• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا سے مشاورت کے بعد قطر کے مذاکرات کار ایران روانہ ہوگئے، امریکی عہدیدار

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا سے مشاورت کے بعد قطر کے مذاکرات کار آج صبح ایران روانہ ہوگئے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطری مذاکرات کار ممکنہ ایران امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے آج ایران روانہ ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ قطری وفد کا یہ دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں، حالانکہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ شب حملوں کا تبادلہ ہوا، جو جنگ بندی کے لیے اب تک کا ایک بڑا امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران میں ایسے اہداف پر حملے مکمل کیے ہیں جو ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردعمل میں کیے گئے۔ 

ایک امریکی عہدیدار نے امریکی نیوز چینل کو بتایا کہ واشنگٹن کا خیال ہے یہ حملے مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کریں گے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو قیمت چکانا ہوگی کیونکہ اس نے معاہدے پر مذاکرات میں بہت زیادہ تاخیر کی۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی نیوز چینل سے گفتگو کرنے والے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ممکنہ معاہدے کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو، جس کے بغیر کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید