ماہرِ ٹیکس ذیشان مرچنٹ کا کہنا ہے کہ جائیداد، گاڑی ہر چیز خریدنے پر ٹیکس ہے، صرف سانس لینے پر ٹیکس نہیں۔
’جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ملک میں انکم ٹیکس ریٹرن فائلر کی تعداد نہیں بڑھ رہی، فائلر کی تعداد نہ بڑھنے کی بنیادی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔
ذیشان مرچنٹ کا کہنا ہے کہ ہر کوئی سسٹم میں آنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ سسٹم میں آنے والے کا ہی جوس نکالا جاتا ہے، سسٹم میں آنے والوں پر ہی بھاری ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس فائلر کا ہی آڈٹ ہوتا ہے، اسی کا بینک اکاؤنٹ فریز اور جرمانے ہوتے ہیں، نان فائلر پر کچھ نہیں ہوتا، وہ مزے میں ہے، چھوٹے کاروباروں کا ٹیکس ریٹ 49.5 فیصد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی کاروبار 1 کروڑ کما کر 50 لاکھ روپے ٹیکس دے گا تو ایسا نہیں ہو گا، چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس کا نظام بہت مشکل بنا دیا گیا ہے، ٹیکس سسٹم کو آسان کیا جائے۔
ماہرِ ٹیکس نے کہا کہ حکومت کو سمجھنا پڑے گا کہ ٹیکس پیئرز ان کے پارٹنرز ہیں، ٹیکس پیئرز کے ہی مزید آڈٹ ہوتے ہیں، انہی پر چھاپے مارے جاتے ہیں، ایف بی آر میں یہ سوچ کہ ٹیکس پیئر چور ہے، اس کو ختم کرنا پڑے گا۔
ذیشان مرچنٹ کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس 610 ارب روپے ہے، 5 سال پہلے تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس 150 ارب روپے تھا، تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس 5 گنا بڑھ گیا ہے، کیا آپ چاہ رہے ہیں کہ تنخواہ دار طبقہ ختم ہو جائے؟
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ خزانہ نے کہا تھا کہ حکومت کے پاس فسکل اسپیس آ گیا ہے، حکومت کے پاس موقع ہے کہ ٹیکس پیئرز کو تھوڑا سا ریلیف دے۔