• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیصل آباد مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ ایک تو یہاں کے لوگ بہت جولی ہیں دوسرے میرے بہت سے دوستوں کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ ڈاکٹر شہزادبسرا، ڈاکٹر قمر بخاری، سیمیں کرن، احمد سعید، افضل ساحراور بہت سے نام ہیں جنکی بدولت فیصل آباد ادبی دنیامیں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ بڑا دلچسپ شہر ہے۔ لوگ خودپر بھی ہنسنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہاں کی زبان کسی نئے بندے کو تھوڑی دیر کے لیے گڑبڑمیں ڈال سکتی ہے۔ یہاں کی اکثریت آج بھی ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹوکو’گیارہ بائی‘ کہتی ہے۔ موٹرسائیکل کو’گڈی‘کہنے کا عام رواج ہے۔ کیک رس کو’گارڈرکیک‘ کہاجاتاہے۔ یہ مجھے کچھ عجیب سا لگا وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ چھتوں پر جو گارڈر ڈالے جاتے ہیں اِس کیک کی شکل چونکہ اُس سے مشابہہ ہے لہٰذا یہ ’گارڈر کیک‘ ہے۔ فنکاروں کایہ شہرہر گلی ہر محلے میں کوئی نہ کوئی ہیرالیے بیٹھا ہے۔اگرآپ کواِس شہرمیں کوئی یہ کہتاہواملے کہ ’مجھے بلڈ ہوگیا ہے‘ تو سمجھ لیجئے گا کہ بلڈ پریشرکہنا چاہ رہا ہے۔ کئی سادہ لوح لوگ بلڈ پریشر کو ’بیڈ پریشر‘ کہہ جاتے ہیں لہٰذا اس کا سادہ سا حل نکالا گیا ہے کہ ’پریشر‘ بولا ہی نہ جائے۔ آج کا فیصل آباد کسی بھی ماڈرن اور چکا چوند شہر سے کم نہیں۔ یہاں برینڈز ہیں، شاپنگ مالز ہیں، بہترین سڑکیں ہیں، نئے سے نئے ماڈل کی گاڑیاں نظر آتی ہیں اور واقعی مانچسٹر کا گمان ہوتا ہے اسکے باوجود یہاں کی خوشدلی اور حس ظرافت کا جواب نہیں۔ پنجابی زبان کااصل ذائقہ لیناہے توفیصل آباد ضرور آئیے۔ خالص فیصل آبادی جب اپنے لہجے کیساتھ اُردو بولتا ہے تو یقین کیجئے ایک نیا لطف آتا ہے۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ فلاں جگہ کی سڑک کب تک بن جائیگی۔ پورے اطمینان سے اُردو میں بولے’دن رات کام کرن تو ڈئے ہیں‘۔

٭ ٭ ٭

مائیں اپنی اولاد کیلئے ہمیشہ فکر مند رہتی ہیں۔ میں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصہ گزارا ہے اور ماؤں کو اولادکی ریکارڈ توڑ حمایت کرتے دیکھا ہے۔ ایک دفعہ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل میں ایک ماں دکھی دل کیساتھ ریسپشن پرپہنچی اور تقاضا کیاکہ اسے انصاف دلایا جائے۔ اتفاق سے میں قریب سے گزر رہا تھا، میں نے اُنہیں ویٹنگ روم میں بٹھایا اور پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ انہوں نے دُکھی دل سے بتایا کہ اُنکے بیٹے نے اشتعال میں آکر ہمسائیوں کے تین بندے مار دیے ہیں اورا ب پولیس اسے پکڑ کرلے گئی ہے۔ میں نے پوچھا تو آپ کیا چاہتی ہیں؟ بے بسی سے بولیں’میں صرف انصاف چاہتی ہوں، میرے بیٹے سے اگریہ چھوٹی سی غلطی ہوگئی ہے تو اسے معاف کرادیں آئندہ میری گارنٹی ہے کہ وہ ایسانہیں کریگا‘۔ بچے پیدا کرنیوالی ہرعورت ماں نہیں ہوتی۔یہ جن عورتوں کے بارے میں آپ سنتے ہیں کہ اپنے بچوں کو قتل کر دیا یا بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی یہ مائیں تھوڑی ہوتی ہیں یہ تو ’پیداگیر‘ ہوتی ہیں۔ اصل مائیں تومرجاتی ہیں لیکن اولاد پرکوئی آنچ نہیں آنے دیتیں۔ ایسی ماؤں کو یہ بھی لگتاہے کہ ان کی اولاد جب بھی کسی مصیبت میں گرفتار ہوگی اسکی وجہ کوئی انہونی چیز ہوگی۔معصوم مائیں بچوں کوموٹرسائیکل پرگھرسے بھیجتے وقت یہ تصور کرلیتی ہیں کہ سڑکوں پر سارے اندھے گاڑیاں چلا رہے ہونگے ،شاید ہی کوئی ماں سوچتی ہو کہ میرے بچے کی وجہ سے بھی کسی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔بچپن میں مائیں کہتی تھیں کہ گندے بچوں کیساتھ نہیں کھیلنا۔ اگرسارے بچے ماؤں کی اس بات پر عمل کرتے تو شائد کوئی ایک دوسرے سے کبھی نہ کھیلتا۔اپنی اولادکے بارے ہمارایہی یقین ہوتاہے کہ یہ معصوم ہیں، سادہ لوح ہیں اور زمانہ بڑا چالاک ہے۔ماؤں کوسوفیصدیقین ہوتاہے کہ ان کی اولاد اگر کسی وجہ سے مصیبت میں گرفتار ہوئی ہے تو اسکی وجہ بھی کوئی اور ہے ۔ہرکوئی زمانے کو فراڈیااورخراب کہتاہے لیکن اپناآپ نکال کر۔آپ راہ چلتے کسی بندے سے بھی پوچھ لیں تو وہ بتانا شروع کردیگا کہ اس کیساتھ کتناظلم ہوچکا ہے۔سب اپنی داستانیں ایڈیٹ کرکے سناتے ہیں اور وہ حصہ نکال دیتے ہیں جو خود انہیں ظالم ثابت کرسکتاہے۔

٭ ٭ ٭

میرے ایک دوست معروف اینکرہیں۔ان کاکہنا ہے کہ جھوٹ کا مقابلہ اس سے بھی بڑے جھوٹ سے ہی ممکن ہے۔ میں نے ان کی بات سے اختلاف کیا تو کہنے لگے یہاں لوگ دلیل یاحقیقت نہیں سنناچاہتے۔انہیں اپنی مرضی کی، اپنے مطلب کی خبر چاہیے چاہے جھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ ہرشخص کی اپنی رائے ہوتی ہے لیکن اگر وہ رائے کسی دوسرے کی رائے جیسی نکل آئے تو دماغ میں پہلا خیال یہی آتاہے کہ ہو نہ ہو یہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔یونیورسٹیوں میں ماس کمیونکیشن کے شعبوں میں صحافت سکھانے کی بجائے خبر کاسچ جھوٹ پکڑنے کی ٹریننگ دینی چاہیے۔خبربنانا بہت سے لوگوں کو آتا ہوگا ،خبرچیک کرناکتنے لوگوں کو آتا ہے۔ کوئی بتانے والا نہیں کہ خبرکی حقیقت کیسے پتا کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیک نیوز پھیلانے والے آرام سے کوئی درفنطنی چھوڑدیتے ہیں اورلینے والے پورے یقین سے نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ آگے پھیلانے کا فریضہ بھی سرانجام دینے لگتے ہیں۔ پہلے لوگ کسی خبر کیلئے سچ کا پیمانہ اخبار کو قرار دیتے تھے۔آج کل دماغ اتنے ماؤف ہوگئے ہیں کہ ٹک ٹاک سے کسی بھی بندے کا کلپ فارورڈ کرکے بتارہے ہوتے ہیں کہ سچ سامنے آگیا ہے۔ایسے ماحول میں کس کی جرات ہے کہ دلیل سے بات کرے۔جونہی آپ اختلافی بات شروع کریں گے پہلا حملہ یہی ہوگا ’یہ تو لفافہ لیتا ہے‘۔ اس ایک جملے سے اُنکی تشفی ہوجاتی ہے۔ایسی لوگوں کا ذہن صرف اس وقت پوری طرح بیدار ہوتا ہے جب بات ان پر آتی ہے۔دوسروں پرالزام لگانے والے لوگ بے شک عقل سے پیدل ہوں لیکن لفافے لینے کا یہی الزام اِن پر آتا ہے تو پھریہ دلیل کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو کیسے پتا چلا، کیا ثبوت ہے،کس سے لفافہ لیا، کب لیا، ثابت کریں

تازہ ترین