• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا جنگ بندی معاہدے پر دنیا بھر میں خیر مقدم

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدے کا اعلان سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے ممالک اور عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق پابندیوں میں نرمی سمیت دیگر معاملات پر 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مزید مذاکرات ہوں گے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے معاہدے کو سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے امریکا اور ایران کو مبارکباد دی ہے، اُنہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی ثالثی اور کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

قطر نے دونوں ممالک کے مذاکراتی عزم کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور امن کے فروغ کا باعث بنے گا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے کو خطے میں امن و سکون کے قیام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے تنازع کے پُرامن حل کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے جبکہ یورپی یونین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس دستاویز پر طے شدہ وقت کے مطابق دستخط کیے جائیں گے، تمام متعلقہ فریق مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری کے تعاون سے خطے میں جلد از جلد امن بحال ہو گا۔

بنگلا دیش نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیش رفت دیرپا امن اور کشیدگی میں کمی کا سبب بنے گی۔

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان، غزہ اور شام میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسرائیل اور مغربی دنیا کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید