• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے کافی دنوں سے کوئی لڑائی نہیں دیکھی۔ پہلے ہر دوسرے روز سڑک یا کسی گلی میں نوجوان گتھم گتھا نظر آتے تھے۔ اب کئی سال ہوگئے ہیں کوئی لڑائی نظر نہیں آئی۔ بس زبانی کلامی دھواں دار باتیں ہوتی ہیں اور بس۔ شاید اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ سمجھ رہے ہیں کہ لڑائی کا مطلب ’پڑھنے پانا‘ ہوتا ہے۔ یہ بڑا دلچسپ لفظ ہے اور اجمل شاہ دین صاحب نے اسکی ایک مثال بہت کمال دی۔ فرماتے ہیں کہ اُنکے علاقے کے ایک سیشن جج اور ایک سینئر وکیل کی آپس میں تو تو میں میں ہوگئی۔ جج صاحب نے دھمکی دی کہ میں تمہیں ’پڑھنے پادوں گا‘۔ یاد رہے کہ پنجابی کی اس مثال کا آسان ترجمہ یہ ہے کہ ’چکروں میں ڈالنا‘۔ وکیل صاحب نے اس دھمکی کو ہوا میں اڑا دیا کہ بہرحال خود بھی وکیل تھے۔ جج صاحب نے وکیل صاحب پرتوہین عدالت لگا کر چھ ماہ کی سزا سنا دی۔ وکیل صاحب بظاہر تو مسکرا دیئے لیکن گھر آکر سوچا کہ سزا ہوچکی ہے اور کسی ناگہانی صورتحال سے بچنے کیلئے سب سے پہلے ضمانت قبل از گرفتاری کرانی چاہئے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہائیکورٹ لاہور میں تھی۔ انہوں نے ایک وکیل دوست کو فون کیا۔ گاڑی نکالی اور لاہور آگئے۔یہاں ہائی کورٹ سے ضمانت تو مل گئی لیکن دو دن بھی ضائع گئے۔ گاڑی پر آنے جانے کا خرچہ بھی ہوا اور دو دن ہوٹل میں بھی قیام کرنا پڑا۔ واپسی پر وہ سارے رستے سوچتے گئے کہ اگرصورتحال برقرار رہی تو وہ واقعی ’پڑھنے پڑ جائینگے‘۔ یہ خیال آتے ہی واپسی پر انہوں نے چند سینئر وکیل دوستوں کو ساتھ لیا۔جج صاحب سے معافی مانگی، اکٹھے کھانا کھایا اور سزا ختم کروائی۔ یہ وکیل صاحب بعد میں احباب کوخود یہ قصہ سنایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی میں کبھی کوئی آپ کو ’پڑھنے نہ پائے‘۔ شاید اسی لیے لوگ چیخ پکار کرلیتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی تو وقت بھی برباد ہوگا اور پیسہ بھی۔

٭ ٭ ٭

لاہور کی تاریخی اہمیت کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو لاہور کی فضا کوجانتے ہیں اور اس سے محبت رکھتے ہیں۔ لاہور کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں،شاندار کام ہوا ہے۔واصف ناگی صاحب کا کام تو جادوئی حیثیت رکھتاہے۔ انکا کالم پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے بندہ ٹائم مشین میں بیٹھ کر سو سال پیچھے آگیا ہو۔ جن لوگوں نے لاہور کی تحقیق میں اپناحصہ ڈالاہے ان میں آج کل ’لاہور کے کھوجی‘ کابھی بہت کردار ہے۔ یہ لقب سیّد فیضان عباس کو عطا ہوا ہے جنہوں نے گزشتہ نوسال میں لاہورکا گوشہ گوشہ دریافت کیا اور بے شمار ایسی جگہیں بھی ڈھونڈیں جو شاید خود بھی کئی لاہوریوں نے نہیں دیکھی ہونگی۔ فیضان عباس نوجوان معلم ہیں، تاریخ، ابلاغیات اور پنجابی ادب میں ماسٹرز ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی، لمز، گورنمنٹ کالج اور پاکستان آرمی ایوی ایشن سے بھی داد وتحسین کے سرٹیفکیٹ وصول کرچکے ہیں۔ انکا کام میری نظر سے گزرا تو میں نے ان سے گزارش کی کہ دفتر تشریف لائیں اور ملاقات کا شرف بخشیں۔ فیضان صاحب کا شکریہ کہ وہ تشریف لائے ا ور پھر ان سے لاہور کے حوالے سے ڈھیر ساری باتیں ہوئیں۔ برادرم اجمل شاہ دین اور معروف ڈائریکٹر کاشف نثاربھی محفل میں موجود تھے۔ ہم چاروں لاہور کے سحرمیں گرفتار لوگ ہیں سو ہماری علمی پیاس بجھائی فیضان عبا س صاحب نے۔ میں حیران ہوں کہ فیضان عباس جنونیوں کی طرح کام کررہے ہیں۔ لاہور شناسی پر وہ ایک مجلہ باقاعدگی سے شائع کرتے ہیں۔چھوٹے موٹے پمفلٹس اسکے علاوہ ہیں ۔ پنجاب حکومت لاہور کا روایتی ورثہ بحال کرنے کے مشن پر ہے۔ اس مقصد کیلئے فیضان عباس کی خدمات ضرور حاصل کرنی چاہئیں جو بغیر کسی صلے کی تمنا کے لاہور کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔

٭ ٭ ٭

آپ اگر کسی عورت سے دل کی گہرائیوں سے اپنے لئے بددعائیں سننا چاہتے ہیں تو اسے ایک دفعہ اسکے منہ پر ’آنٹی‘ کہہ کر دیکھ لیں۔البتہ وہ آپ کو پچاس سال کی ہوکر بھی انکل کہتی رہے تو آپ کو مائنڈ نہیں کرنا چاہیے میں نے ایک خاتون سے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ اٹھلا کر بولیں ”تیس سال اور کچھ مہینے“۔ میں نے کریدا”کتنے مہینے؟“ وہ بےپروائی سے بولیں ”یہی کوئی چار پانچ سو مہینے……“ اکثر خواتین کو سر میں درد ہو تو وہ ایک گولی کھاتی ہیں، شوہر اگر کہے کہ دو گولیاں لینی چاہئیں تو آگے سے چلا کر کہتی ہیں دو گولیاں تو بڑوں کیلئے ہوتی ہیں۔ اس کے بعد شوہر خاموش ہوجاتاہے اور اطمینان سے دوسرے کمرے میں جاکر دیوار کو ٹکر دے مارتاہے۔عموماً مردوں کو اپنی عمر چھپانے کی عادت نہیں ہوتی، شائد اس لیے کہ انہیں مرد کہلوانے کا زیادہ شوق ہوتاہے۔آپ نے کئی بیس سال کے ایسے مردبھی دیکھے ہوں گے جوہر کسی کو بیٹا بیٹاکہہ کر پکارتے ہیں۔مرد ویسے بھی تیس کا ہو تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پینتیس کا لگے۔ویسے میں عمر چھپانے کے خلاف ہوں جو چیز حقیقت ہے وہ بیان کردینی چاہیے۔ اس حوالے سے میں نے کافی ریسرچ کی ہے میں تلاش میں تھا کہ کوئی ایسا شخص ملے جو اپنی عمر کے حوالے سے بالکل سچ بولے۔الحمدللہ مجھے کامیابی عطا ہوئی اور ایسا مردحق مل ہی گیا۔ اب آپ سے کیا چھپاناعمر بتانے کے حوالے سے خاکسار ہی دنیا کا سب سے سچا اور کھرا انسان قرار پایا ہے۔میں نے آج تک اپنی عمر نہیں چھپائی لہٰذا مجھ سے جب بھی کسی نے میری عمر پوچھی، میں نے کوئی گول مول بات نہیں کی اور کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر فوراً بتا دیا ……پچیس سال……!!!

تازہ ترین