گزشتہ دنوں گلگت بلتستان میں ہونیوالے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جس نے اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ روایتی پارٹیاں بوجوہ پس منظر میں تو چلی جاتی ہیں مگر ان کا وجود زبردستی مٹایا نہیں جا سکتا۔ خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی جیسی عوامی جماعت کا ،جس کا پاکستان کی سیاسی تاریخ پر بہت گہرا نقش ہے۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو کی 20سالہ سیاسی زندگی اور اس میں حاصل ہونے والی عظیم کامیابیوں، طویل سیاسی جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو دنیا کی مزاحمتی سیاسی جماعتوں میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی سیاسی جماعت ایسی ہوگی جسکے لیڈر کے گھرانے کے تقریباً سبھی ممتاز افراد کو سیاسی جدوجہد میں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے اور آج بھی یہی عالم ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے بارے میں کوئی مثبت خیالات نہیں رکھتے۔ پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے انتخابی میدان میں ہمیشہ مقتدر حلقوں کی خواہش کے برعکس اپنی عوامی مقبولیت سے کامیابی حاصل کی اور اس میں کسی دستِ غیب کی مدد شامل نہیں رہی۔
یہاں تک کہ 24کے متنازعہ انتخابات میں بھی سندھ کی حد تک سب کی رائے یہی ہے کہ پیپلز پارٹی نے یہ انتخابات جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قربانیوں اور موجودہ پیپلز پارٹی کی قیادت جناب آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی حکمت عملی کے سبب جیتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے پاکستان کو وہ متفقہ دستور دیا جس کیلئے ملک کو 25 سال تک انتظار کرنا پڑا اس دوران کئی حکومتیں آئیں جن میں اپنے وقت کے معروف سیاستدان بھی شامل تھے لیکن یہ اعزاز جناب بھٹو شہید کے حصے میں آیا کہ نہ صرف انہوں نے سرزمینِ بے آئین کو آئین دیا بلکہ عوام کو شعور بھی بخشا اور انہیں اپنے ہونے کا احساس عطا کیا ۔صرف یہی نہیں پاکستان کو ایک سال پہلے بھارت کی مہم جوئی کے خلاف جو فوجی کامیابی حاصل ہوئی اس میں جناب بھٹو شہید کے ایٹم بم اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے میزائل پروگرام اور چین سے گہری دوستی کا عمل دخل بھی شامل ہے جو پیپلز پارٹی کی عطا کردہ ہے۔
تاریخ کسی بھی جماعت یا شخصیت کے مجموعی کردار کو فراموش نہیں کرتی پیپلز پارٹی کو جنرل ضیا اور اسکے بعد اقتدار میں آنے سے روکنے اور عرصہ اقتدار پورا نہ کرنے کی بھرپورکوششوں کے باوجود یہ طے شدہ حقیقت ہے ،جس کو پیپلز پارٹی کے سب مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں ،کہ پیپلز پارٹی نے اپنے ادھورے اقتدار کے دوران بھی ہمیشہ مزدوروں کسانوں اور محنت کشوں کیلئے اصلاحات کیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا نیز صوبوں کے حقوق کیلئےجتنی بھی قانون سازی ہوئی وہ پیپلز پارٹی کے ہی دور میں ہوئی۔پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور ملک میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔پیپلز پارٹی پاکستان کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اقتدار میں ہونےکے باوجود انتخابی میدان میں اپنے تمام تر تحفظات کے باوجود شکست کو تسلیم کیا تاکہ ملک میں جمہوری اقتدار کو مستحکم کیا جا سکے۔
گلگت بلتستان اور چترال جیسے دور دراز علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی نے سب سےپہلے عوامی اصلاحات کے کاموں کاآغاز کیا۔ یہ پیپلز پارٹی کا ہی دور تھا جس میں گلگت، بلتستان کو علیحدہ انتظامی یونٹ کی حیثیت دی گئی جسکی وجہ سے وہاں آج منتخب حکومت کا قیام عمل میں آسکا ہے۔ بہت سے لوگ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرز سیاست کو تو پسند کرتے ہیں لیکن آصف علی زرداری کے طرز سیاست کے ناقد ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ان کی پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ سندھ تک محدود ہو گئی لیکن یہ خیال درست نہیں صدر زرداری کی مفاہمت کی سیاست کی وجہ سے پیپلز پارٹی ابھی تک زندہ ہے ورنہ مقتدر حلقوں سمیت دیگر سیاسی جماعتیں جس طرح پیپلز پارٹی کو مٹانے پر تلی ہوئی تھیں اگر صدر زرداری نہ ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ پیپلز پارٹی کا وجود سندھ میں بھی ختم ہو جاتا۔
پیپلز پارٹی کی گلگت بلتستان کے موجودہ انتخابات میں شاندار کامیابی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کا راستہ غیر آئینی طریقوں سے نہ روکا جاتا تو وہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی پہلے کی طرح مقبول جماعت ہوتی آج کے دور میں بھی نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک منجھے ہوئے اور سنجیدہ سیاستدان کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔ وزیرِ خارجہ ہونے اور بھارتی جارحیت کےبعد بیرون ملک جانیوالے وفود کے سربراہ کی حیثیت سے انکی کار کردگی میں جناب ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت اور چمک دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے پارٹی کے اندر کچھ لوگوں کی یہ رائے رہی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو اس حکومت کی سپورٹ کرنی ہی تھی تو اسے حکومت میں بھی شامل ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنے انتخابی منشور کو اپنے انتخابی حلقوں میں نافذ کر سکتی لیکن اب موقع آگیا ہے پیپلز پارٹی گلگت اور بلوچستان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور اپنے انتخاب کو صحیح ثابت کرے۔ آج کل پنجاب میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کا عمل جاری ہے اور جب سے جناب فیصل میر لاہور پی پی کے صدر بنے ہیں ان کی متحرک قیادت نے ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ امید ہے کہ آئندہ کسی عام انتخابات میں پیپلز پارٹی پھر ایک بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔