• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو ہمیشہ سے سیاسی بے یقینی، معاشی مشکلات، سماجی بے چینی اور انتظامی کمزوریوں کا سامنا رہا ہے۔ لیکن موجودہ حالات اس لئے زیادہ تشویشناک ہیں کہ عوام کی ایک بڑی تعداد مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، سیاسی کشیدگی اور گورننس کے مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متا ثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر محفل، بازار اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاکستان کے سیاسی اور معاشی مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان پہلے سے ہی بدامنی، دہشت گردی کا شکار ہے، خیبرپختونخوا کی صُورت حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں، اب آزادکشمیرمیں بھی سیاسی بحران باقاعدہ ایک سخت گیر تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے ،احتجاج، جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں جسے کسی بھی صورت نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست خدمت سے زیادہ اقتدار کی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں جبکہ عوام کو درپیش مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کو ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں لیکن عام آدمی کو اس بحث سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ عوام کو روزگار، سستی بجلی، بہتر تعلیم، معیاری صحت اور امن چاہئے۔ جب سیاسی قیادت اپنے تمام وسائل مخالفین کو نیچا دکھانے پر صرف کر دے تو قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں یہی صُورت حال آج پاکستان میں دکھائی دیتی ہے۔ معاشی میدان میں حکومتی دعوؤں کے برعکس مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔ نوجوان ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمتیں نہیں پا رہے جبکہ کاروباری طبقہ بلند ٹیکسوں، مہنگی توانائی اور غیر یقینی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ خیبر پختونخوا کی صُورت حال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ ایک طویل عرصے سے ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت کے باوجود صوبہ امن و امان کے حوالے سے شدید چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک جماعت نے مسلسل حکومت کی تو پھر گورننس، روزگار اور امن کے شعبوں میں وہ نتائج کیوں سامنے نہیں آئے جن کے وعدے کئے گئے تھے،بلوچستان کی صُورت حال پاکستان کے لئے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال اس صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ احساس محرومی اور سیاسی بے چینی کے خاتمے کے لئے صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں ترقی کے ثمرات اس وقت تک عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک مقامی آبادی کو فیصلوں اور وسائل میں حقیقی شراکت نہ دی جائے۔ سندھ خصوصاً کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہاں کے شہری مسائل کئی دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ اندرون سندھ میں بھی صحت اور تعلیم کی صُورت حال عوامی توقعات کے مطابق نہیں۔ سندھ حکومت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا دعویٰ تو ضرور کرتی ہے لیکن عام آدمی اب بھی اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی محسوس نہیں کرتا۔آزاد کشمیر میں سیاسی عدم استحکام اور بار بار پیدا ہونے والے تنازعات نے ترقیاتی عمل کو متا ثر کیا ہے۔ سیاحت، پن بجلی اور قدرتی حسن کے باوجود آزاد کشمیر اپنی مکمل معاشی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ وہاں کے عوام روزگار، بہتر انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے منتظر ہیں۔ اگر سیاسی استحکام اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تو آزاد کشمیر نہ صرف اپنے عوام کی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔اگر پنجاب کا جائزہ لیا جائے تو وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے عوامی منصوبوں اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، صفائی کے نظام میں بہتری، کسانوں کے لئے پیکیجز، طلبہ کے لئے سہولتیں اور صحت کے منصوبے حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں مگرناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اصل کامیابی منصوبوں کے اعلانات نہیں بلکہ ان کے دیرپا نتائج ہیں۔ اگر دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو پنجاب میں انتظامی سرگرمی نسبتاً زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کی ایک وجہ صوبے کو دستیاب وسائل اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ بھی ہے۔پاکستان کو درپیش سب سے بڑا سماجی مسئلہ نوجوانوں کی مایوسی ہے۔ ملک کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت نہ ملنا نوجوان نسل کے لئے سب سے بڑی پریشانی بنتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا نے سیاسی تقسیم اور نفرت انگیز بیانیوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ معاشرے میں برداشت، مکالمے اور مثبت سوچ کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ صُورت حال کسی بھی ملک کے مستقبل کے لئے خوش آئند نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل ناقابل حل نہیں ہیں۔ ضرورت صرف سیاسی بصیرت، دیانت دار قیادت اور قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے کی ہے۔ ملک کو ایک ایسے قومی بیانیے کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور صوبے مشترکہ قومی مقاصد پر متفق ہوں۔ معیشت کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائے بغیر عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف بھی ایک جامع اور مستقل قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر حکمران، سیاست دان، بیوروکریسی، کاروباری طبقہ اور عوام سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں تو ملک مشکلات سے نکل سکتا ہے۔

تازہ ترین