صدر ٹرمپ نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ ہر جمعرات جمعہ کو ایران سے صلح کا ڈول ڈالتے اور پیر تک الٹے پیروں مڑ جاتے ہیں۔ دنیا یہ جان چکی ہے کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل کا مقصد صرف اپنی تجوریاں بھرنا، ذاتی مفادات کا تحفظ کرنا اور "شیطن یاہو" کی ظالمانہ شیطانی حکومت کی طوالت ہے۔ صدر ٹرمپ کے متعلق امریکہ میں یہ خیال اب قوت پکڑتا جا رہا ہے کہ وہ اپنا عقیدہ تبدیل کر کے صیہونی عیسائی یا صیہونی یہودی بن چکے ہیں۔ صیہونیوں نے صدر ٹرمپ کو ان کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کے والد چارلس کشنر جو ٹیکس چوری کے 18اور کاغذات میں غیر قانونی ردوبدل جیسے جرائم میں سزا یافتہ ہیں کے ذریعے قابو کیا ہے۔ 2020میں دو سال جیل کاٹنے پر صدر ٹرمپ نے چارلس کشنر کو صدارتی معافی دی اور 2025 میں انہیں فرانس کا امریکی سفیر لگا دیا۔ جیرڈ کی اہلیہ اور ٹرمپ کی لاڈلی بیٹی "ایوانکا" بھی اپنا عقیدہ تبدیل کر کے صیہونی یہودی بن چکی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مصنوعی ذہانت سے بنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں وہ حضرت عیسیؑ کی طرح مردہ شخص کے ماتھے پر ہاتھ رکھے اسے زندہ کر رہے تھے جبکہ دوسرے ہاتھ سے حضرت موسیؑ کی مانند نظریں خیرہ کرنے والی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ تصویر پر لوگوں کا اعتراض ٹرمپ کی حضرت عیسیؑ سے مشابہت پر مرکوز رہی۔ کسی نے حضرت موسیؑ سے مشابہت پر توجہ نہیں دی یا شاید وہ اس خیال کی ترویج میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتے تھے۔ ممکن ہے یہ تصویر صیہونیوں نے صدر ٹرمپ کو خود ہی دی ہو جسے انہوں نے احساسِ تخافر میں پوسٹ کر دیا ہو۔ صدر ٹرمپ کامیاب کاروباری باپ کے ناکام کاروباری بیٹے ہیں، کئی بینکوں کے نادہندہ ہیں۔ انکے لاتعداد کاروباری منصوبے بدترین ناکامی کا شکار ہوئے۔ وہ شہرت اور تعریف کے بے انتہا خواہاں ہیں اسی لئے وہ ٹی وی شوز اور کمرشل اشتہار بھی کرتے تھے۔ ان کے قریبی ساتھی اسی کمزوری کو بھانپ کر ان کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اپنی جھوٹی تعریفوں کے باعث صدر ٹرمپ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں،اسی لئے اول جلول باتیں کرتے ہیں۔
ایران پر صدر ٹرمپ سے پہلے کوئی امریکی صدر حملے پر راضی نہ ہوا تھا کیونکہ اس سے خیالی جنگ پر سالہا سال وار گیمز میں ہر بار شکست کھانے کے پیش نظر کوئی امریکی صدر اس تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔صدر ٹرمپ "شیطن یاہو" اور موساد چیف پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، اسی لیے دونوں نے انہیں یقین دلایا کہ ایران پر حملے کی کاروائی محض تین چار روز کی ہوگی جیسے ونزویلہ کی تھی۔ پس اس کمزور لمحے میں وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کر بیٹھے جو ان کی تاریخی غلطی تھی۔ اسرائیلی ایماء پر ایران پر حملہ کسی طور امریکی مفاد میں نہیں تھا یوں انہوں نے اسرائیل کی خاطر خلیجی ممالک میں دہائیوں کی امریکی موجودگی،اثر و رسوخ، پیٹرو ڈالر جیسا کامیاب ترین منصوبہ سب داؤ پر لگا دیے۔ ایران پہلے ہی تنبیہ کر چکا تھا کہ امریکہ نے اس پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو ٹارگٹ کرے گا۔ "شیطن یاہو" کی طفل تسلیوں پر صدر ٹرمپ نے اعتماد کیا کہ ایرانی رہبر کو نشانہ بنائیں یا ایرانی تنصیبات کا بھرکس نکالیں ردعمل نہیں آئے گا اور یقین دلایا گیا کہ غزہ کی طرح ایران بھی ملیا میٹ کیا جا سکتا ہے! صدر ٹرمپ کی ذمہ داریتھی کہ وہ امریکی عوام کے دیرپا مفاد میں فیصلہ کرتے نہ کہ اسرائیلی مفادات کے موافق! اب ایران سے شکستِ فاش کی ہزیمت پر نومبر کے
انتخابات میں ناکامی صدر ٹرمپ کا مقدر لگتی ہے۔ جنگ میں ناکامی پر وہ درست سمت میں مڑ سکتے تھے خصوصاً جب پاکستان نے فریقین کے درمیان ثالثی کا بیڑا اٹھایا۔ پاکستانی قیادت نے خطے میں امن کے قیام کے لیے بہترین میزبانی کے فرائض انجام دیے لیکن امن مذاکرات پر "شیطن یاہو" کا منحوس سایہ منڈلاتا رہا اور ثالثی کی سب کاوشیں عبث رہیں۔ صدر ٹرمپ کیسے خود کوئی امن معاہدہ کر سکتے ہیں جبکہ بارہا "شیطن یاہو" کے ہاتھوں دھوکہ کھانے کے باوجود وہ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ ادھر امریکی حکومت کو باندی بنانے والے لابی نظام کے ذریعے اسرائیل نے دنیا کی واحد سپر طاقت کو اپنے آگے زیر بلکہ ڈھیر کر لیا ہے۔
ایران پر بلا جواز حملہ، آیت اللہ علی خامنئی کی خاندان اور رفقاء سمیت شہادت، ایران کی صلح جوئی کی خواہش کو کمزوری سے تعبیر کرنے پر، ایرانی عوام امریکہ سے آخری حد تک جنگ آزمائی پر آمادہ ہے۔ ان کی جمہوری حکومت کسی کمزور معاہدے کا حصہ نہیں بنے گی۔ ادھر خلیجی ممالک ایران کی آڑ میں اسرائیلی حملوں اور امریکہ کی ناکامی پر دلبرداشتہ ہیں۔ لہٰذا خطے میں نئے دفاعی نظام کے خدوخال نمایاں ہورہےہیں جس میں پہل سعودی عرب نے کی ہے۔ تاہم دیگر خلیجی اور غیر خلیجی ممالک بھی اب متبادل دفاعی نظام کیلئے پر تول رہے ہیں۔ جہاں تک ایران امریکہ امن معاہدے کا تعلق ہے وہ اب ممکن نہیں البتہ عارضی امن ہو سکتا ہے۔امریکہ کی کمان سے نکلا یہ تیر اب واپس نہیں ہو سکتا نہ ہی کبھی 28فروری سے پہلے جیسے حالات ہونگے۔ ایران، امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ریاستیں جتنی جلد ان حالات کا ادراک کر کے نئے نظام تشکیل دے لیں بہتر ہے وگرنہ امریکہ تو خطے سے جائے گا لیکن جاتے جاتے اسرائیل کا بھی دھڑن تختہ ہو جائے گا اورشاید خلیجی ریاستیں بھی موجودہ اشکال میں قائم نہ رہ سکیں۔ دنیا کو یہ صرف امریکہ، اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نظر آرہی ہے جبکہ حقیقتاً یہ جنگ بتدریج مغرب سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
؎کب تک رہے محکومیٔ انجم میں مری خاک
یا میں نہیں، یا گردشِ افلاک نہیں ہے