لاہور میں رائے ونڈ پر واقع ایک نجی یونیورسٹی نے اپنے ادارے کو ڈرگ فری ڈکلیئر کر دیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہےکہ ڈیڑھ سال کے دوران کونسلرز کی اَن تھک محنت سے 50 سے زائد طالب علموں کو نشے کی لت سے نکالا۔ پولیس اور اے این ایف نے ڈرگ سپلائی کا نیٹ ورک توڑا، پھر کہیں جا کر ان کی یونیورسٹی پاکستان کی پہلی ڈرگ فری یونیورسٹی بن سکی۔
تعلیمی اداروں میں نشے کی لعنت معاشرتی اقدار اور نوجوانوں کی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، ایسے میں رائے ونڈ پر واقع ایک نجی یونیورسٹی نے نشے کی لت میں مبتلا طالب علموں کو نشے سے بچانے کی ٹھان لی۔
کونسلرز سعدیہ کہتی ہیں کہ 50 سے زائد طلباء و طالبات مختلف سیشنز اور تھیراپی کی مدد سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔ نوجوان زیادہ تر دوستوں کی صحبت، گھریلو ناچاقیوں، والدین سے کمیونیکیشن گیپ اور عشق میں ناکامی سمیت دیگر معاشرتی مسائل کی وجہ سے نشے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں
نشہ چھوڑ کر زندگی کی طرف لوٹنے والے طالب علموں نے نام اور شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوستوں کے ساتھ نشے کی عادت پڑی۔
وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف کہتے ہیں کہ پولیس اور اے این ایف کے شکر گزار ہیں جن کی مدد سے یہ کارنامہ انجام دیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق طالب علموں کی مانیٹرنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔