کئی دنوں سے راشد امین کے شعری مجموعے دوسری ماچس کی غزلوں کا مطالعہ کر رہی تھی بلکہ دل کی آنکھوں سے پڑھ اور محسوس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔راشد امین اپنے مزاج اور شخصیت میں کسی حد تک مجھے ایک دوسرے منیر نیازی دکھائی دیتے ہیں، ایک ملنگ اور درویش صفت تخلیق کار جو طویل عرصے سے انگلینڈ جیسے رونقی ملک میں مقیم ہے مگر کوئی مصنوعی رنگ اس کی شخصیت پر ٹھہرنے کی جرات نہیں کرسکا، سب ہنگاموں سے پرے اپنی ذات کی جھگی میں اپنی داخلی دنیا میں مگن رہتا ہے، مشاعروں سے بے نیاز، محفلوں سے بے پروا اپنے حال میں مست ، نہ خود کسی سے متاثر ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو متاثر کرنے کا جتن کرتا ہے۔اگرچہ کئی مشاعروں میں راشد امین کا کچھ کلام سننے کا موقع ملتا رہا مگر اب کتاب پڑھتے ہوئے بار بار رکنا پڑا، شعر کو جذب کرنا پڑا کیونکہ روزمرہ کی زبان میں کی گئی شاعری دانش اور وجدان کی جس سطح پر جاگزیں ہے وہاں سرسری مطالعے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، یہ ایک نشست میں پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب نہیں کیونکہ ہر صفحے پر نئی حیرتیں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔
راشد امین ایک صاحبِ اسلوب شاعر ہے اور اس کا اسلوب اپنی جداگانہ خوبصورتی اور شان رکھتا ہے۔ کتاب کے دیباچے میں نامور شعرا اظہار الحق، عباس تابش، منصور آفاق، قمر رضا شہزاد، سید مقبول حسین اور مرحوم ڈاکٹر اجمل نیازی نے شاعر کی تخلیقی صلاحیتوں، لب و لہجے اور خیال کی بھرپور ستائش کی ہے۔
میں ہمیشہ سے اس بات کی قائل رہی ہوں کہ اردو زبان کو مختلف مقامی زبانوں اور لہجوں کے الفاظ اپنے اندر جذب کرتے رہنا چاہیے۔ ہم صرف دلی اور لکھنؤ کے لسانی منظرنامے تک محدود نہ رہیں بلکہ لاہور، میانوالی، جھنگ، ملتان، پشاور، کوئٹہ، کراچی، میرپور اورا سکردو کے لفظوں اور محاوروں کو بھی اردو کا حصہ بنائیں تاکہ ہماری زبان پاکستانی تہذیب، ثقافت اور دانش کی حقیقی نمائندہ بن سکے۔ دنیا کی تمام بڑی زبانیں اسی ارتقائی عمل سے گزری ہیں۔پرانی انگریزی کا مطالعہ کر لیجیے،اسکے بے شمار الفاظ آج کے قاری کیلئے نامانوس اور اجنبی ہیں ،منصور آفاق بھی انگریزی کے الفاظ کو اپنی شاعری میں برت کر ایک نیا تجربہ کر چکے ہیں اور کچھ دیگر شعرا نے بھی نئے ڈھنگ اپنائے ہیں مگر راشد امین کی شاعری میں جو مقامی لب و لہجہ، دیسی محاورہ اور علاقائی لفظیات ملتی ہیں وہ واقعی حیران کن ہے، راشد امین کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اس نے ثقیل اردوئے معلّیٰ کی بجائے روزمرہ کی زندہ زبان میں اپنے خیالات کو ڈھالا ہے، اگرچہ وہ برسوں سے پردیس میں مقیم ہے لیکن اس کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ تلہ گنگ یا فتح جنگ کے کسی گاؤں میں بیٹھے کسی بہت اپنے شخص سے دل کی باتیں کر رہے ہوں۔ یہی احساسِ قربت اس کی شاعری کو منفرد اور یادگار بناتا ہے۔اُ س کی کچھ غزلیں پڑھیے اور لطف لیجئے ..
ماچس جیب میں ڈال کے پھرنے والے لوگ
سگریٹ کی صورت ہیں جلنے والے لوگ
شاید تیرے میرے جیسے ہوتے ہیں
کیکر کی شاخوں پر کِھلنے والے لوگ
اپنی ذات میں جلتے بجھتے رہتے ہیں
چوراہوں پر شام کو ملنے والے لوگ
کبھی کبھی تو ریل کا حصہ بن جاتے ہیں
پٹری پر بے مقصد چلنے والے لوگ
……
تالا لگایا تھا کہاں کنجی لگائی تھی
بستی میں جب فقیر نے جھگی لگائی تھی
تو نے بھی دانہ پانی میرا کر دیا ہے بند،
تیرے لیے تو جان کی بازی لگائی تھی
یوں ہی نہیں سنہرے ہوئے ہیں سفر میں بال سورج نے سر پہ دھوپ کی مہندی لگائی تھی
……
الگ سے جھوک بسانے کی ضد سمائی ہوئی
اجاڑ دی ہے حویلی بسی بسائی ہوئی
مجھے تو ماں کی دعا نے بچا لیا ورنہ
ٹلی نہیں ہے یہاں پر کسی کی آئی ہوئی
وہ ہاتھ کاٹ دیا ایک شک میں دولہے نے دلہن کے جوڑے پہ جس ہاتھ سے کڑھائی ہوئی
میرے لیے تو وہیں رک گئے تھے آٹھ پہر
وفا کے کھیل میں جس وقت بے وفائی ہوئی
……
اسی باعث تو پیچھے رہ گئے ہیں
نہ منزل ہے نہ رستے رہ گئے ہیں
میری بچی کو مکھیا لے گیا ہے
فقط گڈیاں پٹولے رہ گئے ہیں
تھے خالی جیب کیسے پوسٹ کرتے
تیرے خط یوں ہی لکھے رہ گئے ہیں
پلٹ آ ئو تو ہو جائیں مکمل
تمہارے بعد آدھے رہ گئے ہیں
ٹپک آئے نہ نیلی چھت سے پانی
میرے دریا پہ بچے رہ گئے ہیں
……
یہ دیکھ کر مزار پر سہرا چڑھایا ہے
جو چھوڑ کر گیا تھا کبھی لوٹ آیا ہے
مارا ہے گھر کے بیچ مرے بھائی نے مجھے
دشمن نے صرف قتل کا خرچہ اٹھایا ہے
……
اپنے ہی سائے سے دن رات لڑایا ہے مجھے
کوزہ گر کون سی مٹی سے بنایا ہے مجھے
گاؤں سے دور میرے اپنوں نے روٹی کیلئے جتنا بیچا ہے کہاں اتنا کمایا ہے مجھے
نیند کی گولیاں کھا بیٹھا ہوں پھر جاگ کے میں
آنکھ نے رات کو وہ خواب دکھایا ہے مجھے
……
حبس ہے چڑیوں کے پنجرے کھول دے
دونوں جانب سے دریچے کھول دے
ہم فقیروں پر نہ جانے کب یہ شہر
پالتو کتوں کے پٹے کھول دے