اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی اور بدامنی کے بعد آزاد کشمیر بھی بے چینی، شٹر ڈائون اور دھرنوں کی زد میں آگیا ہے۔ جو قومی سلامتی اور معاشی بحالی کے تقاضوں کے حوالے سے پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ خیبر پختونخوا کی تشویشناک صورت حال کابل کی طالبان حکومت اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی بدنیتی اور مذموم گٹھ جوڑ کا ہی نتیجہ ہے، یہاں سرکاری تنصیبات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور چوکیوں، تعلیمی اداروں اور ذرائع مواصلات پر مسلسل حملے افغانستان میں اپنی پناہ گاہوں سے تربیت حاصل کرکے آنے والے دہشت گردوں کی کارروائیاں ہیں جنہیں اسلحہ اور سرمایہ بھارت فراہم کررہا ہے۔ بھارت اور کابل کی طالبان حکومت کے درمیان اس سلسلے میں با قاعدہ معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر کابل کی ’’اسلامی حکومت‘‘ نے ہندو توا بھارت کی حمایت کا جو اعلان کیا ہے وہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج کے افسر اور جوان افغان سرزمین سے آنیوالے دہشت گردوں کا صفایا کر رہے ہیں اور اپنی جانیں بھی قربان کررہے ہیں۔ بلوچستان کا معاملہ ذرا سا مختلف ہے۔ وہاں بی ایل اے اور دوسری علیحدگی پسند تنظیمیں بھارت سے براہ راست اسلحہ اور سرمایہ وصول کرتی ہیں۔ ان کے ہیڈ کوارٹر برطانیہ اور اسرائیل میں بھی ہیں اور وہ ان کی وساطت سے اپنی طاقت مجتمع کرنے میں مصروف ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گردوں کے علاوہ جرائم پیشہ گروہ بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے پرامن اور بے گناہ شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار انکا اصلی پیشہ ہے، مگر طریقہ واردات ان کا دہشت گردوں جیسا ہی ہے۔ دہشت گرد قومی املاک اور تنصیبات کو بم دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور انکی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ حال ہی میں اوچ پاور پلانٹ کا ٹاور دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس سے نصف بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا، ٹرینوں پر حملے، بسوں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کرنا اور دوسرے صوبوں، خصوصاً پنجاب کے مسافروں کو الگ کرکے گولی سے اڑا دینا، دہشت گردوں ہی کا کام ہے، پلوں، معدنیات کی کانوں، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنیوالے اہلکاروں کی گاڑیوں کو دھماکوں سے اڑانا بھی انہی کی کارستانی ہے، شاہراہوں پر مال بردار ٹرکوں اور گاڑیوں کو روکنا، ان میں موجود سامان کو لوٹنا اور ڈرائیوروں کو مار دینا یا تاوان کے لیے ساتھ لے جانا ڈاکوئوں اور دوسرے جرائم پیشہ گروہوں کا کام ہے، بلوچستان میں عدم تحفظ، قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و ہراس پھیلانے میں دہشت گردوں کے علاوہ ان مجرمانہ گروہوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔ کان کنی کے بزنس سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور ٹرانسپورٹ تنظیموں نے اجتماعی ہڑتال کی دھمکی دی تھی، جس پر حکومت متحرک ہوئی اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور انجمن تاجران سے رابطے کرکے انہیں تحفظ کا یقین دلایا۔ تاجروں نے صورت حال معمول پر رکھی مگر انہیں جس ذہنی دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے نتیجے میں ان کے کاروبار پر منفی اثر مرتب ہورہا ہے۔ مائننگ سیکٹر اور بارڈر ٹریڈ بھی اس سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شہریوں کی جان اور مال کیلئے جو خطرات پیدا ہورہے ہیں وہ اسکے علاوہ ہیں۔ صوبائی حکومت قانون شکنی کی اس صورت حال پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے تو اپنی بے بسی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنے اختیارات استعمال کرکے حالات پر قابو پانے کی پوری کوشش کررہی ہے مگر اسکے پاس جادو کی کوئی چھڑی نہیں ہے، جسے گھماتے ہی تمام معاملات ٹھیک ہوجائیں۔
دہشت گردی اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں سے پاکستان ریلوے کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ بلوچستان سے پشاور اور کراچی تک چلنے والی ٹرینیں بار بار معطل کرنا پڑ رہی ہیں۔ ٹرینوں پر کئی بڑے حملے ہوچکے ہیں، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر جعفر ایکسپریس بار بار معطل کی گئی یا اسے جیکب آباد تک محدود کرنا پڑا۔ بولان میل کا بھی یہی حال ہے۔ دوسرے صوبوں میں آنے جانے کے لیے ریلوے ہی سفر کا بڑا ذریعہ تھا جو غیر یقینی ہوگیا ہے۔ بلوچستان کے ایک سینئر قانون دان کے بیٹے پر حال ہی میں فائرنگ کی گئی اور اسے شدید زخمی کردیا گیا۔ علاج کے لیے اسے کراچی بھیجنا پڑا۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد میں اس واقعے کی شدید مذمت کی ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کوئٹہ میں مسلح گروہ کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ مطالبہ کیا گیا کہ مسلح گروہوں، پرائیویٹ گارڈز اور سیاہ شیشے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بلوچستان کا مسئلہ تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی قابل حل چلا آرہا ہے۔ قائداعظم اور خان آف قلات نے الحاق کے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے اس پر عمل کیا جاتا تو صورت حال یہاں تک نہ پہنچتی مگر معاملات کو افہام و تفہیم کی بجائے طاقت سے دبانے کی سوچ نے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں احساس محرومی کو بڑھاوا دیا۔ اب بھی وقت ہے کہ زور زبردستی کی بجائے صبر و تحمل سے مسائل کو حل کیا جائے۔ اس سلسلے میں بلوچستان اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے، اس کی پذیرائی ضروری ہے۔ قرارداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بلوچستان کی نمائندگی بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں ملک کے اس سب سے بڑے صوبے کے ارکان کی تعداد صرف20 ہے۔ اسے بڑھاکر28کرنے کو کہا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک 243 رکنی قومی اسمبلی میں بلوچستان کے لیے 28نشستیں بھی کم ہیں۔
بلوچستان نصف پاکستان ہے۔ اس کی نشستیں اس کے حجم کے مطابق نہیں تو اتنی ضرور ہونی چاہئیں کہ اس کی درست نمائندگی کا تاثر مل سکے۔ آبادی کی بنیاد پر تو اسے اپنی اہمیت منوانے کا موقع کبھی نہیں مل سکے گا، نہ ہی وفاقی مقتدرہ میں اسے اپنا حق ملے گا۔ احساس محرومی دور کرنے کا یہ ہی ایک موقع ہے جسے ضائع نہ ہونے دیا جائے۔