• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف سے متعلق ایرانی انتباہی رپورٹ مسترد کر دی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی انتباہ سے متعلق رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

مذکورہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے نجی طور پر انہیں خبردار کیا تھا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف مذاکرات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اندرونی معلومات کی بنیاد پر مالیاتی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے، مجھے اس نوعیت کا کوئی پیغام کبھی موصول نہیں ہوا۔

انہوں نے  وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا کوئی پیغام موصول ہوا ہوتا تو میرا جواب یہ ہوتا کہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف صدر کی ٹیم کے قابلِ اعتماد ارکان ہیں اور میرے نہایت قریبی دوست بھی ہیں، خطے میں امن اور خوش حالی کے فروغ کے لیے ان دونوں سے بڑھ کر کسی نے کام نہیں کیا۔ 

جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ یہ تاثر دینا کہ وہ اندرونی معلومات کی بنیاد پر لین دین کر رہے ہیں، مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کو نجی طور پر پیغام دے کر خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر مذاکرات تک اپنی رسائی کا غلط استعمال کر کے اس سے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ سوئٹزر لینڈ میں پچھلے ماہ مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے نائب امریکی صدر کو خبردار کیا تھا کہ وٹکوف اور کشنر کی موجودگی دائمی ڈیل نہیں ہونے دے گی کیونکہ یہ دونوں ڈیل سے زیادہ اقتصادی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق ان کی ہیرا پھیری کے ذریعے بنائی گئی رقم کی مالیت جون تک 9 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔

ویب سائٹ کے مطابق ایرانی حکام نے اس بات پر بھی اعتراض کیا تھا کہ وٹکوف اور کشنر اہم امور سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے پہلے بھی ایرانی حکام نے امریکی صدر کے لیے ثالثوں کو تحریری دستاویز شواہد کے طور پر دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی افراد ہی فنانشل مارکیٹ میں کارستانیاں دکھا رہے ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی حکام کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ ایرانی پروپیگنڈا قرار دیا ہے، تاہم نائب صدر کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ ایرانیوں نے یہ بات برملا کہی تھی کہ انہیں وٹکوف اور کشنر کی موجودگی پر اعتراض ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید