گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں گندم کی دستیابی بہتر ہوئی اور آٹے کی قیمتوں میں بھی استحکام آیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 26-2025ء کے سیزن میں سندھ میں 47 لاکھ میٹرک ٹن گندم کاشت کی گئی، گزشتہ سال کا 1 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔
بریفنگ میں خبردار کیا گیا کہ صوبے سے باہر گندم منتقلی اور کھپت سے مارچ 2027ء تک سندھ کو گندم کا خسارہ ہو سکتا ہے، 15 جولائی 2026ء تک صوبے میں تقریباً 26 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال یا صرف ہو چکی، 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم آئندہ بوائی کے لیے بیج کی صورت میں محفوظ رکھی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں تقریباً 22 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے، سپلائی چین میں اس وقت 12 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے۔
محکمۂ خوراک نے گندم کی کمی پر قابو پانے کے لیے پاسکو سے مزید گندم کی خریداری کی تجویز بھی پیش کی جبکہ دورانِ اجلاس گندم اور آٹے کی موجودہ قیمتوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔
وزیرِاعلیٰ سندھ نے اعتراض کیا کہ اب بھی 6 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم کا کوئی حساب موجود نہیں۔
انہوں نے متوقع خسارے سے نمٹنے کے لیے محکمۂ خوراک کو جامع گندم مینجمنٹ پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ غذائی تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومت غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی، مناسب قیمتوں پر گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، صوبے میں اس وقت گندم کی فوری قلت نہیں ہے۔
اُنہوں نے ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں، مارکیٹ میں قیمتوں پرکڑی نظر رکھی جائے، مصنوعی قلت پیدا نہ ہونے دی جائے اور ہر 15 روز میں ذخائر، خریداری، کارروائیوں اور مارکیٹ کے رجحانات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جائے۔