• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب رکھنے کی تجویز

وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ وزارتوں کا کل ترقیاتی بجٹ 682 ارب 48 کروڑ روپے رکھنے کا تخمینہ ہے۔ 

دستاویز کے مطابق وزارت آبی وسائل کے منصوبے، 103 ارب 8 کروڑ روپے رکھنے، کابینہ ڈویژن کے تحت اراکین پارلیمنٹ کی اسکیمیں، 64 ارب 8 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ 

دستاویز کے مطابق وزارت دفاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 10 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے جبکہ وزارت دفاعی پیداوار کے منصوبوں کیلئے 97 کروڑ 98 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ 

دستاویز کے مطابق سرمایہ کاری بورڈ کیلئے 76 کروڑ روپے مختص کرنے جبکہ موسمییاتی تبدیلی کیلیے 2 ارب 47 کروڑ روپے مختص کرنے، وزارت داخلہ کے منصوبوں کیلئے 21 ارب 82 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ 

آئی ٹی و ٹیلی کام کیلئے 19 ارب 58 روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، وفاقی تعلیمی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ وزارت اطلاعات کا ترقیاتی بجٹ 2 ارب 71 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن ترقیاتی بجٹ 46 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، فنانس ڈویژن کا ترقیاتی بجٹ 1 ارب 44 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ وزارت ریلوے کا ترقیاتی بجٹ 40 ارب 65 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ 

دستاویز کے مطابق اسٹبلشمنٹ ڈویژن کا ترقیاتی بجٹ، 1 ارب 78 کروڑ روپے اور کارپوریشنز کا ترقیاتی بجٹ 312 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ کارپویشنز میں این ایچ اے کا ترقیاتی بجٹ 224 ارب 51 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ 

پاور ڈویژن کے بجلی منصوبوں کا ترقیاتی بجٹ 88 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ وزارت ہاوسنگ کا ترقیاتی بجٹ 16 ارب 39 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ انسانی حقوق ڈویژن کےلیے ترقیاتی بجٹ زیرو رکھنے کی تجویز ہے۔ 

وزارت قانون وانصاف کا ترقیاتی بجٹ 2 ارب 40 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ سمندری امور کا ترقیاتی بجٹ 1 ارب 78 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ 

قومی غذائی تحفظ کی وزارت کا ترقیاتی بجٹ 4 ارب 18 کروڑ، وزارت صحت کا ترقیاتی بجٹ، 16 ارب 6 کروڑ اور وزارت منصوبہ بندی کے منصوبوں کیلئے 3 ارب دو کروڑ روپے تجویز ہے۔ 

دستاویز کے مطابق ریونیو ڈویژن کے منصوبوں کیلئے 11 ارب 57 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے منصوبوں کیلئے 3 ارب 56 کروڑ روپے اور صنعتی شعبے کا ترقیاتی بجٹ 6 ارب 65 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ 

صوبوں، خصوصی علاقہ جات کا ترقیاتی بجٹ 233 ارب35 کروڑ روپے،  وفاق کے تحت صوبائی منصوبوں کا ترقیاتی بجٹ 88 ارب 23 کروڑ روپے، صوبوں کے ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 55 ارب روپے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 89 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ 

دستاویز کے مطابق ریاستی ملکیتی اداروں کا ترقیاتی بجٹ 451 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 2218 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 749 ارب روپے، سندھ کا 706 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کا ترقیاتی بجٹ 455 ارب روپے اور بلوچستان کا 308 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید