امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
امریکی نائب صدر جی ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے انہوں نے اور صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
ان کے مطابق ایران کی طرف سے ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ رات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ معاہدے پر اتفاق کر لیا۔ اس حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد باضابطہ بیان جاری کریں گے۔
بعدازاں امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ سب کو مبارکباد، ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یرانی بندرگاہوں کی امریکا کی بحری ناکہ بندی ہٹادی گئی ہے۔ دنیا بھر کے جہاز اپنی سرگرمیاں شروع کریں، تیل کی ترسیل بحال ہونے کا وقت آگیا ہے۔
بعدازاں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران حتمی جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تو وہ دوبارہ حملہ کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی بحری ناکہ بندی آج رات سے ختم ہوگی، معاہدے کا متن دستخط کے بعد جاری ہوگا۔ ایران معاہدے پر عمل درآمد جمعے سے کرے گا۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ مفاہمی یاداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات 60 دن میں ہوں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے کی پاسداری نہ ہوئی تو ایران ردعمل دے گا۔
اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے اعلان کیا کہ جمعے کو جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا نے امن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے، جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا۔