• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے شک محترم سہیل وڑائچ ایک کہنہ مشق صحافی ہیں لیکن ہر عہد میں کچھ رائج الوقت اصطلاحات ( Buzz words) ہوتی ہیں۔ جن سے اس زمانے کا اجتماعی مکالمہ بلکہ طرز احساس مرتب ہوتا ہے۔ ان تراکیب، نعروں اور چالو کلامیے سے گریز کیا جائے تو ہم عصر معاملات کی تفہیم مشکل ہو جاتی ہے۔ آپ کے نیاز مند کی عمر ہی کیا ہے۔ کل ساٹھ برس۔ ہماری نسل نے آنکھ کھولی تو امریکہ کی درس گاہوں اور یورپ کی سڑکوں پر ایک ہی قوت کی بے اماں یلغار نظر آتی تھی، ’طالب علم‘۔ دوسری عالمی جنگ کے آتشیں میدانوں سے لوٹنے والے سپاہیوں نے گھر پہنچتے ہی کچھ ایسی آندھ مچائی کہ آبادی تیزی سے بڑھنے لگی اور یہ زمانہ بے بی بوم (Baby Boom) کے عنوان سے موسوم ہوا۔ یہ بحث الگ رہی کہ ان سپاہیوں نے دوران جنگ مقبوضہ یا مفتوحہ زمینوں پر کیا گل کھلائے تھے کیونکہ یہ قصے بھی کچھ ولدیت سے متعلقہ زاویوں سے جڑے تھے۔ چالیس کی دہائی کے اواخر میں عجلت میں پیدا کی گئی یہ مخلوق ساٹھ کے عشرے میں جوان ہوئی تو اس نے حسب روایت ایک نئی دنیا تخلیق کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ نسلی امتیاز قبول کرنے سے انکار کیا۔ عورت اور مرد میں ایستادہ دیواروں پر پھاوڑا چلانے کا اعلان کیا۔ پْرکھوں کی جنسی اقدار سے بغاوت کا جھنڈا اٹھایا۔ ویت نام جنگ کی مخالفت نے ایسا زور پکڑا کہ نومولود امریکی استعمار کے خدوخال پر نفرت انگیز تشنج کی انمٹ لکیریں نمودار ہو گئیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ طالب علم پہیے سے لے کر جدید دنیا کے پیچیدہ ڈھانچوں تک تاریخ کا نقشہ نئے سرے سے مرتب کریں گے۔ خاکسار کا حافظہ اگر غلطی نہیں کرتا تو 20 دسمبر 1971ءکی رات بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی دھندلی اسکرین پر ذوالفقار علی بھٹو نئے پاکستان کے رہنما کی حیثیت سے پہلا خطاب کرنے نمودار ہوئے تو ابتدائی جملے میں شہریوں، مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ ’طالب علمو!‘ کا اضافہ کرنا نہیں بھولے۔ پر اعتماد بھٹو صاحب نے نیم دراز انداز میں ٹیک لگا رکھی تھی۔ وہ 5 جولائی 1977 ءکا ضیاالحق تھے اور نہ 13 اکتوبر 1999 ء کے ابتدائی گھنٹوں میں کراچی سے مخاطب ہونے والے پرویز مشرف تھے جس نے ’عزیز ہم وطنوں‘ سے مخاطب ہونے کیلئے کسی ساتھی سے مانگ کر کمانڈو شرٹ پہن رکھی تھی۔ بھٹو صاحب جانتے تھے کہ نئے پاکستان میں طالبعلموں کے دل جیتے بغیر وہ اپنا سکہ نہیں جما پائیں گے۔ آج کل ہمارے قابل احترام بزرگ مثلاً راجہ انور، پرویز رشید، جاوید ہاشمی اور مجیب الرحمن شامی تب آتش جواں تھے۔ اگرچہ اب اس آگ کی نورس کلیوں پر وقت کے اتار چڑھائو میں بہت سا پانی گزر چکا ہے۔

دسمبر 1971ءکی بلیک آئوٹ میں تھرتھراتی اور سیاسی بے یقینی میں ڈوبی اس رات سے کوئی چالیس برس بعد پاکستا ن کے خود ساختہ رہنمائوں از قسم شجاع پاشا، ظہیر الاسلام اور راحیل شریف نے نیا پاکستان بنانے کا بیڑا اٹھایا تو ہمیں ایک نئی اصطلاح بخشی ’یوتھ‘۔ یوتھ کی اس اصطلاح سے متعدد اصطلاحات مشتق ہوئیں جن میں سے کچھ صوتی اعتبار سے دُشنام کی حدود کو چھوتی تھیں۔ ’ہم لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘۔ ایک صفحے کی بادشاہت تمام ہوئی اور اقتدار کی ٹکسال میں ’ہائبرڈ‘ کا سکہ ڈھالا گیا۔ محترم سہیل وڑائچ نے اسی چام کے دام پر اپنی خوش کلامی کے جوہر دکھائے ہیں۔ ایک سوال بہت برمحل اٹھایا ہے کہ اگر اقتدار اور فیصلہ سازی میں دو فریق شامل ہیں تو اس عہد کے سودو زیاں کے پھول کس پر برسائے جائیں گے اور ناکامیوں کا ذمہ دار کون ٹھہرے گا۔ سہیل وڑائچ ہماری قومی تاریخ کے غواص ہیں اور کثیر الزوجی کی تحقیق میں مسلم لیگ (ق) سے ہوتے ہوئے مسلم لیگ (کنونشن) تک کا کھوج لگا آئے ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسر فلپ اولڈن برگ نے 2010 ءمیں ’بھارت ، پاکستان اور جمہوریت‘ کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی تھی۔ جس کا موضوع یہ تھا کہ آزادی کے بعد بھارت اور پاکستان کا سیاسی ارتقا ایک جیسا کیوں نہیں رہا۔ اس موضوع پر اسرائیل کی حیفہ یونیورسٹی کی استاد پروفیسر آرنٹ شانی ( Shani Ornit) اور سیاسیات کے معروف استاد سٹیون ولکنسن کی تصانیف بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس موضوع پر تمام محققین متفق ہیں کہ اجتماعی کامیابی کے لیے عوام اور ریاست کے تمام شعبوں میں فیصلہ سازی میں اتفاق رائے ضروری ہے۔ ایوب خان نے اپنی خود نوشت کے صفحہ 38 پر لکھا کہ ’اکتوبر 1947 کی کشمیر جنگ میں پاکستانی جوانوں کو اعلیٰ قیادت کی طرف سے کوئی واضح ہدایات یا اہداف نہیں دیے گئے تھے اور بہت زیادہ ذمہ داری نچلے درجے کے افسروں کو سونپی گئی چنانچہ محاذ کشمیر پر مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے‘۔ یہی ایوب خان جب خود قوم کے کھیون ہار بنے اور ستمبر 1965 کا مرحلہ درپیش ہوا تو بریگیڈیئر امجد علی خان نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’6 ستمبر 1965کو ہماری افواج کی قیادت کا ڈھانچہ جنگی ضروریات اور تقاضے پورے کرنے سے قطعی طور پر قاصر تھا‘۔ کرنل سید غفار مہدی نے لکھا کہ ’ہمیں بیرکوں سے باہر جنگی ترتیب میں تعینات تو کر دیا گیا لیکن ہمیں قطعاً معلوم نہیں تھا کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں ہمیں کیا کرنا ہے‘۔ فوج کے سربراہ جنرل موسیٰ نے My Version میں لکھا کہ ’بری فوج میں کم از کم دو پیادہ ڈویژن کم تھے‘۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز جنرل گل حسن نے اپنی سوانح میں لکھا کہ ’ہمارے دفاع کی ہراول صف یعنی بکتر بند ڈویژن میں ایک رجمنٹ کے برابر یعنی کوئی تین سو ٹینک مرمت کے لیے بھیجے ہوئے تھے۔ فوج کی پچیس فیصد نفری سالانہ چھٹی پر تھی۔ جنگ شروع ہوتے ہی امریکا اور برطانیہ نے دونوں ممالک کے لیے اسلحے کی فراہمی پر پابندی لگائی تو صدر ایوب کا رنگ اڑ گیا اور وہ جنگ بندی کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔ ثابت ہوا کہ قوم کی ترقی، توانائی اور کامیابی کے لیے قیادت کی یکسوئی درکار ہے جیسا کہ محترم صحافی نے لکھا ہے کہ ’سیاسی لغت میں سودوزیاں کا والد ایک ہی ہوتا ہے‘ اسی طرح یہ بھی جاننا چاہیے کہ ناکامی یتیم ہوتی ہے اور کامیابی کی ولدیت کے متعدد دعویدار ہوتے ہیں۔ اس صورت میں ایک دھڑ اور دو سر والے بچے بھی پیدا ہوتے ہیں جنہیں اخبار کا نیوز ڈیسک ’عجیب الخلقت بچے کی پیدائش‘ کا عنوان دے کر یک کالمی خبر بنا دیتا ہے۔

تازہ ترین