• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشی ترقی، بیشتر اہداف حاصل نہ ہوئے، شرح نمو 3.7 فیصد، چار سالہ بلند سطح پر، غربت بڑھ کر 28.9 فیصد، اقتصادی سروے

اسلام آباد(تنویر ہاشمی/خالدمصطفیٰ)رواں مالی سال کے قومی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق حکومت زیادہ تر اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے‘زراعت‘ صنعت ‘ خدمات ‘ قومی بچت‘سر مایہ کاری‘زراعت‘ لائیو اسٹاک ‘جنگلا ت اورماہی پروری کے شعبے میں گروتھ ہدف سے کم رہی تاہم ترسیلات زر 8.2 فیصد اضافے سے 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں‘ ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سکڑ کر72ملین ڈالر رہ گیاجبکہ مارچ 2026ء کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ بڑھ کر833 کھرب روپے تک پہنچ گیا‘ رواں مالی سال میں اقتصادی شرح 3.7فیصد رہی جوچار سال کی بلند ترین سطح پر ہے‘مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی‘ پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ دوبرسوں میں فی کس آمدنی 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے‘بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 50,000 میگاواٹ کے قریب پہنچ گئی‘نجی شعبے کے قرضوں میں 934 ارب روپے کا بڑا اضافہ‘عالمی مشکلات کے باوجود ٹیکسٹائل کی برآمدات 13.5 ارب ڈالر پر برقرار‘ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی ‘عالمی سطح پر ٹیرف ‘ تجارتی پالیسیوں‘شدید مون سون بارشوں‘ سیلابوں ‘ علاقائی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی حالات نے بھی معیشت کو متاثرکیا‘ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو بڑھ کر 28.9فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح ہر 100میں سے تقریباً 29 شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے زوردیاہے کہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ماضی کی غلطیاں درست کرنا ہوں گی ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو رواں مالی سال کےا قتصادی سروے جاری کردیا‘ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی معاشی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور اب ملک ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کی بنیاد رکھ چکا ہے۔ معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں‘ ملک کے 30تا40فیصدقرضے رعایتی ہیں‘سفارش کلچر ختم کرنا اتنا آسان نہیں‘کوئی ادارہ 2سال میں ٹھیک نہیں ہوسکتا‘اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور دیگر بیرونی عوامل اثرانداز نہ ہوتے تو شرح نمو 4 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔

اہم خبریں سے مزید