امریکا میں بھارتی نژاد کاروباری شخصیت نیرج شرما ان 17 شہریت حاصل کرنے والے افراد میں شامل ہیں جن کی امریکی شہریت منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف نے ان 17 افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور الزام ہے کہ انہوں نے دھوکا دہی، حقائق چھپانے یا غلط معلومات فراہم کر کے امریکی شہریت حاصل کی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 50 سالہ نیرج شرما نیو جرسی میں قائم عملہ فراہم کرنے والی کمپنی ’میگنا ویژن ایل ایل سی‘ کے چیف ایگزیکٹیو افسر رہ چکے ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق نیرج شرما نے 11 جعلی ایچ ون بی ویزا درخواستیں جمع کروائیں جن میں ظاہر کیا گیا کہ غیر ملکی کارکنوں کو ایک بڑی عالمی مالیاتی کمپنی میں تعینات کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں میں اعلیٰ عہدیداروں کے جعلی دستخط اور من گھڑت دستاویزات بھی استعمال کی گئیں۔
مزید الزام ہے کہ نیرج شرما نے 2017ء میں امریکی شہریت کی درخواست دیتے وقت یہ ظاہر کیا تھا کہ انہوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس پر ان کو گرفتار کیا گیا ہو، نہ ہی انہوں نے امریکی حکام کو غلط معلومات فراہم کیں یا امیگریشن فوائد حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولا، بعد ازاں انہیں دسمبر 2017ء میں امریکی شہریت دے دی گئی۔
بعد میں 2015ء سے 2017ء کے دوران ویزا فراڈ سے متعلق مقدمے میں نیرج شرما کو مجرم قرار دیا گیا۔
محکمۂ انصاف کا مؤقف ہے کہ نیرج شرما نے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں چھپائیں اور غلط بیانی کے ذریعے شہریت حاصل کی، اسی لیے اب ان کی شہریت منسوخ کی جا رہی ہے۔
یہ کارروائی امریکی حکومت کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کے تحت سنگین جرائم، بچوں کے خلاف جرائم، منشیات اسمگلنگ، مالیاتی دھوکا دہی اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث شہریوں کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔