تاریخ میں چین وہ واحد قوم ہے جو کئی دفعہ زوال پذیر ہونے کے باوجود نئے سرے سے اپنی ذہانت اور توانائی کو استعمال کرتے ہوئے عروج کی جانب رواں دواں ہوئی۔لیکن آج ماہرین حیران ہیں کہ ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکیوں، اقتصادی پابندیوں اور وینزویلا اور ایران پر حملوں کے باوجود چین نے اب تک کوئی رد عمل نہیں دیا، حالانکہ 2025 میں چین وینزویلا کا تقریبا 76فیصد تیل خریدتا تھالیکن امریکی کارروائی کے بعد تیل کی یہ ترسیلات ایک رات میں ہی بند ہوگئیں۔چین نے ان اقدامات کی شدید مذمت کی لیکن اس پر عملی طور پر کوئی اقدام اٹھائے بغیروہ چپکے سے ایرانی تیل کی طرف بڑھ گیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ اب چین کو امریکہ کے ان اقدامات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی ایسے ذخائر پر قابو پا چکا ہے جو بموں سے زیادہ کارآمدہیں۔آج چین نے بھانپ لیا ہے کہ دنیا پر کنٹرول فوجی قوت سے نہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل پر کنٹرول سے حاصل ہوگا، اسی وجہ سے چین صرف معدنیا ت میں ہی نہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجیز اور اے آئی (A.I)میں بھی تیزی سے برتری حاصل کر رہا ہے۔آسٹریلین اسٹرٹیجک پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق 2003 سے 2007 کے درمیان امریکہ69میں سے 60جدید ترین ٹیکنالوجی میں سب سے آگے تھا۔ ان ٹیکنالوجیز میں دفاع، خلا، توانائی، ماحول، کمپیوٹنگ اور بائیوٹیک جیسے شعبے شامل تھے لیکن 2019 سے 2023 کے درمیانی عرصے میں امریکہ صرف 7شعبوں میں آگے رہاجبکہ چین نے57ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کر لی۔
یاد رہے کہ جب واشنگٹن عراق،لیبیا پر حملہ آور ہو رہا تھا اور ایران پر پابندیاں عائد کر رہا تھاتو چین بڑی خاموشی سے عالمی معدنیات پراپنا قبضہ مضبوط کر رہا تھا۔اس نے جمہوریہ کانگو کے ساتھ 2008 میں جو مائنز کا معاہدہ کیا تھا، اس میں سڑکوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر کے بدلے کوبالٹ اور تانبے کی کانوں کے حقوق حاصل کیے تھے،یوں آج چینی کمپنیاں کانگو کے 80فیصد سے زائد کوبالٹ کے ذخائر پر قابض ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 2024ء میں چین کی سب سے بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنی (BYD)نے افریقا میں لیتھیم کی 6مائنز حاصل کیں جس سے 2032 تک اس کی سپلائی یقینی بن گئی ہے۔اسی طرح چین نے بوٹسوانہ میں تانبے، مالی میں لیتھیم کی کانیں اور تنزانیہ میں نایاب زمینی معدنیات کی کانیں حاصل کیں جبکہ امریکہ اُس وقت طیارہ بردار جہاز بنا رہا تھا۔چین نے صرف اپنی معدنیات کی سپلائی لائنز کوہی مضبوط نہیں کیا بلکہ اسے امریکہ کی کمزور ترین ناکامی میں بدل کر معدنیات پر اپنے اس عالمی تسلط کو امریکہ کے خلاف استعمال کر نابھی شروع کر دیا۔اس سلسلے میں جب امریکہ نے چینی کمپنیوں کیخلاف سیمی کنڈکٹر ز کی بر آمدگی پر مزید سخت قدغنیں لگائیں تو دسمبر 2024 میں چین نے امریکہ کو گیلیم، جیلیم اور اینٹی منی کی بر آمدات پر پابندی لگا دی اور اپریل 2025 میں مزید آگے بڑھتے ہوئے 7مزید زمینی عناصر پر روک لگا دی۔ یادر ہے کہ یہ معدنیات اور مواد F-35طیاروں،پریڈیٹر ڈرونز اور میزائل نظاموں میں استعمال ہوتے ہیں۔پھر اچانک 2025ء میں فورڈ موٹر کمپنی کو اپنی کاروں کی برآمدگی روکنا پڑی کیونکہ اس کے پاس گاڑیوں میں استعمال ہونے والی نایاب زمینی معدنیات کا ذخیرہ ختم ہوگیا تھا۔ یہ معدنیات نہ توکسی جنگ اور نہ ہی کسی بمباری کی وجہ سے ختم ہوئی تھیں بلکہ اس کی اصل وجہ ان معدنیات کی وہ سپلائی لائنز تھیں جو کہ چین سے گزرتی تھیں۔معدنیات کی اتنی بڑی سپلائی لائن ٹوٹنے سے امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے دفاعی ٹھیکہ داروں نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں جس پر ٹرمپ نے فورا ہی ٹیرف کم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور چین نے نومبر2025ء میں معدنیات پر لگائی گئی پابندیوں کو معطل کر دیا۔معدنیات کے اس بحران میں اچانک صدر ٹرمپ نے فروری 2026میں ایک ایسے صدارتی حکمنامے پر دستخط کیے جسے کوریا کی جنگ کے بعد امریکہ کا سب سے زیادہ جارحانہ ذخیرہ سازی کا پروگرام کہا جاتا ہے۔اس پروگرام کا نام ’’پروجیکٹ والٹ‘‘ ہے جو بارہ ارب ڈالرز کی معدنیات کا ذخیرہ کرے گا۔اس پروجیکٹ کو امریکہ نے کسی بڑی حکمت عملی کی بجائے چین کی معدنیات پر پابندیوں کے بعد ہنگامی ردعمل کے طور پر شروع کیا ہے اور یہی وہ وجہ ہے کہ چین امریکہ کی جنگی کارروائیوں کا جواب دینے کی بجائے خاموشی سے دنیا کے قدرتی وسائل پر اپنا تسلط قائم کر رہا ہے۔اسی سلسلے میں امریکی جیولوجیکل سروے نے2025 میں اہم معدنیات کی فہرست جاری کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ 12اہم معدنیا ت کیلئے مکمل طور پر دوسرے ممالک پر انحصار کرتا ہے ۔جبکہ مزید 29معدنیات کا بھی 50فیصد حصہ امریکہ دوسرے ممالک سے حاصل کرتا ہے۔واضح رہے کہ چین ان 60میں سے 30معدنیات کا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ دنیا کے ہر اُس ملک کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں جہاں تیل اور معدنیات کے ذخائرموجود ہیں۔اسی وجہ سے امریکہ نے وینزویلا پر شب خون مارکر اسکے تیل کے ذخائر کوامریکی تحویل میں لے لیا۔گو کہ کینیڈا سے امریکہ کے دہائیوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ تیل اور معدنیات کی وجہ سے اسے بھی امریکی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ یورپ کی شدید مزاحمت کے بعدتیل اور معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ پر ٹرمپ گو کہ قبضہ تو نہ کر سکے لیکن اس کے ذخائر کبھی بھی آسانی سے انکی نظروں سے اوجھل نہیں ہونگے۔گوکہ پاکستان بھیOGDCکے مطابق اربوں ڈالرکی معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے مگریاد رہے آپ دنیا میں معدنیات تو کہیں سے بھی نکال سکتے ہیں لیکن اگر آپ کے پاس ان کو ریفائن اور پراسیسنگ کرنے کی صلاحیتیں نہیں ہوں گی تو معدنیات کے یہ ذخائر بے سود ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان نے پہلے ہی بلوچستان کی معدنیات اور تیل کے ٹھیکے چین، کینیڈا، سعودی عرب اور امریکہ کے حوالے کر دیے ہیں لیکن ہمارے پالیسی سازوں کو عالمی معدنیاتی ماحول سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے زیادہ سے زیادہ وسائل کو ان معدنیات کی کان کنی کے ساتھ ساتھ ریفائنگ اور پراسیسنگ پر خرچ کرنے چاہئیں تاکہ اکیسویں صدی میں پاکستان اور اسکے عوام بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔