• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی معیشت کے استحکام میں اگر کسی طبقے کا کردار سب سے نمایاں ہے تو وہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک کروڑ سے زائد اوورسیز پاکستانی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطن سے ہزاروں میل دور رہ کر دن رات محنت کرتے ہیں اور ہر سال چالیس ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ پاکستان بھیج کر قومی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف بارہا اپنے بیانات اور عملی اقدامات سے اس حقیقت کا اظہار کر چکے ہیں کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے متعدد ملاقاتوں اور مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو کے بعد یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو محض سرکاری فائلوں کا موضوع نہیں سمجھتے بلکہ ذاتی دلچسپی لیکر انکے حل کی کوشش کرتے ہیں۔اگرچہ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے ایک پوری وزارت، ایک الگ خود مختار ادارہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن، اور پنجاب اوورسیز کمیشن اوردیگر ادارے موجود ہیں، تاہم وزیراعظم خود بھی ان امور کی نگرانی کرتے ہیں۔تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کوئی سہولت متعارف کراتی ہے تو کچھ ایسے خفیہ عناصر متحرک ہو جاتے ہیں جو نہ صرف ان سہولتوں کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ان کے راستے میں نئی رکاوٹیں بھی کھڑی کرتے ہیں۔

چند برس قبل اوورسیز پاکستانیوں کو پرسنل بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیموں کے تحت اپنی گاڑیاں پاکستان لانے کی سہولت حاصل تھی۔ اس سے حکومت کو بھاری زرمبادلہ بھی ملتا تھا اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی قانونی طریقے سے اپنی گاڑیاں پاکستان منتقل کر سکتے تھے۔ بعد ازاں مختلف سازشوںکی بنا پر ان سہولتوں میں محدودیت آتی گئی اور بالآخر صرف گفٹ اسکیم باقی رہ گئی۔اس کے بعد بھی سازشیں بند نہ ہوئیں۔ ایک نیا طریقہ کار متعارف کروایا گیا جس کے تحت جاپان سمیت دنیا بھر سے پاکستان آنے والی گاڑیوں کے لیے پری شپمنٹ انسپکشن کولازمی قرار دیا گیا۔ اوورسیز پاکستانیوں نے اس شرط کو بھی قبول کیا۔ وزارت تجارت، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور متعلقہ اداروں کی منظوری سے عالمی معیار کی کمپنیوں کا انتخاب کیا گیا۔ لوگوں نے ایک لاکھ روپے تک اضافی اخراجات برداشت کیے، گاڑیاں مقررہ معیار کے مطابق چیک کروائیں اور انسپکشن پاس ہونے کے بعد انہیں پاکستان روانہ کیا۔یہاں تک تو معاملہ سمجھ میں آتا تھا کیونکہ مقصد معیار کو یقینی بنانا بتایا گیا تھا۔ لیکن اب حیران کن طور پر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے اچانک ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری کردیا کہ جاپان میں منظور شدہ کمپنیوں سے پری شپمنٹ انسپکشن پاس کرنے والی گاڑیوں کا پاکستان پہنچنے کے بعد دوبارہ پوسٹ انسپکشن کرانا پڑے گا۔یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ جب حکومت خود کسی کمپنی کو انسپکشن کا اختیار دیتی ہے، لوگ اس کے مطابق بھاری فیس ادا کرتے ہیں، گاڑیاں مقررہ معیار پر پورا اترتی ہیں اور پھر پاکستان پہنچتی ہیں تو دوبارہ انسپکشن کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وزارت تجارت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق انسپکشن کے معاملات سے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کا تعلق ہی نہیں بنتا بلکہ یہ PSQCA پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ان معاملات کی ذمہ دار ہے جبکہ دوسری اہم بات پاکستان میں گاڑیوں کی عالمی معیار کے انسپکشن کیلئے کوئی مؤثر اور باقاعدہ نظام موجود ہی نہیں۔ جب سہولت موجود نہیں تو پھر یہ شرط آخر کس مقصد کیلئے عائد کی جا رہی ہے؟

اس وقت ہزاروں گاڑیاں کراچی پورٹ پر موجود ہیں یا راستے میں ہیں۔ ان گاڑیوں کی کلیئرنس سے حکومت کو کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ اور بھاری ڈیوٹی حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری اور اعتماد بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں تو اس کا منفی اثر نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد پر پڑے گا بلکہ ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوگا۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ جب یہ معاملہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا اور اس سوال کو جائز قرار دیا کہ جاپان میں پہلے سے منظور شدہ اور انسپکشن پاس شدہ گاڑیوں کے لیے دوبارہ انسپکشن کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملہ چیئرمین ایف بی آر اور وزیراعظم کے سامنے رکھا جائے گا۔اب نظریں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب ہیں۔ وہ ماضی میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات کرتے رہے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس معاملے کا بھی نوٹس لیں گے، حقائق کا جائزہ لیں گے اور اگر واقعی کسی سطح پر غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں تو ان کا راستہ روکیں گے۔وزیر اوورسیز پاکستانی چوہدری سالک حسین ، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا شاہ اور دیگر متعلقہ حکام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ اوورسیز پاکستانی صرف ترسیلات زر بھیجنے والی مشینیں نہیں بلکہ پاکستان کے غیر رسمی سفیر ہیں۔ ان کے ساتھ آسانی، سہولت اور احترام کا رویہ اختیار کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی پورٹ پر موجود ہزاروں گاڑیوں کی فوری کلیئرنس کے احکامات جاری کیے جائیں، پری شپمنٹ انسپکشن کو حتمی اور قابل قبول قرار دیا جائے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی اقدام کی حوصلہ شکنی کی جائے جو اوورسیز پاکستانیوں کو غیر ضروری مشکلات سے دوچار کرے۔

تازہ ترین